ہیروشیما: جی سیون ممالک کا اجلاس آج سے جاپان کے شہر ہیروشیما میں شروع ہورہا ہے جس میں شرکت کیلئے امریکی صدرجوبائیڈن، برطانوی وزیراعظم سمیت دیگر رُکن ممالک کے سربراہان ہیروشیما پہنچ گئے۔
امریکی صدر نے جی سیون اجلاس سے قبل جاپانی وزیراعظم فومیوکشیدہ سے ہیروشیما میں ملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتے چینی اثر ورسوخ کے خلاف امریکا جاپان دفاعی تعاون بڑھانے پراتفاق کیا۔
صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ہمیں حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ پیچیدہ ماحول کا سامنا ہے، یوکرین پر حملے کے لیے روس کو جوابدہ ٹھہرائیں گے۔
وزیراعظم اور ایرانی صدر نے پشین میں بارڈر مارکیٹ اور بجلی ترسیل لائن کا افتتاح کردیا
جاپانی وزیراعظم نے کہا یوکرین کی حمایت اور روس کے خلاف پابندیاں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، جی 7 ممالک میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین نے روس کے خلاف پہلے ہی سخت ترین پابندیاں عائد کررکھی ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ پابندیوں کو بالخصوص تیل اور توانائی کے شعبے میں مزید سخت کیا جائے گا۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین ان کمپنیوں کو سزا دینے پر غور کررہی ہے جو کسی نہ کسی طرح روس پرعائد پابندیوں کا اثر کم کرنے میں معاونت کررہی ہیں۔
اگرچہ جی سیون ممالک سے روسی تجارت برائے نام رہ گئی ہے مگر چین، بھارت اور ترکی کی روسی کوئلے، تیل اور گیس کی درآمدات کئی گنا بڑھ گئی ہیں جس کی وجہ سے مغرب کی پابندیوں کا روسی معیشت پر کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








