الیکٹرانک ووٹنگ سے دھاندلی کا راستہ روکا جاسکتا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

اپوزیشن جماعتوں نے گلگت بلتستان انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات عائد کئے ہیں، اپوزیشن کا کہنا ہے کہ ان کی نشستیں چوری ہوگئی ہیں، ملک میں ہر انتخاب کے بعد انتخابی اصلاحات لانے کے مطالبات زور پکڑتے ہیں۔

حکومت نے بالآخر اگلے انتخابات کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دھاندلی کے الزامات کی بجائے رائے دہندگی کو آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف بنایا جاسکے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو جو ایک قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے ہیں ان کو بھی ووٹنگ کے حقوق دیئے جائیں گے۔ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے لیکن اس پر عمل درآمد میں کئی چیلنجز درپیش ہوں گے۔

2018 کے عام انتخابات ملک کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے۔ پولنگ عملے کو ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی تربیت پرلاگت میں کئی گنا اضافہ ہوگا۔

اس سے دور دراز علاقوں میں لاجسٹک چیلنجز بھی ہوں گے۔ الیکٹرانک ووٹنگ سے ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کی تعداد کم ہوجاتی ہے اور الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ووٹنگ کی مدت میں اضافہ کیا جائے یا پولنگ بوتھس کی تعداد بڑھائی جائے۔

حکومت کا ایک اور فیصلہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے خاتمے کے لئے ایک آئینی ترمیم متعارف کروانا ہے۔

اگر یہ منظور ہوجاتا ہے تو مارچ میں طے شدہ ایوان بالا کے لئے آئندہ انتخابات ووٹ دکھانے کے ذریعے یعنی شو آف ہینڈ ہوں گے۔ پچھلے انتخابات کے دوران ہارس ٹریڈنگ کا زبردست کاروبار ہوا تھا اور پی ٹی آئی نے پارٹی کے متعدد ممبروں کو پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹنگ کرنے پر بے دخل بھی کردیا تھا۔

یہ دیکھنا ہوگا کہ اپوزیشن کا کیا ردعمل ہوگا کیونکہ پی ٹی آئی جلد ہی سینیٹ میں کنٹرول سنبھالنے والی ہے۔

پی ٹی آئی نے 2013 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے لیکن نواز شریف کی حکومت نے چار حلقے کھولنے سے انکار کردیا تھا۔

اس سے پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ کے باہر 126 دن طویل دھرنا دینا پڑا لیکن انتخابی اصلاحات متعارف نہیں کروائی گئیں۔ یہ الزامات 2018 کے انتخابات میں اس وقت پھردہرائے گئے جب تحریک انصاف نے اقتدار حاصل کیا اور تب سے اپوزیشن مہم چلا رہی ہے۔

اگر تحریک انصاف کی حکومت انتخابی اصلاحات لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ حکومت کی بڑی کامیابی تصور ہوگی۔

اس وقت ضروری ہے کہ جمہوری حکومت آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے کوششیں کرے۔ بھارت سمیت متعدد ممالک نے ووٹروں کی دھوکہ دہی اور دھاندلی کے الزامات کو روکنے کے لئے ای ووٹنگ اور دیگر طریقے متعارف کروائے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان انتخابی اصلاحات لائے کیونکہ اس سے جمہوریت کو تقویت ملے گی۔

Related Posts