سیاست کی دنیا ایک بے رحم اور پیچیدہ دنیا ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس جدید دنیا میں مختلف ممالک ہیں اور ان ممالک میں مختلف جماعتیں۔ ان جماعتوں کے اپنے اپنے نظریات ہیں اور وہ ان نظریات کے لئے رو بہ عمل۔ ان جماعتوں میں سے جو بھی اقتدار میں آجائے وہ اپنے ایجنڈے پر آزادانہ کام کرتی ہے۔ اور اپنی پسند کی ترجیحات پر عمل کرنے لگتی ہے۔ بلاشبہ کچھ ممالک ایسے ہیں، اور وہ باقی دنیا کے بکھیڑوں میں پڑے بغیر اپنے اندرونی معاملات پر ہی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مگر ان کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔ اور ان کے مناسب محل وقوع نے ہی انہیں ہر شر سے تاحال بچا رکھا ہے۔ مگر باقی یعنی اکثریتی ممالک میں صورتحال یہ نہیں۔ اس باقی دنیا کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی بین الاقوامی سیاسی پوزیشن داخلی یعنی قومی سیاست کے تابع نہیں۔ بلکہ ان کی قومی سیاست بین الاقوامی سیاست میں ان کے مؤقف کے تابع ہے۔ چنانچہ ان کے گھر کے اندر کی پالیسیاں ان کی بیرونی پالیسیوں کے تحت ردوبدل سے گزرتی ہیں۔
باور کیا جاتا ہے کہ یہ وزارت خارجہ ہوتی ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ باقی دنیا کے ساتھ معاملات کس طرح کے ہوں گے ؟ کس کس ملک سے ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ؟ اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ دو ملکوں کے وزارت خارجہ کے حکام کسی میز پر بیٹھ کر باہمی اشتراک سے اپنے دوستانہ معاملات کے خطوط طے کرتے ہیں۔ یہ تصور بظاہر کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو، مگر حقیقت میں اس کی حیثیت خوش فہمی پر مبنی کسی فریب سے زیادہ نہیں۔ حقیقت میں یہ دنیا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون پر چل رہی ہے۔ ایک زمانے میں دو لاٹھیاں تھیں جو دو مختلف ممالک کے ہاتھ میں تھیں۔ سو دنیا کی کچھ بھینسیں ایک لٹھ بردار کے پاس تھیں، کچھ دوسرے کے پاس۔ تب کچھ ممالک ایسے بھی تھے جنہوں نے طے کیا تھا کہ وہ ان لٹھ برداروں میں سے کسی کا بھی ساتھ نہیں دیں گے۔ یہ تیسری دنیا کے “غیر وابستہ” ممالک تھے۔ جب تک دنیا میں دو لٹھ بردار یعنی سوویت یونین اور امریکہ موجود تھے تو ان غیر جانبدار ممالک کی سرگرمیاں بھی بین الاقوامی سیاست میں نمایاں نظر آیا کرتی تھیں۔ مگر جب ایک لاٹھی ٹوٹ گئی تو یہ غیر وابستہ ممالک بھی عملاً امریکی لاٹھی کے آگے سرنگوں ہوگئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت سوویت دور میں اس سے وابستہ بھی تھا مگر دوسری جانب غیر وابستہ ممالک میں بھی کھڑا نظر آتا تھا۔ اسی طرح مصر بھی دم غیر وابستگی کا بھرتا تھا مگر سوویت یونین سے اس کے مراسم اس حد تک تھے کہ جنگ کپور میں سوویت فوج اس کی طرف سے اسرائیل سے لڑی بھی۔ جب سوویت یونین ٹوٹ گیا تو مصر کسی پکے پھل کی طرح امریکہ کی جھولی میں جا گرا مگر غیر وابستہ تحریک کا بھی حصہ رہا۔
چھوٹے ممالک کے باہمی تعلقات تو باہمی مشترکہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں مگر فساد کی جڑ یہ ہے کہ طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسی وسائل پر قبضے کی جنگ کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ اور یہ جنگ کچھ یوں چلتی ہے کہ فرض کیجئے تیل کی تلاش والی ایک امریکی کمپنی نے کسی کمزور ملک میں تیل کا بڑا ذخیرہ دریافت کر لیا تو وہ اس کی اطلاع متعلقہ ملک سے قبل اپنے ملک کو دیتی ہے۔ یوں کمپنی کے بجائے امریکی سرکار بذات خود حرکت میں آجاتی ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ڈیل ایسی ہو جس میں سب کچھ وہی سمیٹ لے۔ اسی لئے تو یہ کمپنیاں امریکی انتخابات میں چندے کے نام پر بھاری سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ وسائل پر قبضے کی اس واردات میں اگر متعلقہ ملک کی حکومت اڑ جائے اور قومی غیرت کا مظاہرہ کرے تو نوبت بغاوت اور پھانسیوں تک چلی جاتی ہے۔ لیکن دنیا میں معدنیات تلاش کرنے والی کمپنیاں کچھ دیگر ممالک کی بھی تو ہیں۔ اگر بالفرض ان ممالک کی کمپنیوں کو کوئی بڑا ذخیرہ مل جائے تو ان کمپنیوں میں موجود سی آئی اے کے ایجنٹ اس کی اطلاع اسے کر دیتے ہیں۔ یوں ذخیرہ تلاش کرنے والی کمپنی منہ تکتی رہ جاتی ہے اور سی آئی اے متعلقہ ملک کے اس ذخیرے کو ہڑپ کرنے کے لئے پلاننگ اور عمل شروع کر دیتی ہے۔ ان کی حکمت عملی میں پہلے تو بات چیت والے یعنی دفتر خارجہ کے حکام آگے آتے ہیں۔ اگر وہ بات چیت سے ہدف حاصل کرلیں تو ٹھیک۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوسکے تو پھر دیکھا جاتا ہے کہ کیا کسی سازش کے ذریعے پپٹ حکومت کو برسر اقتدار لا کر یہ وسائل حاصل کئے جا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر ایسا ممکن ہو تو پھر سی آئی اے خود ہی اس مشن کو مکمل کر لیتی ہے۔ لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر حرکت میں لایا جاتا ہے امریکی فوج کو۔ جس کے لئے جواز پیدا کرنا سی آئی اے کا ہی کام ہوتا ہے۔ انسانی حقوق جیسے ڈھکوسلے بین الاقوامی میڈیا پر اسی مقصد کے لئے اچھالے جاتے ہیں۔ سو دنیا پر اصل حکمرانی سیاستدانوں اور ان کے ایجنڈوں کی نہیں بلکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ہوتی ہے۔ جبکہ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع ان کے تابع ہوتی ہیں۔ آپ پچھلے بیس سال کی افغان جنگ ہی دیکھ لیجئے۔ جب افغان طلبہ نے اسامہ کو ملک سے رضاکارانہ نکلنے پر آمادہ کرنے کا سوچا تو امریکہ نے فوراً کہہ دیا کہ وہ افغانستان سے نکل گیا تو تب بھی ہم افغانستان پر حملہ کریں گے اور جب یہ حملہ شروع ہوا تو سب سے پہلے سی آئی اے ہی افغانستان میں اتری۔ امریکی فوج تو اس کے تقریباً 25 دن بعد پہنچی۔
مفادات کے حصول کی اس جنگ میں امریکہ 48 ممالک کی مدد لے کر بھی ناکام رہ گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان مفادات کے حصول سے دستبردار ہوگیا ؟ نہیں۔ وہ اب انہی مفادات کے حصول کے لئے دوستانہ تعلقات کی راہ اختیار کرے گا اور افغان فاتحین سے نہ صرف تعلقات قائم کرے گا بلکہ انہیں حسنِ سیرت کا سرٹیفکیٹ بھی بدست خود عطاء کرے گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر افغانستان کے خلاء کا چین اور روس پورا پورا فائدہ اٹھائیں گے۔ اور ساری کھیر اس خطے کے ممالک کے مابین ہی بٹ جائے گی۔ جن پاکستانی لبرل تجزیہ کاروں کا یہ خیال ہے کہ افغان معیشت کے بچاؤ کے لئے اسٹوڈنٹس کو امریکہ اور یورپ کی ضرورت ہے، انہیں یہ علم ہی نہیں کہ افغان معیشت نام کی چیز بھی افغان حکومت جیسی ایک جعلی چیز ہی تھی۔ معیشت تین چیزوں سے وجود میں آتی ہے۔ صنعت، زراعت اور سروسز سیکٹر۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ افغانستان میں یہ تینوں چیزیں کہاں پائی جاتی تھیں ؟ نہ وہاں صنعت تھی اور نہ ہی وہ کچھ بنا رہے تھے۔ نہ وہاں زراعت تھی اور نہ ہی وہ بڑے پیمانے پر کچھ اگا رہے تھے، سو نہ وہاں کمپنیاں تھیں اور نہ ہی کوئی سروسز سیکٹر، تو پھر افغان معیشت کہاں سے آگئی ؟ وہ تو ایک جعلی غبارہ تھا جو امریکہ نے دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے پھلا رکھا تھا۔ اور اس حد تک جعلی تھا کہ جو دس ارب ڈالرز افغانستان کا فارن ریزرو بتائے جا رہے تھے وہ پڑے بھی امریکی سینٹرل ریزرو میں تھے۔ وہ امریکی پیسہ تھا سو پڑا بھی امریکی بینک میں تھا۔ اس نے صرف ظاہر اسے افغان زرمبادلہ کر رکھا تھا تاکہ دنیا کو افغان معاشی ترقی کا فریب دیا جاسکے۔ اور اب جب بھی وہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بحال کرے گا تو یہ سرمایہ اسے دینا بھی پڑے گا۔ کیونکہ کہہ تو اس نے یہی رکھا ہے کہ یہ افغان دولت ہے۔ وہ یہ اعتراف تو کر ہی نہیں سکتا کہ یہ ہم نے جعلی کھاتہ بنا رکھا تھا۔
