پاکستان ایک ایسا فطرتی نعمتوں سے مالا مال ملک ہے جس میں دنیا بھر میں سب سے خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہاں ایک قابلِ دید علاقہ ہے جسے وادئ کاغان کہا جاتا ہے۔
وادئ کاغان حیرت انگیز موسم، مناظر، پھلوں، جھیلوں، ندیوں اور پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اِس میں قدرت کی وہ خوبصورت ترین تخلیق بھی موجود ہے جسے جھیل سیف الملوک کہا جاتا ہے۔ جھیل سیف الملوک کا نام ایک مشہور شہزادے کے نام پر رکھا گیا ہے جو ایران کے شہزادہ سیف الملوک کی کہانی سے منسوب ہے جبکہ شہزادہ جھیل پر پریوں کی رانی شہزادی بدیع الجمال سے پیار کر بیٹھا۔
حیرت انگیز حد تک خوبصورت جھیل سیف الملوک تک پہنچنے کیلئے آپ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ ہزارہ موٹر وے سے سفر شروع کرنے کے بعد آپ ایبٹ آباد اور پھر مانسہرہ شہر تک جا پہنچتے ہیں۔ مانسہرہ سے قراقرم ہائی وے پر ناران بابوسر ٹاپ روڈ بالا کوٹ کے راستے وادئ ناران کاغان تک جاتی ہے۔ وادئ ناران کے بعد سیاح ہائیکنگ یا پھر جیپ کے ذریعے جھیل سیف الملوک کی سیر کرسکتے ہیں۔ یہ سطحِ سمندر سے 10 ہزار 580 فٹ کی بلندی پر موجود ہے۔جھیل سیف الملوک کی سطح کا رقبہ تقریباً 3 اعشاریہ 6 کلومیٹر ہے۔ ناران سے سیف الملوک کا فاصلہ 8 کلومیٹر ہے جہاں تک پہنچنے کیلئے تقریباً 1 گھنٹہ لگ جاتا ہے۔
یہ جھیل دریائے کنہر کو پانی فراہم کرتی ہے جہاں سے ملکہ پربت نامی پہاڑ کی چوٹی ایک عمدہ نظارہ پیش کرتی ہے۔ ہر سال اس علاقے میں اچھی خاصی بارش ہوتی ہے لہٰذا ممکن ہے کہ آپ کو اپنا راستہ دھلا ہوا ملے، جب آپ جھیل سیف الملوک کے قریب پہنچیں تو وہاں کھانے پینے کی دکانیں قریب پائیں گے جن میں فوڈ اسٹالز، پکوڑے، چائے اور دیگر عمومی اشیاء مثلاً اسنیکس، مٹھائیاں وغیرہ شامل ہیں۔
دی گارڈین نے جھیل سیف الملوک کو سیاحوں کیلئے پاکستان کی پانچویں بہترین منزل قرار دیا ہے جس کی لمبائی 1 ہزار 430 فٹ اور چوڑائی 440 فٹ ہے۔ آپ اس جھیل کو ایک طرح کا کٹورا بھی قرار دے سکتے ہیں جہاں مختلف ذرائع سے برفانی پانی جمع ہوتا ہے، تاہم ماحولیاتی تنوع بھی جھیل کی خوبصورتی کا حصہ ہے جس میں ایک نادر و نایاب بھورے رنگ کی ٹراؤٹ مچھلی، سبزی مائل نیلے رنگ کی الجی اور مختلف قسم کے پانی کے پودے اور فائٹو پلانکٹن بھی شامل ہیں۔
قریب ہی موجود ناران اور کاغان میں بھی ٹراؤٹ مچھلی کافی مشہور ہے، جھیل کا موسم غیر یقینی ہوتا ہے، کسی کو یہ معلوم نہیں کہ سورج کب بادل کے پیچھے جا چھپے اور بارش ہونے لگ جائے۔ جھیل کو پانی پگھلنے والے گلیشیئرز سے دستیاب ہوتا ہے جبکہ ملکہ پربت نامی پہاڑ جھیل کے مشرق میں موجود ہے جس کی صورت جھیل کے آئینے جیسے صاف و شفاف پانی میں صاف نظر آتی ہے۔
صرف لالہ زار اور جھیل سیف الملوک ہی وہ پرکشش مقامات نہیں جو وادئ ناران و کاغان میں پائے جاتے ہیں بلکہ یہاں صورتِ اشک بھی ایک جھیل موجود ہے جسے آنسو جھیل کہا جاتا ہے۔ سات سر مالا جھیلوں (سات جھیلوں کے سلسلے) کے علاوہ بھی اِس خطے میں دوسری خوبصورت جھیلیں موجود ہیں مثلاً لولوسر، رتی گلی، دودیپسر اور سرل نامی جھیلیں سیاحوں کیلئے پرکشش مقامات قرار پاتی ہیں۔
یہاں بابوسرٹاپ اور نوری ٹاپ دو بلند مقامات ہیں جو ٹریکنگ کیلئے پرکشش ہیں۔ 5 ہزار 290 میٹر کی بلندی پر ملکہ پربت وادئ کاغان کی سب سے اونچی چوٹی ہے اور اسے 5 ہزار میٹر سے زیادہ تکنیکی چوٹیوں میں سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران نانگا پربت کی طرف ملکی و غیر ملکی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کی توجہ مبذول ہوئی اور 2012ء میں ہونے والے سمٹ کے دوران 2 سے زیادہ مہمات نے اس کی اہمیت میں اضافہ کیا۔
جیسا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے، جھیل میں ماحولیاتی تنوع کی کثرت ہے جس میں نیلے رنگ کی الجی پائی جاتی ہے اور کم و بیش 7 کلو گرام تک وزنی بھوری ٹراؤٹ مچھلی جھیل سیف الملوک کا ہی خاصہ ہے۔ اس علاقے میں وسکیولر پودوں کی تقریباً 26 انواع و اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سورج مکھی کی طرح کے پودے اہم ہیں۔ موسمِ گرما کے دوران جھیل سیف الملوک کا موسم کافی خوشگوار ہوتا ہے۔ شہر کے شوروغل سے دور اگر آپ کسی پرفضا مقام کی تلاش میں ہوں تو جھیل سیف الملوک سے بہتر کوئی مقام نہیں۔
