سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں گورنر راج لگانے کا مطالبہ کیا ہے، سندھ میں اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کوئی کام نہیں کرتی تو سندھ مین گورنر راج لگا دیا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اپنی ناقص کارکردگی پر تنقید کے خوف سے اسمبلی کا اجلاس نہیں طلب کر رہی،اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ سندھ کی صورتحال تیزی سےخراب ہورہی ہے اور آئین کے آرٹیکل 235 کےتحت صدر مملکت فنانشل ایمرجنسی نافذ کرسکتے ہیں۔
پاکستان میں گورنر کسی بھی صوبے کا سربراہ ہوتا ہےاورگورنر کا کام صوبے کی سلامتی سے متعلق امور کی دیکھ بھال اوروفاق و دیگر صوبوں کے درمیان مضبوط تعلق استورکرنا ہوتا ہے۔
گورنر عموماً ایک رسمی عہدہ ہوتا ہے کیونکہ گورنر کے پاس زیادہ اختیار نہیں ہوتے لیکن پاکستان کی تاریخ میں کئی مواقع آچکے ہیں جبکہ منتخب حکومتوں سے اختیارات لیکر صوبائی گورنرز کو دیئے گئے ہوں جبکہ اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں بھی گورنر ہی تمام امور دیکھتے ہیں جبکہ گورنر راج میں منتخب نمائندوں کے اختیارات سلب کرکے گورنرز کے حوالے کردیئے جاتے ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے فردوس شمیم نقوی کے بیان کی مذمت کی ہے ، سندھ کے وزراء کا کہنا ہے کہ صوبے میں ہر شعبے میں ریکارڈ ترقی ہوئی ہے اور ترقی کے مخالف سندھ میں منتخب حکومت کو ہٹا کر گورنر راج لگانے کی باتیں کررہے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤن سینیٹر شبلی فراز، عندلیب عباس اور فواد چوہدری نے سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتوں کو مسترد کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ دشمن عناصر ملک میں انارکی پھیلانے کیلئے انتشار پھیلارہے ہیں۔
پاکستان پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکومت کرتے ہوئے مسلسل دس سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی، سندھ حکومت کے ہر اقدام کو عوام اور سیاسی حلقوں سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا عدالتوں میں سبکی ہوتی ہے۔
سید مراد علی شاہ گزشتہ دور میں بھی سندھ کے وزیراعلیٰ رہے ہیں اور موجودہ دور میں بھی وہی صوبے کے کپتان ہیں اس کے باوجود صوبائی حکومت کی پالیسیوں میں کوئی تسلسل ہے اور ہی اقدامات کی کوئی دلیل ملتی ہے، سندھ میں صحت کی سہولیات انتہائی ابتر ہیں۔
سندھ حکومت محض ادارہ امراض قلب کے نام پر کب تک سیاست کرسکتی ہے، سندھ حکومت نے کورونا کی صورتحال کے حوالے سے سب سے زیادہ پریشانی کا اظہار کیا لیکن عملی اقدامات مکمل طور پر دعوؤں کے برعکس تھے۔
وزیراعظم عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف موجودہ صورتحال میں ملک میں انتشار کی سیاست سے قطعی طور پر گریزاں ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال میں اتحاد و اتفاق کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، ایسے میں چند لوگوں کی رائے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی لیکن سندھ حکومت نے صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے کارکردگی بہتر نابنائی تو گورنر راج سے زیادہ مشکل حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