اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ ایلات شدید مالی بحران کا شکار ہو چکی ہے جس کے نتیجے میں بندرگاہ کے بینک اکاؤنٹس کو ایلات بلدیہ نے ضبط کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بندرگاہ انتظامیہ کئی ماہ سے بلدیاتی ٹیکسز کی ادائیگی میں ناکام رہی، جس کے باعث بلدیہ نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اگلے ہفتے تک کوئی فوری مالی حل تلاش نہ کیا گیا، تو بندرگاہ کو مستقل طور پر بند کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی معیشت سے متعلق معروف ویب سائٹ گلوبز (Globes) کی رپورٹ کے مطابق ایلات بندرگاہ ہر ماہ تقریباً 600000 تا 700000 نیو اسرائیلی شیکل (NIS) کا پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے سے قاصر ہے۔
اسی وجہ سے بلدیہ نے بندرگاہ کے تمام بینک اکاؤنٹس کو قانونی طریقے سے ضبط کر لیا اور عملے کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ اگر 20 جولائی 2025 تک مکمل رقم ادا نہ کی گئی، تو بندرگاہ کو مستقل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
بندرگاہ 19 ماہ سے کام ٹھپ:
ایلات بندرگاہ گزشتہ 19 ماہ سے شدید مالی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ نومبر 2023 سے یمنی حوثی حملوں کے باعث بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں نے اسرائیلی بندرگاہوں کا رخ چھوڑ دیا تھا۔
اس صورتِ حال کے نتیجے میں ایلات کی تجارتی سرگرمیاں تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں اور بندرگاہ کی آمدن میں 85 فیصد سے زائد کمی آ چکی ہے۔
جون 2025 میں دجالی وزارتِ ٹرانسپورٹ نے بندرگاہ کو وقتی طور پر سہارا دینے کے لیے 15 ملین شیکل کی رقم مختص کی تھی، لیکن بندرگاہ انتظامیہ کے مطابق یہ رقم موجودہ مالی بوجھ اور بلدیاتی واجبات کی ادائیگی کے لیے ناکافی ہے۔
اسرائیلی اخبار Israel National News نے رپورٹ کیا ہے کہ ایلات کی بندرگاہ نہ صرف مقامی معیشت بلکہ اسرائیلی بحریہ کی لاجسٹک سپورٹ کے لیے بھی اہم ہے اور اس کی بندش سے قومی سلامتی کو بھی خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایلات بلدیہ کے ترجمان کے مطابق ہم نے بارہا بندرگاہ انتظامیہ کو مراسلے بھیجے اور مہلت دی، لیکن محصولات کی عدم ادائیگی کے باعث ہمیں یہ اقدام اٹھانا پڑا۔
اگر بروقت ادائیگی نہ ہوئی تو ہمیں قانونی طور پر بندرگاہ کو غیر فعال کرنا ہوگا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ ٹرانسپورٹ، بلدیہ اور بندرگاہ انتظامیہ کے درمیان ایک ہنگامی اجلاس آئندہ چند روز میں متوقع ہے، تاکہ بندش سے بچنے کے لیے کوئی درمیانی حل نکالا جا سکے۔
دفاعی اداروں کی تشویش:
اسرائیل کی نیشنل ایمرجنسی اتھارٹی (NEMA) اور وزارتِ دفاع نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں کے مطابق اگر بندرگاہ مستقل طور پر بند ہو گئی تو جنوبی اسرائیل میں دفاعی رسد اور شہری آبادیوں کو اشیائے خور و نوش کی ترسیل میں شدید رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
یومیہ 3 ملین ڈالر کا نقصان:
ایلات پورٹ پر کوئی سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے آمدن تقریباً زیرو ہے۔ جبکہ اخراجات کی مد میں روزانہ اوسطاً 3 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا تھا۔ ملازمین کی تنخواہوں، بندرگاہ کے انفرا اسٹرکچر اور سیکورٹی اخراجات نے حکومت پر اضافی بوجھ ڈالا۔
واضح رہے کہ نومبر 2023 سے یمن کے حوثی گروہ (انصار اللہ) نے اسرائیل کے خلاف اعلانِ جہاد کرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں اسرائیلی اور اسرائیل سے جڑے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس کے بعد سے ایلات آنے والا کوئی بین الاقوامی جہاز لنگر انداز نہ ہو سکا۔
بیمہ کمپنیوں نے اسرائیلی بحری راستوں کو خطرناک ترین زون قرار دے دیا ہے۔ بڑی جہاز رانی کمپنیاں، جیسے Maersk اور MSC، نے اسرائیل کے ریڈ سی روٹس سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔
بندش کا اعلان:
گلوبز (Globes) کے مطابق بینک اکاؤنٹس کی ضبطی کی وجہ سے بندرگاہ 20 جولائی سے مستقل طور پر بند کرنے کا خطرہ لاحق ہے۔ بلکہ اسرائیلی حکومت بندرگاہ کو اتوار 20 جولائی سے مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے ہم مزید مالی نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔ موجودہ حالات میں ایلات کی بحری سرگرمیاں ناقابل عمل ہو چکی ہیں۔ جبکہ شپنگ اینڈ پورٹس اتھارٹی اور نیشنل ایمرجنسی اتھارٹی کے اندرونی خطوط میں بھی بندش کی تصدیق کی گئی ہے۔
نیا چیلنج:
ایلات بندرگاہ کا بحران اسرائیل کی بندرگاہی معیشت، دفاعی تیاری اور علاقائی سالمیت کے لیے ایک نیا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فوری مالی امداد اور ٹیکس میں سہولت دینے جیسے اقدامات نہ کرے تو جنوبی اسرائیل کی یہ اہم بندرگاہ مستقل طور پر بند ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
دوسری جانب حوثیوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک غزہ میں اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم جاری رہتے ہیں، ہم ریڈ سی میں اسرائیل اور اس سے منسلک جہازوں کو نشانہ بناتے رہیں گے۔ یہ موقف نہ صرف اسرائیل کے لیے مشکل کھڑی کرتا ہے، بلکہ امریکہ و یورپ کی بحری نقل و حمل کے لیے بھی ایک عالمی خطرہ بن چکا ہے۔
بحوالہ:
Globes.co.il – Port of Eilat’s bank accounts seized by municipality (2025-07-16)
Israel National News – Eilat Port may shut down next week (2025-07-16)
YemenOnline – Red Sea attacks paralyze Israel’s southern port
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں