اگر چینی ری پبلکن دور، جو 1911ء سے 1949ء میں جاری رہا، کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دور دو ہزار سالہ شاہی حکومت کے خاتمے اور جدید چین کے آغاز کا عکاس ہے۔ اس عرصے میں انقلاب، سیاسی انتشار، جنگیں، نظریاتی تصادم اور سامراجی دباؤ نمایاں رہے، جس نے چینی قوم کو جدیدیت، قوم پرستی اور داخلی و خارجی چیلنجز کے ساتھ جدوجہد کرنے پر مجبور کیا۔ اس دور کی بنیاد مغربی سامراجی اثرات، چنگ سلطنت کی ساختی کمزوریاں، بدعنوانی اور اصلاحات کی ناکامی نے رکھی، جس کے نتیجے میں تائی پنگ اور بوکسر بغاوتیں اور جاپان و یورپ کے دباؤ نے قوم کو انقلاب کی طرف دھکیل دیا۔
سِنہائی انقلاب (1911ء) کے نتیجے میں چنگ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور سن یات سین کے قیادت میں جمہوریہ چین قائم ہوئی، جس نے “قوم کے تین اصول” یعنی قوم پرستی، جمہوریت اور عوام کی معاشی فلاح کے نظریات پیش کیے۔ تاہم عملی طور پر یہ تصورات کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ مضبوط شہری سماج، آزاد عدلیہ یا وسیع عوامی بنیاد موجود نہ تھی۔ عبوری صدر یوان شیکائی نے شمالی طاقت کو مستحکم کرنے کے لیے آمرانہ اقدامات کیے، جس سے سیاسی استحکام ناکام ہوا، شمال اور جنوب میں اختلافات بڑھے، اور غیر ملکی دباؤ کے تحت جاپان کو اقتصادی مراعات دینا پڑیں۔
یوان کے بعد چین جنگجوؤں کے دور (1916ء–1928ء) میں داخل ہوا، جہاں مرکزی اختیارات علاقائی فوجی دھڑوں میں تقسیم ہو گئے اور بیگانہ وفاقیت کی کمی نے انتشار بڑھایا۔ دیہی علاقوں میں ناانصافی، بھاری ٹیکس اور قحط نے کمیونسٹ تحریک کی بنیاد رکھی، جبکہ ساحلی شہر نسبتا خوشحال رہے۔ عالمی سطح پر پہلی جنگ عظیم اور ورسائی معاہدہ چینی قوم پرستی کو تقویت دینے والے عوامل بنے، اور نیو کلچر تحریک (1915ء–1920ء) و مئی چہارم تحریک (1919ء) نے جدید تعلیم، جمہوریت، سائنس اور زبان کے فروغ کے ذریعے فکری بیداری پیدا کی، جس نے مارکسیت کو کشش دی۔
1921ء میں چینی کمیونسٹ پارٹی (CCP) قائم ہوئی، اور 1923–1924ء میں سن یات سین نے کے ایم ٹی کو دوبارہ منظم کر کے کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ پہلا متحدہ محاذ قائم کیا، جس کا مقصد جنگجوؤں کے خلاف قومی اتحاد تھا۔ تاہم پارٹی-فوجی تضادات اور سوویت اثرات نے اتحاد کو کمزور بنایا۔ سن یات سین کی وفات (1925ء) کے بعد چیانگ کائی شیک نے شمالی مہم (1926–1928ء) کے ذریعے جنگجو گروہوں کو شکست دے کر بیجنگ پر قبضہ کیا، مگر 1927ء میں شنگھائی قتل عام نے متحدہ محاذ کو توڑ دیا اور کمیونسٹ رہنماؤں کو دیہی علاقوں میں جانا پڑا۔
نانجنگ دہائی (1928–1937ء) میں کے ایم ٹی نے سن یات سین کے اصولوں کے تحت حکومت قائم کی، مگر یہ ایک جماعتی اور آمرانہ حکومت تھی، جس نے کمیونسٹ جماعت کے خلاف پانچ محاصرہ مہمات چلائیں، جس کے نتیجے میں لمبی مارچ (1934–1935) شروع ہوئی۔ شہری علاقوں میں صنعتی ترقی اور خواتین کے کردار میں اضافہ ہوا، مگر دیہی علاقوں میں جاگیرداری اور قحط تسلط رکھتے رہے۔ ثقافتی طور پر نیو لائف موومنٹ نے روایتی اقدار اور عسکریت پسندی کے امتزاج سے کمیونزم کے خلاف شعور پیدا کیا۔