ان حالات میں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کا دورہ یوں بیحد اہم ہے کہ مغرب میں اسے بھی کسی سازش کی نظر سے ہی دیکھا جائے گا۔ اور انہیں بہت شدت سے اس بات کا احساس ہوگا کہ ہم سین سے آؤٹ ہیں، سو محروم رہنے کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ وہ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ پاکستان ضرور چین اور روس کے ساتھ مل کر اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہوگا۔ اس دورے نے عالمی میڈیا میں ویسے ہی اتنی بڑی لہریں تو پیدا نہیں کیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ سٹوڈنٹس پاکستان کے پٹھو تھے، ہیں، اور نہ ہی کبھی بنیں گے۔ وہ کسی صورت اپنی خودمختاری دنیا کے کسی بھی ملک کے پاس گروی نہیں رکھیں گے۔ پاکستان اور ان کے مابین مفادات کا باہمی اشتراک ہے بس۔ اور اس اشتراک کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ اتنی گہری کہ انہیں دنیا کی کوئی اور طاقت تو کیا خود سٹوڈنٹس اور پاکستان میں سے بھی کوئی نہیں اکھاڑ سکتا۔ مثلا قبیلوں کا سرحد کی دونوں جانب موجود ہونا۔ جس کی وجہ سے روزانہ ہزارہا انسانوں کا دونوں جانب آنا جانا۔ افغانستان میں پشتون کل آبادی کا 42 فیصد ہیں۔ جبکہ پاکستان افغانستان سے بھی زیادہ پشتون آبادی والا ملک ہے۔ افغانستان میں پشتونوں کی تعداد ڈیڑھ کروڑ جبکہ پاکستان میں چار کروڑ ہے۔ کیا اس سے زیادہ گہرا اور مضبوط رشتہ کوئی اور ہوسکتا ہے ؟ یہ تو امریکہ کی حماقت تھی کہ اسے یہ بات سمجھ نہ آسکی اور وہ اپنا بیڑا غرق کروانے یہاں چلا آیا۔ اگر اس نے یہ سوچ رکھا تھا کہ پاکستان اس کے لئے اپنا وجود داؤ پر لگوا لے گا تو یہ اس کی خوش فہمی کی انتہا تھی اور اس نے اس کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ یہ 90 کی دہائی نہیں ہے۔ امریکہ نے ویتنام سے کوئی سبق نہ سیکھا تھا لیکن پاکستان 90 کی دہائی والی غلطیوں سے سارے سبق سیکھ چکا۔ اس بار اس نے ان تمام ممالک کے ساتھ مشترکہ کنسورشیم بنا لیا ہے جن کے افغانستان میں مفادات ہیں۔ یعنی چین، روس، اور ایران وغیرہ۔ سو اس بار 90 کی دہائی کی طرح ان ممالک کے بیچ کوئی کشمکش نہیں بلکہ مشترکہ مفادات کے مشترکہ رشتے قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان بھی متحد اور پر امن نظر آرہا ہے۔ اور اس کنسورشیم کا ہی دباؤ محسوس کرتے ہوئے امریکہ اور یورپی ممالک جلد سفارتی واپسی کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی واپسی تو پھر بھی نسبتاً آسان ہے مگر برا حال اس بھارت کا ہے جو سات قونصل خانوں کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا تھا۔ اسے افغانستان میں سفارتی واپسی کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑیں گے اور ان پاپڑوں میں سے آدھے اسے اسلام آباد میں ہی بیلنے ہوں گے۔ اس پورے کھیل میں سب سے زیادہ وہی ذلیل ہوا ہے اور سب سے زیادہ وہی منظر سے آؤٹ ہوا ہے۔ ذرا کرکے دکھائے نا اب مودی لائن آف کنٹرول پر گولہ باری، اور ذرا دے کر دیکھے نا اب سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی !