میرا بھائی اور اس کی اہلیہ اپنے بیٹے اور بہو کی عیادت کے لئے کینیڈا گئے تھے اور وہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں پھنس گئے تھے۔ اچانک نظربند ہونے کی وجہ سے ابتدائی چڑچڑے پن کے بعد یہ زندگی بھر کیلئے ایک سبق بن گیا کیونکہ وہ کینیڈینز کے نظم و ضبط کا مشاہدہ کرتے رہے کہ گھر میں رہنے والے اور وبائی امراض اور مشکل کے دوران حکومت اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کیسے کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کس طرح کینیڈا کے شہریوں کو ایک سے زیادہ اداروں سے فراخدلی سے مالی مدد ملی۔ کینیڈا کی حکومت نے بیرون ملک مقیم شہریوں کی وطن واپسی تک مدد کے لئے بیرون ملک اپنے سفارتخانوں میں ہر فرد کے لئے 5000 ڈالر بھیجے۔ انہیں مفت میں وطن واپس لایا گیا کیونکہ یہ تکلیف سے نجات تھی نہ کہ خوشی سے واپسی۔
لاک ڈاؤن میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے کا طریقہ اور تدبر متاثر کن اور دل کو چھونے والا تھا۔ حکومت پھنسے ہوئے اور بیمار کینیڈینز کوسہولت فراہم کرنے میں بہت حد تک کام کر رہی ہے۔ یہ ہمدردی ، مدد اور حقیقی خدمت کا ایک شاندار نمونہ تھا۔
کینیڈا کا موازنہ پاکستان سے کریں جس میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں میں ہر ایک کو ذاتی طور پر اور سرکاری طور پر وبائی خطرہ کا سامنا کرنا پڑا۔ ریاست نے آہستہ آہستہ صورتحال کا ادراک کیا اور ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے لوگوں کی مالی امداد کیلئے ایک پروگرام تشکیل دیا،اب ملک میں لاک ڈاؤن ، جزوی طور پر لاک ڈاؤن ، اسمارٹ لاک ڈاؤن اور منتخب شدہ لاک ڈاؤن کی مضحکہ خیز توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔ملک میں عوام نقل وحمل اور معمولات زندگی بحال کرنے کو ابتدائی طور پر کورونا کو شکست دینے سے مشابہت دی جارہی ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
کورونا کی وباء کے دوران حکومت نے بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کا ارادہ کیا تو پی آئی اے نے اپنی خدمات فراہم کردیں لیکن معمول سے 3 گنا زیادہ کرائے وصول کررہی ہے۔موجودہ صورتحال میں سمندر پار پاکستانیوں کے ساتھ یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے۔
یہ فوٹو شوٹ کا وقت نہیں ہے ،یہ ایک بڑھتا ہوا انسانی المیہ ہے اور ایسا آتش فشاں ہے جو آہستہ آہستہ ابل رہا ہے، ایسے میں صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپنی جیبیں بھرنے کے بجائے سب سے پہلے لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنانی ہیں اس کے بعد ان کو خوراک فراہم کرنے پر توجہ دینی ہے،