تیسری عالمی  جنگ۔۔ حادثاتی خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

غزہ پر گزشتہ برس 7اکتوبر سے جاری اسرائیل کی مسلسل جارحیت، بمباری اور خون کی ندیاں بہانے کے نتیجے میں خطے کی صورتحال انتہائی مخدوش ہوچکی ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حماس اور اسرائیل کی یہ جنگ جسے کبھی امتِ مسلمہ کا مسئلہ تو کبھی دو فریقین اور کبھی انسانی حقوق  کا معاملہ قرار دیا جاتا ہے، آگ کی طرح  کسی بھی وقت خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

حال ہی میں2 جنوری کو حماس کی پولیٹیکل بیورو کا ڈپٹی چیف کو 5 دیگر حماس کارکنان سمیت لبنان میں گھس کر شہید کردیا جبکہ 2006 کے بعد یہ صیہونی ریاست کی جانب سے  لبنان پر اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے۔ گزشتہ روز غزہ کے رہائشی علاقوں میں بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے صرف 24 گھنٹوں میں مزید 120 سے زائدپہلے سے دربدر فلسطینیوں کو شہید کردیا۔

اسی دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دورا ن ہی ایک اسرائیلی یرغمالی بھی ہلاک ہوگیا۔ یوں  اب تک شہید فلسطینیوں کی تعداد 4 جنوری تک کے اعدادوشمار کے مطابق 22 ہزار 637 سے زائد ہوگئی جبکہ 57 ہزار 296 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں 9 ہزار 100سے زائد بچے اور 6 ہزار 500سے زائد خواتین بھی شامل ہیں۔

زخمی ہونے والے فلسطینیوں میں 6 ہزار 327 خواتین اور 8 ہزار 663 بچے بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں طبی  سہولیات تقریباً ناپید ہوچکی ہیں جس کے سبب  زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث مزید شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے، غزہ میں عمارات کی تباہی و مسماری  ایک اور بڑا المیہ ہے۔

عمارات کی تباہی کے نتیجے میں غزہ کی کم و بیش 85فیصد آبادی کے سروں پر چھت نہیں جو بے گھر ہوچکے ہیں اور انہیں مصر سمیت دیگر ممالک پناہ دینے کو تیار نہیں اور اسرائیل ان کو غزہ کے علاقے سے بے دخل کرنا چاہتا ہے جبکہ اس کی پشت پناہی کرنے والے امریکا نے حال ہی میں اسرائیل کے ایک بیان کی تردید بھی کی۔

اسرائیل کے 2 وزراء نے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی بات کی تھی جس کی تردید کرتے ہوئے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینی سرزمین فلسطینیوں کی ہی رہے گی۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بھی اس کی یقین دہانی کرائی گئی اور ہم فلسطینیوں کو بے دخل کرنے سے متعلق اسرائیلی وزرا کے غیرذمہ دارانہ بیانات مسترد کرتے ہیں۔

امریکا اور روس سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک اسرائیل کی جنگ کو پھیلا کر تیسری عالمی جنگ چھیڑنے کے حق میں نہیں تاہم اسرائیل کی جارحیت اور مختلف مسلمان ممالک پر اس کے حملے جن میں روس اور چین کا اہم اتحادی ایران بھی شامل ہے، خطے میں کسی بڑی جنگ کو  عنقریب ہی ہوا دے سکتے ہیں اور حادثاتی طور پر  تیسری عالمی جنگ بھی خارج از امکان قرار نہیں دی جاسکتی۔

خود ایران کی جانب  سے بہت جلد اسرائیل  سے اس  کی دہشت گردی کا بدلہ لینے  کا کہا گیا۔ آج سے 4 سال قبل 3جنوری 2020 کے روز امریکا نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کردیا جس کے جواب میں ایران نے امریکا کے عراق میں بیس پر کئی میزائل داغے جس کا امریکی حکومت نے جواب نہیں دیا۔

تاہم اسرائیل کی جانب سے مبینہ   حملے اور پھر ایران کی جانب سے بدلہ لینے کے اعلان کے بعد اگر ایرانی حکومت کی جانب سے اسرائیل پر کوئی حملہ ہوتا ہے تو خطے کی صورتحال مزید مخدوشیت کی جانب جا نے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ شام میں بھی اسرائیل کی جانب سے جارحیت ہوئی ہے، جنرل سید موسوی کو شہید کیا گیا جو جنرل قاسم سلیمانی کے قریبی دوست اور ساتھی بھی  تھے۔

عالمی سطح پر دیکھا جائے تو تیل کی قیمت   گزشتہ 24 گھنٹوں میں  3 فیصد تک بڑھ گئی جس سے عالمی معیشت کی پہلے سے مخدوش حالت مزید دگرگوں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسا ملک جو پہلے ہی ڈیفالٹ کے خدشات سے دوچار رہا اور اب آئی ایم ایف کی لاٹھی ٹیک ٹیک کر اپنی ڈوبتی معیشت کو سہارا دئیے ہوئے ہے، اس کے پاس   خطے کے ان حالات میں مستقبل کا کوئی پلان ہونا بہت ضروری ہے۔

ہمارے ہاں بعض تجزیہ کار اور یوٹیوبرز جب تیسری عالمی جنگ کا ذکر چھیڑتے ہیں توا س ضمن میں جس خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، اسے ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جاتا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں دنیا نے کروڑوں انسانوں کی ہلاکتوں کا مشاہدہ کیا اور جو مالی نقصان ہوا، آج تک  عالمی برادری  اس کے اثرات و مضمرات سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔  

اگر ہم صرف جنگِ عظیم دوم ہی کی بات کریں تو اس جنگ نے عالمی سطح پر یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کے خطوں کو متاثر کیاجن میں درجنوں ممالک شامل ہیں اور آج ہمارا جو تشخص ، معاشرت اور رہن سہن ہے اور دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے افراد کی سوچ میں جتنا زمین آسمان کا فرق پیدا ہوا ہے،اس میں اس کا بڑا کردار ہے۔

بے شک آج انٹرنیٹ کی ایجاد سے دنیا گلوبل ولیج ہونے کی دعویدار بن چکی، تاہم حکمرانوں کی سطح پر تقسیم کرو اور حکومت کرو کے شدت پسندانہ فلسفے پر آج بھی عملدرآمد جاری ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ کشمیر و فلسطین جیسے مقبوضہ خطے آج تک آزادی کی نعمت سے سرفراز نہ ہوسکے ، جس میں ایک بڑا ہاتھ او آئی سی کے رکن ممالک کی جانب سے عدم مزاحمت بھی ہے۔

ظاہر ہے کہ دنیا محض نشستاً، گفتاً  اور برخاستاً کے عوامل کو دیکھتے ہوئے تو ٹس سے مس نہیں ہوسکتی، عالمی برادری کو اپنے مؤقف سے ہم آہنگ کرنے اور دنیا کے منصفوں کا ضمیر جگانے کیلئے ضروری ہے کہ غزہ کی صورتحال پر کوئی سنجیدہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحدہ سیاسی و سفارتی کاوش کی جائے جس کے نتیجے میں غزہ کے حق میں ایک مؤثر آواز اٹھائی جاسکے، اور یقیناً یہی خطے کی صورتحال کوبہتر بنانے کیلئے ایک ضروری اقدام بھی ہے۔  

Related Posts