ہر سال 5 جون کو منایا جانے والا عالمی یوم ماحولیات بین الاقوامی سطح پر ایک اہم دن ہے۔ یہاں تک کہ پورا ہفتہ بامعنی نئے وعدوں سے بھرپور ہوتا ہے اور ہفتے کے تمام دن سبز پیداوار اور پائیدار نتائج کے لیے بہت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
رواں برس عالمی تقریب کا اہتمام سویڈن کی حکومت نے متعلقہ اقوام متحدہ کے اداروں کے اشتراک سے اسٹاک ہوم 50 پلس کے طور پر کیا تھا، جس میں اسٹاک ہوم سے 1972 سے 2022 تک کے سفر کا جائزہ لیا گیا تھا۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں پائیدار زندگی گزارنے پر صرف ایک زمین کے مرکزی خیال پر منعقدہ عالمی اجلاس نے اقوام کے لیے ماحولیات پر کام کی ایک نئی گنجائش تیار کی ہے جس پر تبصرہ اگلی بار کیلئے ادھار رہا۔
آج ہماری توجہ کا مرکز پاکستان کی جانب سے گرین سی پیک الائنس کا عظیم الشان آغاز ہے، جو کئی الزامات کے بعد ہوا جس میں ماحول دوست طریقے اختیار کرنے اور مفادات کے ٹکراؤ سمیت دیگر اہم معاملات پر توجہ مرکوز رہی۔ الائنس کے آغاز سے مجھے یقین ہے کہ بہت سی افواہیں، شکوک و شبہات اور متضاد کہانیاں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔
دو طرفہ کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو دونوں حکومتوں کی جانب سے اہم معاونت حاصل ہوگی جبکہ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی پی آئی)، پاک چین مرکز (پی سی آئی) اور ترقیاتی اور انتظامی شراکت دار اسے پائیداری اور سبز نموکی ترجیحات پر چلائیں گے، دیر آید درست آید۔
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، موسمیاتی تبدیلی زندگی کے لیے بنیادی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ بی آر آئی (بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو) ممالک میں توانائی کی سرمایہ کاری کے لیے بہت اہم ہے کہ اقتصادی ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہوئے موسمیاتی اثرات اور زیادہ وسیع پیمانے پر کسی بھی منفی ماحولیاتی اثرات کو کم کیا جائے۔ تاہم، آج تک بی آر آئی ممالک، خاص طور پر چین سے کوئلے اور فوسل سرمایہ کاری کے سب سے بڑے وصول کنندگان میں سے ہیں۔ بی آر آئی میں چینی سرمایہ کاری حاصل کرنے والے ممالک میں سب سے اہم پاکستان کو سمجھا جاتا ہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے بینر تلے پاکستان کو توانائی کی سرمایہ کاری میں تقریباً 36 ارب ڈالر اور ٹرانسپورٹ کی سرمایہ کاری میں 10.6 ارب ڈالر ملے ہیں۔ توانائی کی سرمایہ کاری میں سے 28 فیصد کوئلے میں، 7 فیصد گیس میں کی جائے گی۔ پاکستان کے 2020 میں کوئلے سے چلنے والے نئے پاور پلانٹس نہ بنانے کے ہدف اور 2021 میں بیرون ملک کوئلے سے چلنے والے نئے پاور پلانٹس نہ بنانے کے چین کے اعلان کے ساتھ، دو چیلنجز سامنے آتے ہیں: اوّل یہ کہ سبز سرمایہ کاری کے ذریعے سبز منتقلی کو کیسے تیز کیا جائے۔ سرمایہ کاری کیلئے سی پیک ایک خاص طور پر اہم کیس اسٹڈی ہے، کیونکہ اسے چین کی بیرون ملک مصروفیات کے لیے ایک رول ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ سی پیک کی کامیاب گریننگ کی حمایت کرنا دیگر بی آر آئی ممالک کو اہم رول ماڈل فراہم کرتا ہے۔
دونوں ممالک کی حکومتوں، سرمایہ کاروں، اور ڈویلپرز کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کے اراکین بھی گرین سی پیک الائنس کے قیام کی حمایت کریں گے جس سے منتقلی کو استحکام اور فروغ حاصل ہوگا۔
الائنس کا مقصد سی پیک (پاک چین اقتصادی راہداری) کو سرسبز اور کاربن سے پاک کرنا ہے جس میں چینی بنیادی ڈھانچے کی سرمایہ کاری کو اخراج پر مبنی سرمایہ کاری سے ہٹ کر اور کوئلے سے قابل تجدید توانائی تک سبز بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی طرف اور مثالی طور پر موجودہ کوئلے کے استعمال کو جلد از جلد ترک کرنے میں تعاون کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں