گلوبل فلوٹیلا روکنے پر اسرائیل کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج

تازہ ترین

تازہ ترین

Global protests after Israel intercepts Gaza aid flotilla, over 200 activists detained
ONLINE

اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی طرف امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر کارکنوں کو حراست میں لینے پر دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوگیا۔

یہ مشن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محصور فلسطینیوں تک امداد پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھاتاہم اسرائیلی بحریہ نے 13 جہازوں کو گھیر کر ان پر سوار 201 کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق گرفتار شدگان کا تعلق 37 مختلف ممالک سے ہے جن میں 30 کارکنان اسپین، 22 اٹلی، 21 ترکی اور 12 ملائیشیا سے شامل ہیں۔

 

فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے بتایا کہ اگرچہ 13 کشتیاں اسرائیل کے قبضے میں آ چکی ہیں مگر تقریباً 30 جہاز اب بھی قابض افواج کے محاصرے سے نکل کر غزہ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور وہ ساحل سے محض 85 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔

اسرائیلی اقدام کے خلاف میکسیکو سٹی، بوگوٹا، بوینس آئرس اور میڈرڈ سمیت کئی عالمی دارالحکومتوں میں شدید مظاہرے کیے گئے۔

ارجنٹائن کے دارالحکومت میں عوام نے مزدوروں کی سوشلسٹ موومنٹ سے تعلق رکھنے والی نومنتخب قانون ساز سیلسٹے فیئرو کی رہائی کا مطالبہ کیا، جوادارا نامی جہاز پر موجود تھیں۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فیئرو کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے دھاوا بول دیا، رضاکاروں کی گرفتاری شروع

یورپ اور مشرق وسطیٰ میں بھی احتجاج کی لہر دیکھی گئی۔ اٹلی، یونان، جرمنی، برسلز اور تیونس میں عوام سڑکوں پر نکل آئے جبکہ ترکی میں مظاہرین نے امریکی اور اسرائیلی سفارتخانوں کے سامنے اسرائیلی کارروائی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

گلوبل صمود فلوٹیلا نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ اسرائیلی رکاوٹوں سے ان کی جدوجہد ختم نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مشن محاصرہ توڑ کر غزہ تک انسانی ہمدردی کی راہداری قائم کرنا ہے اور ہم اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دنیا بھر کے کارکنان نے اس اقدام کو محض امدادی قافلے پر حملہ ہی نہیں بلکہ فلسطینی عوام سے یکجہتی پر بھی حملہ قرار دیا۔

Related Posts