معاشی عدم استحکام

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کو اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا ہے، غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر تقریباً 4 بلین امریکی ڈالر تک کم ہو رہے ہیں جبکہ افراط زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ درآمدات اور برآمدات میں عدم توازن کے مسائل کے باعث بے روزگاری آسمان کو چھونے کے ساتھ فیکٹریاں اور ملیں بند ہو رہی ہیں کیونکہ آجر ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔

اس مسئلے کی جڑ دیکھا جائے تو یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ معیشت کے استحکام کے لیے اقدامات کے بجائے حکومت نے اب تک سب سے زیادہ توجہ نیب ترامیم پر دی ہے، جس کا مقصد بنیادی طور پر خود کو فائدہ پہنچانا ہے، یقینا یہ سخت قابل مذمت بات ہے اور اس خود غرضانہ ترجیح پر بجا طور پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔

پاکستان کو درپیش ایک بڑا مسئلہ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی ہے۔ یہ بڑی تشویش کی بات ہے کیونکہ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی سے ملک کی اشیا درآمد کرنے اور غیر ملکی قرضوں کی ادائی کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ان سخت اور سنگین معاشی حالات میں حکومت کو غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تجارت کے توازن کو بہتر بنانے جیسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، جس سے تقریبا ہر پاکستانی شدید دباؤ کا شکار ہے، کیونکہ زندگی گزارنے کی لاگت تیزی سے ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، اس سلسلے میں جو چند اقدامات ضروری اور ناگزیر ہیں ان میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے مالیاتی پالیسیوں کو نافذ کرنا اور پیداواری صلاحیت بڑھانے اور پیداواری لاگت کو کم کرنے کی کوشش کرنا شامل ہیں۔

کارخانوں اور ملوں کا بند ہونا سخت تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ملازمتیں ختم ہوتی ہیں بلکہ پوری معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ صنعتوں کو مستحکم رکھنا درآمدات و برآمدات سے جڑے مسائل کو حل کرنے کیلئے بے حد ضروری ہے۔

بے روزگاری کا مسئلہ بھی بہت گھمبیر اور فوری توجہ کا متقاضی اہم ایشو ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ان افراد کو متاثر کرتی ہے جو اپنی ملازمتوں سے محروم ہوتے ہیں بلکہ مجموعی طور پر معیشت پر بھی بے روزگاری کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے پالیسیاں بنانا اور اپنی ملازمتوں سے محروم افراد کے لیے مختلف ہنروں کی تربیت فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے لوگوں کی معیشت کو متنوع بنا کر بے روزگاری کو کسی حد تک قابو کیا جا سکتا ہے۔

نیب ترامیم متعارف کرانے کے حکومتی فیصلے کی بڑے پیمانے پر اور بجا طور پر مذمت کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے معاشی بحران سے نمٹنے کے بجائے خود کو بچانے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ حکومت کی معاشی اصلاحات کے نفاذ کے عزم کی کمی کا مزید ثبوت ہے۔

بدقسمتی سے اتحادی حکومت کی جانب سے عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف آئے دن بیانیے سامنے لانے کے سوا حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اقتصادی منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔ حکومت کو معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اقتصادی اصلاحات پر فی الفور توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی تمام تر جھوٹی سچی تسلیوں کے باوجود پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے، زر مبادلہ کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے، کارخانے اور ملیں بند ہو رہی ہیں، اور بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے۔ حکومت نے معاملے کی سنگینی کا ادراک نہ کیا اور اپنی توانائی سیاسی جھگڑوں پر ہی خرچ کرنے پر توجہ دی تو ملک و قوم پر خطرے کی لائن کی طرف بڑھتے ہوئے معاشی بحران کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

Related Posts