جنیوا کانفرنس، پاکستان کیلئے راحت کی سانس

تازہ ترین

تازہ ترین

جنیوا کانفرنس پاکستان کے لئے توقع سے زیادہ کامیاب رہی کیونکہ بین الاقوامی عطیہ دہندگان نے پیر کے روز پاکستان کو گزشتہ سال تباہ کن سیلاب سے بحالی میں مدد کے لیے 9 بلین ڈالر زسے زیادہ کا وعدہ کیا اور مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

اجلاس کے شریک میزبان، اقوام متحدہ اور پاکستان کی حکومت نے کہا کہ دو طرفہ اور کثیر الجہتی شراکت داروں سے 9 بلین ڈالر سے زیادہ کا وعدہ لیا گیا ہے۔کانفرنس میں امریکا کی جانب سے 100 ملین ڈالر امداد کا اعلان کیا گیا، جاپان بھی مزید 77 ملین ڈالرامداد دے گا، یورپی یونین کی جانب سے بھی 93 ملین ڈالر کا اعلان ہوا ہے، جرمنی پاکستان کو مزید 89 ملین یورو فراہم کرے گا، چین کی طرف سے بھی سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے مزید 10 کروڑ ڈالر گرانٹ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یہ امداد موجودہ آفت سے نکلنے کے لیے پاکستان کو درکار تخمینہ 16.3 بلین ڈالر کے نصف سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، مریم اورنگزیب اور دیگر نے بھی پاکستان کی سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی بحالی کے لیے فراخدلی سے تعاون کرنے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کیا ہے۔

منگل کو اپنے ٹوئٹ میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستانی عوام ہمیشہ ان کے مشکور رہیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا نے کل دیکھا کہ کس طرح قومیں یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اکٹھے ہو کر مصیبت زدہ انسانیت کو المیوں سے نکالنے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

گزشتہ سال ملک میں آنے والے بد ترین سیلاب میں کم از کم 1,700 افراد جاں بحق ہوئے، 80 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوئے اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا۔ بین الاقوامی عطیہ دہندگان کی جانب سے یہ وعدے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان بین الاقوامی بیل آؤٹ کی اگلی قسط پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

آئی ایم ایف کے فنڈز کا اجراء مشکل میں جاتا ہوا نظر آرہا ہے، اس حقیقت کے پیش نظر کہ ہمارے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر صرف 5.576 بلین ڈالر کی آٹھ سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ جب کہ وزیر خارجہ نے دوست ممالک کی مالی مدد سے اس صورتحال کو بہتر کرنے کی امید ظاہر کی ہے، اگر آئی ایم ایف سے اس معاملے میں مثبت جواب نہیں آیا اور فنڈز جاری نہیں کئے گئے تو ملک کو ڈیفالٹ کے سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکومت بین الاقوامی عطیہ دہندگان کے ساتھ جنیوا میں معاملات کو صحیح سمت میں لانے کی امید کررہی ہے۔

Related Posts