جھیل سیف الملوک کی افسانوی کہانی صوفی شاعر میاں محمد بخش نے اپنی شاعری میں قلمبند کی، شہزادہ سیف الملوک عظیم مصری بادشاہ عاصم بن صفوان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ والد نے ایک بار اپنے بیٹے کو اقتدارِ اعلیٰ کی مہر تحفے میں دے دی۔ شہزادہ ان دو تصویروں کو دیکھتا تھا جو اس مہر پر موجود تھیں جن میں لکھا تھا کہ یہ مہر حضرت سلیمان علیہ السلام کا خاندانی اثاثہ ہے۔
بعد ازاں شہزادے نے دونوں تصویروں میں سے ایک کو اپنی تصویر کے طور پر پہچانا جبکہ دوسری ایک خوبصورت پری تھی جس کا حسن ابدی و ملکوتی قرار پایا۔ سیف الملوک پہلی بار اس خاتون سے پیار کر بیٹھا اور جب اس کے والد کو ایک لونڈی اور اپنے شہزادے کے پیار کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے پری کی تلاش میں اپنے محافظوں اور جنگجوؤں کو روانہ کیا تاہم سب اس کی تلاش میں ناکام رہے۔
بعد ازاں ایک رات شہزادہ ایک خواب دیکھتا ہے جس میں وہ پری اسے نظر آتی ہے اور اپنا تعارف پریوں کی ملکہ بدیع الجمال کی حیثیت سے کراتی ہے۔ جاگنے کے بعد شہزادہ اپنی محبت کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور ایک صوفی سے ملاقات کرتا ہے جو اسے بتاتا ہے کہ کیسے اور کہاں وہ اس پری کو پا سکے گا۔ وہ اسے ان رکاوٹوں اور مشکلات کے بارے میں بھی آگاہ کرتا ہے جو پری کی تلاش میں شہزادے کو پیش آسکتی ہیں کیونکہ شہزادہ ایک انسان اور پری بہرحال ایک الگ مخلوق تھی۔
محبت پھر بھی شہزادے کو پری کی تلاش جاری رکھنے پر مجبور کردیتی ہے۔ بہت سارے چیلنجز کا سامنا کرنے اور ہمت و بہادری کی داستانیں رقم کرتے ہوئے شہزادے کا سفر روحانیت کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ ایک جھیل دیکھتا ہے جسے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ جھیل آسمان سے باتیں کرتے ہوئے پہاڑوں سے گھری ہوتی ہے۔ جھیل کا پانی چاند کی چاندنی میں بے حد خوبصورت اور چمکدار دکھائی دیتا ہے۔
اسی جھیل میں حیرت انگیز مخلوق یعنی 7 پریاں نظر آتی ہیں جن کی جلد نرم ونازک، چمکدار آنکھیں اور گھنگریالے بال ہوتے ہیں۔ تمام پریوں کی خوبصورتی ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہے تاہم ساتویں پری کا حسن باقی سب کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ وہ پری چودھویں کے چاند کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہے اور اس کی ہنسی شہزادے کے دل کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ خواب سے جاگتا ہے تب بھی وہ آواز اس کے کانوں میں رس گھولتی رہتی ہے، شہزادے نے اپنی پوری زندگی میں اس طرح کا حسن اور جادو اثر خواب کبھی نہیں دیکھا تھا۔
مسلسل چھ سال تک تھکا دینے والی جدوجہد اور سخت مقابلے کے بعد شہزادے نے اپنے آپ کو آسمانوں میں محسوس کیا۔ بدیع الجمال سے گفتگو کے بعد سیف الملوک شہزادے کو پتہ چلتا ہے کہ وہ گزشتہ 10 سال سے ایک سفید دیو کے قبضے میں ہے اور کوہ قاف کے ایک محل میں پھنسی ہوئی ہے۔ سفید دیو بھی پری سے بے حد محبت کرتا ہے۔ پریوں کی ملکہ کی کہانی سننے کے بعد سیف الملوک اسے لے جاتا ہے اور کوہ قاف سے فرار ہونے کی کوشش کرتا ہے، جب سفید دیو کو پتہ چلتا ہے تو وہ جھیل میں غصے سے بپھر کر ہنگامہ کھڑا کردیتا ہے جس کے نتیجے میں وادئ کاغان میں سیلاب آجاتا ہے۔
دونوں یعنی سیف الملوک اور پری ناران سے چند میل کے فاصلے پر قبرستان میں چھپ جاتے ہیں لیکن سیلاب کے باعث انہیں جھیل کے قریب ایک غار میں پناہ لینی پڑتی ہے۔ کلاسیکی داستان کے مطابق سیف الملوک سے کچھ میل کے فاصلے پر آنسو جھیل اس سفید دیو کے آنسوؤں سے پیدا ہوئی تھی جب اسے یہ پتہ چلا کہ پری جا چکی ہے۔ داستان کے مطابق شہزادہ اور پری آج تک غار میں موجود ہیں اور جھیل سیف الملوک کی سطح پر قمری تاریخ کے مطابق ہر چودھویں شب کو رقص کرتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں