وہ 15 مئی 2024ء کی ایک پرسکون صبح تھی، جب اسپین کے جنوبی ساحل پر واقع قرطاجنہ کی بندرگاہ پر ایک غیر معمولی ہلچل نے بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ “بورکوم” نامی کارگو شپ بندرگاہ کے قریب آ لگی تھی اور اس کے سامنے فلسطینی پرچم تھامے درجنوں کارکن سراپا احتجاج تھے۔ ان کی ایک ہی پکار تھی: “اس جہاز کی تلاشی لی جائے، یہ غزہ میں قتلِ عام کیلئے اسلحہ لے کر جا رہا ہے!”
اسی وقت یورپی پارلیمنٹ کے 9 ارکان نے ہسپانوی وزیر اعظم پدرو سانچیز کو ایک خط لکھا۔ ان کا مؤقف صاف تھا: “اس جہاز کو لنگر انداز ہونے دینا، اسرائیل کو اسلحہ پہنچانا، دراصل نسل کشی میں شرکت ہے۔” کیونکہ اسرائیل پہلے ہی عالمی عدالت انصاف میں فلسطینی نسل کشی کے مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومتِ ہسپانیہ نے رسمی ردعمل دینے سے پہلے ہی شاید بہت کچھ سمجھ لیا تھا اور “بورکوم” نے بھی خطرہ بھانپتے ہوئے اچانک راستہ بدل لیا۔ اب وہ قرطاجنہ کی طرف نہیں بلکہ سلووینیا کی “کوپر” بندرگاہ کی جانب رواں دواں تھی۔ بظاہر ایک معمولی فیصلہ، مگر درحقیقت عالمی رائے عامہ کے دباؤ کے آگے سرنگونی اور جرم کا بالواسطہ اعتراف۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ “بورکوم” کہاں رکی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ آئی کہاں سے؟
تحقیقی ادارے “الجزیرہ انگلش” نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا کہ یہ جہاز بھارت کے جنوبی مشرقی ساحل پر واقع بندرگاہ “چنئی” سے روانہ ہوا تھا اور اس کے اندر کیا تھا؟ بارود، راکٹ انجن، دھماکا خیز مادے، توپوں کے گولے اور موت کی مکمل کِٹس۔ 2 اپریل 2024ء کو چنئی سے روانگی کے بعد “بورکوم” نے افریقہ کے جنوبی کنارے “رأس الرجاء الصالح” کا چکر لگایا، تاکہ بحیرہ احمر سے بچا جا سکے، کیونکہ وہاں یمنی حوثی اسرائیل سے جُڑی کسی بھی نقل و حرکت پر حملہ کرتے ہیں۔ اس احتیاط سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز کے مقاصد کس قدر خفیہ اور ناپاک تھے۔
حیرت انگیز انکشافات یہیں ختم نہیں ہوتے۔ فلسطین پر قابض اسرائیلی ریاست کے خلاف کام کرنے والے نیٹ ورک “شبکہ التضامن” نے جو دستاویزات حاصل کیں، ان کے مطابق اس ایک جہاز میں موت کا یہ سامان لوڈ تھا:20 ٹن سے زائد راکٹ انجنز، 12.5 ٹن دھماکا خیز مواد کے پرزے، 1500 کلوگرام بارود، 700 کلوگرام توپوں کے شیل۔ یہ محض اسلحہ نہیں تھا، یہ وہ ساز و سامان تھا جو فلسطینی گھروں کو ملبے، بچوں کو یتیم، ماؤں کو بیوہ اور سڑکوں کو خون آلود کرنے کے لیے کافی تھا۔
دستاویزات میں ایک خفیہ شق بھی سامنے آئی، جو فریقین کو پابند کرتی تھی کہ وہ اسرائیل کی بدنامِ زمانہ “اسرائیلی ملٹری انڈسٹریز” (IMI) کا نام کسی فورم پر نہ لیں۔ یہی وہ ادارہ ہے جو اسرائیل کو مہلک ترین اسلحہ فراہم کرتا ہے اور جسے 2018 میں بڑی نجی اسرائیلی کمپنی “ایلبِٹ سسٹمز” نے خرید لیا۔ ایلبِٹ سسٹمز، جو اب اسرائیل کی سب سے بڑی نجی دفاعی کمپنی ہے، بھارت کے ساتھ نہ صرف تجارتی بلکہ پیداواری شراکت میں بھی مصروف ہے، بالخصوص حیدرآباد میں، جہاں اس کے ساتھ کئی بھارتی ادارے جدید اسلحہ تیار کرنے میں شامل ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کارخانے، جو بھارتی سرزمین پر قائم ہیں اور جہاں سے راکٹ انجن، گولے اور جدید اور مہلک ترین ہتھیار نکل رہے ہیں، آخر وہ کس کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں؟ ان کی سمت کون طے کرتا ہے؟ اور کیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی دعوے دار ریاست واقعی اتنی بے حس ہو چکی ہے کہ وہ قتل عام کے لیے بارود تیار کرتی ہے اور پھر خاموشی سے اپنا منافع گنتی ہے؟ اس تناظر میں اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے بھی تصدیق کی کہ بھارت جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیل کو توپوں کے گولے، ہلکے ہتھیار اور ڈرونز فراہم کر رہا ہے۔ یہ سب اسی وقت ہو رہا ہے، جب غزہ کی گلیوں میں بچے تڑپ رہے تھے اور دنیا بھر میں لاکھوں انسان اس ظلم پر چیخ رہے تھے۔
یہ ایک سفاک معاہدہ ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت اپنی دفاعی صنعت کو بڑھاوا دیتا ہے، وہیں دوسری طرف ایک مظلوم قوم کے خون کا سوداگر بھی بن جاتا ہے۔ جس بھارت نے کبھی فلسطینی کاز کی حمایت کا دعویٰ کیا، آج وہ اسرائیل کا “اسٹرٹیجک پارٹنر” بن کر نہ صرف اس کا ہم نوالہ ہے، بلکہ اس کی توپوں میں بارود بھرنے والا کاریگر بھی۔ یہ سودا سستا ضرور ہے، شاید چند ارب ڈالر میں طے ہوا ہو، لیکن اس کی قیمت فلسطینی بچوں کی مسخ شدہ لاشیں، ماؤں کی آہیں اور مسجدوں کے ملبے پر گرتے قرآن کے ورق ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اسلحہ کی یہ تجارت صرف ہتھیاروں کی ترسیل نہیں، بلکہ ضمیر کی موت ہے۔ جب بندوقوں میں بھارتی راکٹ فٹ کیے جاتے ہیں اور وہ غزہ کی گلیوں میں گونجتے ہیں، تو صرف اسرائیلی نہیں، بھارتی ہاتھ بھی اس خون میں رنگے ہوتے ہیں۔
یہ بھی کوئی انکشاف نہیں کہ بھارت کی “پرائمر ایکسپلوزیوز” (Primer Explosives Ltd) جیسی کمپنیاں، جو بظاہر دفاعی پیداوار کے شعبے میں مہارت رکھتی ہیں، درحقیقت اسرائیل کے ساتھ فوجی اشتراک کے ایک منظم اور گہرے رشتے کا حصہ بن چکی ہیں۔ اس کمپنی کا صدر دفتر بھارت کی ریاست تلنگانہ میں واقع ہے اور یہ اُن درجنوں فرموں میں شامل ہے جو اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی کے تبادلے، مشترکہ پیداوار اور برآمدات کی خفیہ ڈیلز میں ملوث ہیں۔
یہی کمپنی “باراک-8” میزائل سسٹم کے لیے سالڈ راکٹ فیول اور بعض دھماکہ خیز اجزاء فراہم کرتی ہے، جو اسرائیل کا ایک جدید فضائی دفاعی نظام ہے اور جسے حالیہ جنگ میں بارہا استعمال کیا گیا ہے، خاص طور پر اُن علاقوں میں جہاں حماس اور دیگر فلسطینی گروہوں نے جوابی راکٹ حملے کیے۔ “باراک-8” دراصل اسرائیل ایئرو اسپیس انڈسٹریز (IAI) اور بھارت کے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس کے تحت اسرائیل نے ٹیکنالوجی فراہم کی اور بھارت نے بڑے پیمانے پر پیداوار کی ذمہ داری سنبھالی۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہر وہ میزائل جو غزہ کی فضا میں چھوڑا گیا، وہ ایندھن سے لے کر پرزوں تک کسی نہ کسی مرحلے پر بھارتی سرزمین پر تیار ہوا۔ یہ تعلق صرف باراک-8 تک محدود نہیں۔ بھارتی اسلحہ ساز ادارے اسرائیلی ڈرون ٹیکنالوجی کی تیاری، چھوٹے ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور سینسر سسٹمز کے شعبے میں بھی معاونت کر رہے ہیں۔ “لارسن اینڈ ٹوبرو”، “بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ” (BEL) اور “آدفانی ڈیفنس سسٹمز” جیسی کمپنیاں، مختلف دفاعی معاہدوں کے تحت اسرائیلی اسلحہ ساز اداروں کے لیے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یہ تمام شواہد اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت کا اسرائیل کے ساتھ فوجی اشتراک محض سفارتی یا دفاعی تعاون نہیں بلکہ عملی طور پر ایک میدانی شراکت داری ہے، ایسی شراکت داری جس کے نتیجے میں غزہ کے گلی کوچے بھارتی ساختہ دھماکوں سے گونجتے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ایک طرف بھارت دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، گاندھی کے عدم تشدد کے اصولوں کو اپنے قومی ورثے کا حصہ بتاتا ہے، تو دوسری طرف اُس کی بندرگاہوں سے وہ بارود روانہ ہوتا ہے جو بے گناہ فلسطینی بچوں، عورتوں اور شہریوں پر برسایا جاتا ہے۔ یہ اخلاقی دیوالیہ پن اور سفارتی منافقت کا وہ سیاہ باب ہے جسے نہ عالمی میڈیا کھولنے کو تیار ہے، نہ مغربی طاقتیں جو انسانی حقوق کا راگ الاپتی رہتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ غزہ کے ملبے تلے صرف فلسطینی لاشیں نہیں، بلکہ بھارتی جمہوریت کی اخلاقی قبر بھی دبی ہے۔
بھارت کی “پرائمر ایکسپلوزیوز” نے اسرائیلی دفاعی ادارے “اسرائیل ایئرواسپیس انڈسٹریز” (IAI) سے براہِ راست کئی معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت بھارت سے انتہائی طاقتور دھماکہ خیز مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ ان معاہدوں میں نمایاں ترین مواد آر ڈی ایکس (RDX) اور ایچ ایم ایکس (HMX) ہیں، جنہیں بالترتیب ہیکسوجین اور اوکٹوجین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں مادے دنیا کی سب سے مہلک اور تباہ کن دھماکہ خیز اشیاء میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں خاص طور پر انتہائی شدت کی بمباری، زمینی سرنگوں اور بنکر شکن ہتھیاروں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ہیکسوجین کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ نہایت آسانی سے مختلف کیمیکل اجزاء کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور طویل مدت تک بغیر نقصان کے محفوظ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں جب مخصوص بیپر ڈیوائسز کے ذریعے بارود کا دھماکہ کیا گیا، تو تفتیش میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ ان آلات میں اسرائیل نے پیشگی طور پر صرف بیس گرام ہیکسوجین نصب کر رکھا تھا، جو دھماکے کے لیے کافی تھا۔ یہ دھماکہ خیز مادہ اس قدر مؤثر تھا کہ نشانہ بنانے والے کو مخصوص فاصلے پر تباہ کر سکتا تھا، بغیر کسی بڑی ڈیوائس کے۔ اسی طرح اوکٹوجین (HMX)، جو ہیکسوجین سے بھی زیادہ شدید اور طاقتور ہوتا ہے، جدید میزائل نظاموں کے وار ہیڈز (warheads) میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ وہی مواد ہے جو “باراک 8” جیسے جدید اسرائیلی میزائل سسٹمز میں شامل ہوتا ہے، وہی نظام جو اسرائیل اور بھارت کی مشترکہ پیداوار ہے، اور جو اس وقت غزہ میں فضائی دفاع کے ساتھ ساتھ حملہ آور نظاموں کا بھی حصہ ہے۔ باراک 8 میں استعمال ہونے والا سالڈ فیول اور وارہیڈ کا دھماکہ خیز مرکب بھارتی فیکٹری میں تیار ہوا ہوتا ہے۔ اس میزائل میں ایسی صلاحیت ہے کہ وہ نہ صرف تیز رفتاری سے اپنے ہدف تک پہنچتا ہے، بلکہ دورانِ پرواز پیچیدہ حرکات کے ذریعے راڈار اور مخالف دفاعی نظاموں کو چکمہ بھی دے سکتا ہے۔ اس کارکردگی کے پیچھے جو قوت محرکہ ہے، وہی بھارتی دھماکہ خیز مواد ہے۔
