لاہور کی نجی یونیورسٹی میں محمد اویس کی خودکشی کے بعد 21سالہ طالبہ فاطمہ نے بھی تعلیمی عمارت کی دوسری منزل سے جھلانگ لگا دی۔
تفصیلات کے مطابق 21سالہ فاطمہ کو چھلانگ لگانے کے بعد زخمی اور تشویشناک حالت میں یونیورسٹی آف لاہور کے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ فاطمہ مبینہ طور پر ڈی فارم پروگرام میں تعلیم حاصل کررہی تھیں۔

گزشتہ ماہ ڈی فارم کے نوجوان طالب علم محمد اویس نے بھی اسی یونیورسٹی آف لاہور کی بلند و بالا عمارت کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی تھی۔ فاطمہ کی خودکشی کی کوشش نے یونیورسٹی انتظامیہ کیلئے سنگین سوالات کھڑے کردئیے
طالبہ کی خودکشی کی کوشش کی اطلاع ملنے پر نواب ٹاؤن پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر واقعے کی تفتیش شروع کردی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 21 سالہ طالبہ فاطمہ حسین آبائی اعتبار سے شیخوپورہ کے علاقے نارنگ منڈی سے تعلق رکھتی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حاضری کم ہونے پر امتحان میں بیٹھنے سے روکنے پر لاہور یونیورسٹی کے جواں سال طالبِ علم نے جامعہ کی بلند و بالا عمارت سے چھلانگ لگا دی تھی۔
یہ افسوسناک واقعہ یونیورسٹی آف لاہور کے مرکزی کیمپس میں 19 دسمبر کی صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ فارمیسی کے طالب علم محمد اویس کو کلاس حاضری کم ہونے پر امتحان دینے سے روک دیا گیا۔ محمد اویس نے موقع پر موجود یونیورسٹی انتظامیہ سے کہا کہ اسے ایک موقع دیا جائے، تاہم یہ موقع نہ دینے پر طالبِ علم جذباتی ہوگیا۔
محمد اویس کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ محمد اویس نے اساتذہ کو بتایا کہ اگر امتحان میں نہ بیٹھنے دیا گیا تو اس کا سمسٹر ضائع ہو جائے گا، لیکن اساتذہ کے بات نہ سننے پر یہ واقعہ پیش آیا۔ اس صورتحال سے دلبرداشتہ ہو کر محمد اویس نے یونیورسٹی عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








