نازک سیکورٹی صورتحال

تازہ ترین

تازہ ترین

شمالی وزیرستان میں حالیہ المناک واقعہ، جس میں چھ حجاموں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، نے اس قبائلی ضلع میں سیکورٹی کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اس واقعے میں بے گناہ شہری نامعلوم حملہ آوروں کا شکار ہوئے، اس واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں صورتحال کس قدر نازک ہوچکی ہے۔ اسی علاقے میں کچھ دن پہلے ایک کامیاب آپریشن میں ایک دہشت گرد گروپ کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ غریب حجاموں کا قتل فورسز کی اسی کامیاب کارروائی کی انتقامی کارروائی تھی، مگر یہ کیسی انتقامی کارروائی ہے کہ بزدل دہشت گردوں نے ”بدلہ” لیا بھی تو نہتے اور غریب شہریوں سے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے، وہ صرف وحشیانہ کارروائیاں ہی کر سکتے ہیں۔

بعض اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ غریب مقتول حجاموں کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ اگر یہ بات درست ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی جانب سے جس طرح غریب پنجابی مزدوروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اسی طرح کی بزدلانہ کارروائیاں اب قبائلی اضلاع میں بھی شروع کر دی گئی ہیں، جو اس سارے معاملے کا ایک اور المناک پہلو ہے۔

یہ پریشان کن واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ صورتحال پیچیدہ اور دشوار تر ہوتی جا رہی ہے۔ بحالی امن کیلئے سیکورٹی فورسز کی انتھک کوششوں کے باوجود علاقے کی پیچیدہ تر ہوتی سیکورٹی حرکیات طویل مدتی امن کے حصول سے منسلک چیلنجوں کو اجاگر کرتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ پائیدار امن کی طرف بڑھنے کیلئے ہمیں اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کی طرف بھی متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہمیں بحیثیت قوم امن چاہئے، امن کی اس منزل تک پہنچنے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی راستہ ہو، مقصد حاصل کرنے کیلئے راستہ بدلنے اور حکمت عملی تبدیل کرنے میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

یہ واضح ہے کہ 2023 کے دوران عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جن کا مرکز بیشتر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے غیر مستحکم علاقے ہی تھے۔ یہ ایک کثیر الجہتی چیلنج ہے، اس سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کی جانب سے باہمی تعاون ناگزیر ہے اور ساتھ ہی سیاسی زعما کو بھی قیام امن کیلئے سیاسی کوششوں کیلئے بھی میدان میں آنا ہوگا۔ الغرض پوری قوم کو مل کر حصول امن کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی۔

Related Posts