1931ء میں جاپان نے منچوریا پر قبضہ کیا اور مانچوکو قائم کیا، جس نے اگلی بڑی جنگ کی پیش گوئی کی۔ 1937ء میں دوسری چین-جاپان جنگ شروع ہوئی، جو آٹھ سال جاری رہی، اس دوران لاکھوں افراد ہلاک اور بے گھر ہوئے، ہینان قحط نے تین ملین افراد کی جان لی، جبکہ خواتین نے ورک فورس میں بڑا حصہ لیا۔ کے ایم ٹی کی کرپشن اور مہنگائی شہری حمایت کم کرنے کا باعث بنی، جبکہ سی سی پی نے دیہی علاقوں میں زمین کی تقسیم اور عوامی حمایت حاصل کی۔
1945–1949ء کے دوران چین میں خانہ جنگی نے شدت اختیار کی، امریکی ثالثی ناکام رہی، اور سی سی پی نے دیہی بنیادوں پر اپنی پوزیشن مستحکم کی۔ 1948–1949ء کی ہوایہائی مہم میں سی سی پی نے کے ایم ٹی کی افواج کو دو ماہ میں تباہ کیا اور 1949ء میں نانجنگ پر قبضہ کیا۔ چیانگ دسمبر 1949ء میں تائیوان فرار ہو گئے، اور عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھی گئی۔
یہ 38 سالہ ری پبلکن دور سیاسی انتشار، نظریاتی تصادم، جنگجوئی، اقتصادی عدم مساوات اور سماجی و ثقافتی تبدیلیوں کا مجموعہ تھا۔ جمہوریت کے تجربات ناکام ہوئے، مگر مئی چہارم اور نیو کلچر تحریکیں جدید شناخت کے قیام میں کامیاب رہیں، اور اقتصادی، عسکری و بین الاقوامی قربانیوں کے بعد چین نے اپنی قومی مزاحمت اور قوم پرستی کو مضبوط کیا۔
اسلام کے مطابق دانائی مومن کی گمشدہ میراث ہے اور وہ جہاں سے بھی ملے اسے ضرور حاصل کرنی چاہئے، اگر پاکستانی قوم بھی چین کے اس ری پبلکن دور سے سبق حاصل کرنا چاہے تو چین کی تاریخ سے پاکستان کے لیے چند واضح اسباق ملتے ہیں جن میں سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ مضبوط اور مستحکم ادارے کسی بھی قومی ترقی کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں اور ادارہ جاتی کمزوری، غیر واضح اختیارات اور سیاسی انتشار سے نہ صرف داخلی بحران اور فسادات جنم لیتے ہیں بلکہ کسی بھی قوم کی اقتصادی اور سماجی ترقی بھی اس سے متأثر ہوتی ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ عالمی اثر و رسوخ اور غیر ملکی انحصار قومی خودمختاری کے لیے بڑا خطرہ ہو ا کرتا ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی تعلقات میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ قوم پرستی اور عوامی شمولیت کے فروغ کے لیے تعلیم، علم، اور ثقافتی بیداری لازمی ہیں تاکہ سیاسی اور معاشی اصلاحات کے لیے عوامی بنیاد مضبوط ہو۔ چوتھا سبق یہ ہے کہ طویل المدتی وژن، مسلسل اصلاحات، اور ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہی ملک کو انتشار اور بحران سے نکال سکتا ہے۔ لہٰذا پاکستان چین کی طرح اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے، معاشی خود کفالت، سماجی یکجہتی اور قیادت کی بصیرت کے ذریعے ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اور موجودہ مشکلات کو عبور کر کے مستحکم اور خوشحال مستقبل حاصل کر سکتا ہے۔ یہی چین کے ری پبلکن دور کا سب سے بڑا سبق ہے اور اگر پاکستانی قوم اس سے فائدہ اٹھا سکے تو اسے آئندہ چند ہی عشروں میں دنیا کی ترقی پذیر اقوام سے ترقی یافتہ اقوام میں شمولیت سے کوئی نہیں روک سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں