الیکشن اور میاں صاحب کا مزاج

تازہ ترین

تازہ ترین

انتخابات کا نقارہ بجنے کے بعد چونکہ الیکشن کمیشن نے تاحال تفصیلی شیڈول اور تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کو اس بات کا یقین کرنے میں خاصا وقت لگا کہ واقعی ملک میں الیکشن ہوں گے، جس کے اثرات اب تک سیاسی فضا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

اب تک سوائے دو بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے کسی بھی سیاسی جماعت نے باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز نہیں کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے فروری میں انتخابات کروانے کا اعلان کر رکھا ہے، مگر الیکشن کی تاریخ اور تفصیلی شیڈول کا اب تک اعلان نہ کرکے ایک طرح سے ابہام بھی برقرار رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی فضا میں انتخابات کے حوالے سے غیر یقینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے اور اس ضمن میں بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں۔

کچھ حلقے بضد ہیں کہ الیکشن کا انعقاد فروری میں بھی نہیں ہوگا، ان کا استدلال ہے کہ فروری کا غیر معینہ اعلان وقت پڑنے پر الیکشن کا اعلان مزید آگے لے جانے کا حربہ ہے، ان کا یہ بھی خیال ہے کہ مقتدر ادارے حالات کا جائزہ لے کر ماحول اور فضا سے مطمئن ہوئے تب جا کر ہی انتخابات کی تاریخ اور شیڈول کیلئے رضامندی ظاہر کریں گے، ورنہ نہیں۔

الیکشن کی تاریخ سامنے نہ آنے کی بنا پر بڑی سیاسی جماعتیں جو غیر رسمی طور پر انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں، بھی کسی قدر گومگو سے دوچار نظر آرہی ہیں، چنانچہ میاں نواز شریف جس طرح ایک بار پھر “کیوں نکالا؟” کی گردان الاپتے دکھائی دے رہے ہیں، بعض حلقے اسے الیکشن اور پھر ان کے ”انتخاب“ کے حوالے سے مبینہ طور پر ان کی مایوسی سے جوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسا لگ رہا ہے کہ اندر ہی اندر شاید کچھ معاملات حتمی طور پر طے ہونا باقی ہیں، جس کے مجموعی اثرات الیکشن کے فروری میں انعقاد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
الیکشن کے انعقاد کے سلسلے میں جو ابہام پایا جا رہا ہے، اس کے منجملہ اسباب میں سے ایک پی ٹی آئی اور عمران خان فیکٹر بھی ہے۔ اس ضمن میں ایسا لگتا ہے کہ ادارے کو تاحال شرح صدر حاصل نہیں ہوئی ہے، چنانچہ جب تک پی ٹی آئی کا ٹنٹا ختم نہیں کیا جاتا، ابہام کی دھند بھی قائم رہے گی۔

یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ فضا میں انتخابات کی طرف جانا ان تمام کوششوں اور اقدامات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، جو ریاستی ادارے ملک میں سیاسی انتشار اور سنگین تر ہوتے معاشی مسائل کے حل کیلئے بروئے کار لا رہے ہیں اور کسی حد تک ان کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

ملک کے پارلیمانی جمہوری نظام میں انتخابات کا انعقاد ریاست کو نمائندہ بندوبست کے ذریعے چلانے کا بنیادی وسیلہ اور ذریعہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک آئینی ضرورت اور تقاضا بھی ہے، الیکشن کا انعقاد اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایک نمائندہ حکومت جس اعتماد اور اختیار کے ساتھ ملک کا نظام چلا سکتی ہے، ایک غیر نمائندہ اور عبوری حکومت اس سے محروم ہوتی ہے اور اس کی بنا پر گورننس کے نظام میں خلا آجاتا ہے، چنانچہ کوئی بھی عنوان ہو، الیکشن کے انعقاد میں مزید تاخیر درست نہیں، انتخابی شیڈول اور تاریخ جاری ہونے کے بعد امید کی جا سکتی ہے کہ انتشار کا رہا سہا ماحول بھی ختم ہوجائے گا اور ملک سیاسی اور معاشی استحکام کی طرف مزید کچھ قدم بڑھائے گا۔
ملک میں اگرچہ روایتی طور پر بھرپور انتخابی مہم شروع نہیں ہوسکی ہے، تاہم دو بڑی جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف تند وتیز بیان بازی کے ذریعے روایتی فضا بنانے کیلئے کوشاں اور ملک کے مختلف حصوں میں جلسوں سے عوام کا جوش بڑھانے میں مصروف ہیں۔

دونوں جماعتوں نے مختلف سطح پر اپنے امیدواروں کی نامزدگیاں بھی ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے مجموعی طور پر ملک میں الیکشن کا ماحول بنتا نظر آرہا ہے۔ کم از کم میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو کے سیاسی بیانات ضرور یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ملک الیکشن کی طرف جا رہا ہے۔

اگرچہ تند وتیز اور الزامات پر مشتمل بیان بازی پاکستان میں الیکشن مہم کی روایت ہے اور الیکشن کے انعقاد تک کسی حد تک اس کی گنجائش ہے، تاہم آج کے اس دور میں ماضی کی اس فرسودہ روایت کو ترک کرکے الیکشن کمپین کو معروضیت سے ہم آہنگ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ الزامات کی گرد میں اصل مسائل چھپ جاتے ہیں اور سیاسی جماعتیں دوسروں کو نیچا دکھانے اور اپنا پرچم بلند رکھنے کیلئے عوام سے ایسے غیر حقیقی وعدے اور دعوے کرنے لگتی ہیں، جن کو پورا کرنا آسان نہیں ہوتا۔

عوام اس طرز سیاست سے اکتا چکے ہیں اور معلومات کی فراوانی کے اس دور میں ہر شخص بخوبی جانتا ہے کہ کون کتنا پانی میں ہے اور کس نے اپنے دور میں ملک و قوم کیلئے کیا کچھ کیا ہے۔ الزامات کی سیاست کی کوئی حد نہیں ہوتی، بدقسمتی سے یہ انتخابی مہم تک بھی محدود نہیں رہتی، اس کے بعد بھی یہی روش برقرار رہتی ہے، جس کا نتیجہ حکومتوں کی ناکامی اور ملک میں سیاسی عدم استحکام کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی یہی وہ قابل ترک روش ہے جس کی وجہ سے مقتدر ادارے سیاست میں دخیل ہونے پر مجبور ہوتے ہیں اور معاملات گمبھیر صورت اختیار کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے میاں نواز شریف منجھے ہوئے اور تجربہ کار سیاستدان ہونے کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ اپنے روایتی مزاج کے منفی اثرات سے خود کو نہیں نکال پارہے ہیں، مقتدر اداروں کے ماضی کے کردار پر ان کی روایتی انگشت نمائی اس کا غماز ہے۔

میاں صاحب کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ماضی میں انہیں اقتدار سے قبل از وقت نکالا گیا تھا، تو اس میں دوسروں کے ساتھ خود ان کی بھی حماقتوں کا بڑا دخل تھا۔ اب اگر وہ اقتدار کے جام سے ایک اور چسکی لینے کیلئے پر تول رہے ہیں، تو انہیں “کیوں نکالا؟” کی ذہنیت کو پیچھے چھوڑنا ہوگا، اس مزاج کے ساتھ انہیں اس بار اقتدار پلیٹ میں رکھ کر بھی پیش کر دیا گیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی افتاد طبع کے زیر اثر ایک بار پھر بیل کو سرخ رومال دکھا کر کچھ عرصے بعد دوبارہ “کیوں نکالا” کا روڈ شو کرتے نہ پائے جائیں!

Related Posts