گویا ایک طرف بھارت دنیا کے سامنے خود کو ایک پرامن، معتدل اور ثالثی پر یقین رکھنے والی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر دوسری طرف اس کے تیار کردہ مہلک ترین کیمیکل مواد، اسرائیل کے ہاتھوں استعمال ہوکر فلسطینی پناہ گزین کیمپ، اسکول، اسپتال اور مساجد ملبے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہ محض عسکری تعاون نہیں، بلکہ ایک مکمل جنگی اتحاد ہے، ایک ایسا اتحاد جس میں موت کی فیکٹریاں بھارت میں چلتی ہیں اور ان کا دھواں غزہ کی فضا میں دکھائی دیتا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے: کیا بھارت اب اسرائیلی مظالم میں صرف خاموش تماشائی نہیں، بلکہ شریکِ جرم بھی بن چکا ہے؟ یہ بھی ایک نہایت سنگین پہلو ہے جو اسرائیل اور بھارت کے مابین بڑھتے ہوئے فوجی اشتراک کو نسلی امتیاز پر مبنی نظریاتی اتحاد میں بدل دیتا ہے، جہاں مارو اور چھانو کا اصول صرف جنگی مفادات تک محدود نہیں بلکہ ایک خاص قوم، نسل یا عقیدے کے خلاف منظم استحصال کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
اس تناظر میں گاؤتم اَڈانی کی کمپنی کا کردار بھی محض ایک صنعتی شراکت دار کا نہیں، بلکہ ایک فعال جنگی فریق کا ہے۔ “اڈاني البيٹ” فیکٹری میں تیار ہونے والے “ہرمیس 900” جیسے ڈرون طیارے نہ صرف تکنیکی طور پر اسرائیلی قابض فوج کے جنگی ڈھانچے کو مضبوط کرتے ہیں، بلکہ یہ وہی ہتھیار ہیں جن کے ذریعے فلسطینی بچوں، عورتوں اور پناہ گزینوں کو دن رات نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ “مرکز الميزان لحقوق الإنسان” کی رپورٹ کے مطابق 2014 میں اسرائیلی جارحیت کے دوران ایک تہائی سے زیادہ فلسطینی شہداء ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جن میں “ہرمیس” سیریز کے ڈرون نمایاں تھے۔ اُس وقت بھارتی شراکت کی بنیاد رکھ دی گئی تھی، اس کا مطلب یہ ہوا کہ “اڈانی گروپ” برسوں سے اس قتلِ عام کا بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ ہے۔ مزید برآں، “اڈانی” نے صرف ڈرون طیاروں پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ “PLR” کمپنی کے ذریعے اسرائیلی ہتھیاروں کی بھارتی پیداوار کو بھی ممکن بنایا۔ اب یہ ہتھیار صرف اسرائیلی فوج یا بھارت کی سیکورٹی ایجنسیوں تک محدود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر تیسرے ممالک میں بھی پھیلائے جا سکتے ہیں، بالخصوص اُن ریاستوں میں جہاں مسلمانوں، کشمیریوں یا دیگر اقلیتوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
آزاد عیسیٰ کی کتاب “اوطان معادية” میں یہ نکتہ خاص طور پر نمایاں ہے کہ مودی اور نیتن یاہو کے نظریات ایک جیسے ہیں، دونوں اپنی اپنی ریاستوں کو نسلی اکثریت کی “مقدس قوموں” میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں۔ مودی کے بھارت میں ہندو قوم پرستی کو قانون و اقتدار کی شکل دی جا رہی ہے اور نیتن یاہو کے اسرائیل میں یہودی برتری پر مبنی نسلی ریاستی بیانیے کو آئینی تحفظ دیا جا رہا ہے۔ گویا یہ شراکت محض “جنگی ساز و سامان” تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ نظریہ ہے جو اقلیتوں کے خلاف طاقت، نگرانی اور عسکری تسلط کو سیاسی حکمت عملی بناتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کاروبار، عقیدہ اور قتل ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ نہیں رہا کہ بھارت اسرائیل کو اسلحہ کیوں دے رہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ: کیا بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کر ایک نیا نسل پرست عالمی نظام تشکیل دے رہا ہے، جس میں ہر وہ قوم یا مذہب جو ان کے سیاسی عقائد سے مختلف ہو، “قابلِ صفایا” ہو جائے؟ یہ بھی اس سنگین حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ بھارت کی توانائی اور صنعتیں اب محض تجارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں، بلکہ اسرائیلی جنگی مشین کی باقاعدہ شراکت دار بن چکی ہیں۔ “اڈانی” سے ہٹ کر کم از کم 19 بڑی بھارتی کمپنیاں اسرائیل کے ساتھ دفاعی شعبے میں فعال تعاون کر رہی ہیں، جن میں کچھ براہ راست بھارتی وزارتِ دفاع کی ماتحت ادارے ہیں، جو اس شراکت کو ایک حکومتی سطح کی تائید بخشتی ہیں۔ مثال کے طور پر ” Munitions India Limited یا ” (MIL)، جو بھارت کی وزارتِ دفاع کا ذیلی ادارہ ہے، اس نے 2024 کے دوران دو بار اسرائیل کو کنیٹنر بھیجے۔ اگرچہ یہ کنٹینرز “دوہری استعمال” (dual use) کے زمرے میں رکھے گئے تاکہ ان کو صرف فوجی برآمدات نہ سمجھا جائے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ غزہ میں جاری تباہی اور اسرائیلی بمباری کے دوران بھیجی گئی ایسی کوئی بھی دھماکہ خیز چیز براہ راست قتلِ عام میں استعمال ہوسکتی ہے۔ “پرائمر اكسپلوزيوز” جیسی نجی کمپنیاں بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت اسرائیل کو دھماکہ خیز مواد مہیا کر رہی ہیں اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (DGFT) کے ذریعے برآمدات کے اجازت نامے جاری کرنا، ایک قسم کا قانونی پردہ فراہم کرتا ہے، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بھارتی فوج یا ریاست ان سرگرمیوں کی ذمہ دار نہیں۔ مگر درحقیقت، یہ طریقہ اخلاقی اور قانونی ذمہ داری سے راہِ فرار کی ایک کوشش ہے۔
اسی طرح بھارت کا “ٹاٹا گروپ” اسرائیلی ڈرونز اور ریڈارز کے لیے الیکٹرانک پرزے فراہم کرتا ہے، جو نہ صرف اسرائیلی نگرانی کو مؤثر بناتے ہیں بلکہ فلسطینی مزاحمت کی ہر حرکت کو پیشگی قابو پانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف “ویو میکینکس” جیسی کمپنیاں جہازوں کے فریم، بریکنگ سسٹمز اور دیگر مکینیکل اجزاء فراہم کر کے اسرائیلی اسلحہ سازی کے لیے ناگزیر بن چکی ہیں۔ سب سے اہم ادارہ شاید “بھارت الیکٹرانکس لمیٹڈ” (BEL) ہے، جو بھارتی حکومت کی ملکیت ہے۔ وہ ریڈار، سینسرز اور لیزر سسٹمز تیار کرتا ہے، جو اسرائیلی دفاعی نظاموں کے اہم اجزاء ہیں۔ یہ سب اجزاء اسرائیل کو فلسطینیوں کی حرکات پر نظر رکھنے، اہداف کو لاک کرنے اور انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ گویا بھارت کی حکومت، اس کی ملٹری انڈسٹری اور نجی شعبہ مل کر ایک ایسا معاشی و دفاعی اتحاد تشکیل دے چکے ہیں جو فلسطینی عوام پر ہونے والے اسرائیلی مظالم کو براہ راست طاقت فراہم کر رہا ہے۔ یہ مظالم محض “دفاع” کے نام پر نہیں، بلکہ شہری علاقوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ بھارت یہ سب کچھ جمہوریت، ترقی اور توازن کے نام پر کرتا ہے، تو یہ بات عالمی ضمیر کے لیے باعثِ شرم ہونی چاہیے۔ ایک ایسی جمہوریت، جو دنیا میں سب سے زیادہ مسلمانوں کی تعداد رکھنے کے باوجود، ایک ایسی ریاست کی مدد کر رہی ہے، جو مسلمانوں کے وجود کو مٹانے پر تلی ہوئی ہے۔ “Workers in Palestine” کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ بھارتی کمپنیاں اسرائیل کے ساتھ کام کر کے نہ صرف مالی فائدہ حاصل کر رہی ہیں، بلکہ ایک پوری نسل کی تباہی میں عملی شریک بن چکی ہیں۔ یہ صرف ایک عالمی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی بحران ہے۔ بھارت اور اسرائیل کا اتحاد محض اسلحہ کی تجارت کا رشتہ نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی، اسٹرٹیجک اور تہذیبی اشتراک ہے، جو اب نہ صرف جنگی مشینوں میں ایک دوسرے کے معاون بن چکے ہیں، بلکہ اپنی قومی شناخت کو بھی نظریاتی طور پر ہم آہنگ کر رہے ہیں۔
اسرائیل کے لیے بھارت ایک “مثالی پارٹنر” اس لیے ہے کہ وہ نہ صرف کم لاگت میں تربیت یافتہ افرادی قوت مہیا کرتا ہے، بلکہ اپنی عسکری منڈی کے حجم اور ہمیشہ سے دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والی ریاست ہونے کی حیثیت سے اسرائیلی دفاعی مصنوعات کے لیے ایک محفوظ اور مستقل خریدار بھی ہے۔ بھارت اسرائیلی مصنوعات خریدتا بھی ہے اور خود ان کی تیاری میں شامل بھی ہے، جیسے کہ ڈرون، میزائل، اور لیزر سسٹمز۔ لیکن اس تعاون کی گہرائی اُس وقت مزید عیاں ہوتی ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ “ٹونبو امیجنگ” جیسی بھارتی کمپنیاں اب اسرائیلی میزائلوں کو “بصری آنکھیں” فراہم کرتی ہیں، جن کی مدد سے یہ گائیڈڈ میزائل فلسطینی گھروں، مساجد اور اسکولوں کو نہایت ہی درستگی سے نشانہ بناتے ہیں۔ تو اب اگر کوئی بچہ غزہ میں اسرائیلی بمباری کا شکار ہو، تو ممکن ہے کہ اس کی موت میں ایک بھارتی چپ، ایک بھارتی سینسر، یا ایک بھارتی کیمرا بھی شریک ہو۔ دوسری طرف بھارت کے لیے اسرائیل کی اہمیت صرف اسلحہ کی خرید و فروخت تک محدود نہیں۔ یہ تعلق “میڈ ان انڈیا” پروگرام کے تحت بھارتی خود انحصاری کے خواب کی ایک کلیدی کڑی ہے۔ بھارت اسرائیل سے اعلیٰ سطحی عسکری ٹیکنالوجی، ڈرون ڈیزائن، میزائل سسٹمز اور نگرانی کے آلات حاصل کر کے انہیں اپنی صنعتوں میں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ “باراک میزائل سسٹم” اور “دریشٹی-10 اسٹار لائنر” جیسے منصوبے اسی خواب کی عملی شکلیں ہیں۔
لہٰذا، بھارت کا یہ کہنا کہ وہ ایک “غیر جانبدار فروخت کنندہ” ہے، جسے پروا نہیں کہ اس کی مصنوعات کہاں استعمال ہو رہی ہیں، تو یہ محض اخلاقی عذر تراشی ہے، کیونکہ ہر میزائل جو فلسطینی بچوں کے جسم چیرتا ہے، ہر ڈرون جو رفح اور خانیونس کے آسمانوں میں موت بانٹتا ہے اور ہر لیزر جو کسی خاتون کے گھر کی چھت پھاڑتا ہے، اگر اس میں بھارتی ساختہ پرزہ شامل ہے، تو اس کا اخلاقی جرم بھارتی ریاست اور اس کی کمپنیوں کے دامن پر لکھا جائے گا۔ جب ہندوتوا اور صہیونیت، دو نظریاتی تحریکیں، مل کر خون اور بارود کا بازار گرم کرتی ہیں، تو پھر یہ صرف ایک تجارتی اتحاد نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اور انسانی بحران ہے، جسے تاریخ معاف نہیں کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں