حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر ترین صحابہ میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں جو سیاہ فام تھے اوراپنے ایمان، شوقِ عقیدت اور غریب کیلئے فکر مند ہونے کے باعث اعلیٰ شہرت رکھتے تھے۔ ان کا پورا نام جندب بن جنادہ ابن قیس بن عمروبن ملیل بن صعیر بن حزام بن غفار بن ملیل بن حمزہ بکر بن عبد مناۃ بن کنانہ بن خزیمہ بن مدر کہ غفاری ہے۔ دورِجاہلیت میں آپ کا قبیلہ رہزنی، شراب نوشی اور بتوں کی پوجا کے باعث بدنام تھا تاہم آپ رضی اللہ عنہ نے قبائلی روایات کے برعکس قبولِ اسلام سے قبل ہی شرم و حیا کو اپنا لبادہ بنایا اور زندگی بھر سخاوت و شجاعت کا اعلیٰ نمونہ بن کر دکھایا۔
ایک روز قبیلے کے کسی شخص نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو مکہ میں ایک ایسے انسان کی آمد کی خبر دی جو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ محسنِ انسانیت ﷺ تھے جن کی بات کی گئی۔ اس سے حضرت ابوذر غفاری کے ذہن میں تجسس نے جنم لیا۔ وہ آپ ﷺ کے متعلق مزید جاننا چاہتے تھے۔ اس لیے آپ رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر مکہ کا سفر شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ رات مسجدِ حرام پہنچے تو رات ہوچکی تھی۔ آپ ایک جگہ لیٹ گئے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہ نے جب ایک اجنبی کے طور پر آپ کو دیکھا تو اپنے گھر میں قیام کی دعوت دی۔ صبح کے وقت جناب ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہ کا گھر چھوڑ دیا اور مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے مسجدِ حرام کی طرف لوٹ آئے۔ ایک بار پھر رات ہو گئی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک بار پھر آپ سے ملاقات کی اور فرمایا کہ اب تو آپ میرا گھر جانتے ہیں۔ لہٰذا حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دوسری شب بھی حضرت علی کرم اللہ وجہ کے ہاں گزاری۔
تاہم تیسری شب کو حضرت علی کرم اللہ وجہ نے آپ کی آمد کے مقصد کے متعلق استفسار کیاتو حضرت ابوذر غفاری نے اس شرط پر کہ ان کا راز راز رکھا جائے، فرمایا کہ میں ایک دور دراز کے مقام سے مکہ اس لیے آیا ہوں تاکہ نبی ﷺ سے ملاقات کر سکوں اور یہ سن سکوں کہ وہ کیا فرماتے ہیں۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا کہ میں صبح کے وقت آپ کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے کرا دوں گا۔
شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو اگلی صبح رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کیلئے لے گئے اور یہ اسلامی تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کسی اجنبی شخص نے ملاقات کے وقت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے سلام کیا ہو۔ حضرت ابوذر غفاری نے السلام علیکم یا رسول اللہ ﷺ کہا تو جواباً نبئ آخر الزمان نے وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ فرمایا۔ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کو پہلی ملاقات میں سلام کہنے والے پہلے صحابی بن گئے۔ اس طرح سلام کی روایت سنتِ رسول ﷺ بن گئی اور سب مسلمان اسے اپنانے لگے۔
پہلی ہی ملاقات میں حضرت ابوذر غفاری رجی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے متعلق بات چیت کی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ابوذر غفاری ﷺ کو اسلام کے متعلق معلومات فراہم کیں اور یوں آپ رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ اپنے قبولِ اسلام کے متعلق کسی کو نہ بتائیں کیونکہ اس سے زندگی کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ تاہم حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ ایک بہادر قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، آپ نے کعبۃ اللہ کے نزدیک کھڑے ہو کر اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کردیا جس پر قریش نے آپ کی جان لینے کیلئے بد ترین مارپیٹ اور ظلم و تشدد شروع کردیا۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کی جان بچائی۔
پھر جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور آنحضرت ﷺ نے آپ کی حالت دیکھی تو فرمایا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ اپنے قبولِ اسلام کا اعلان مت کرنا؟ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ، یہ اعلان میری روح کی ضرورت تھا جو مجھے محسوس ہوئی، میں نے وہ ضرورت پوری کر ڈالی۔ رسول اللہ ﷺ نے ہدایت فرمائی کہ انہیں بتاؤ کہ تم نے کیا دیکھا اور سنا ہے۔ انہیں اللہ کی طرف بلاؤ۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے ان کی بھلائی فرمائے اور تمہیں ان کے ذریعے انعام عطا کرے، اور جب تم یہ سنو کہ میں آگیا ہوں تو مجھ سے آ کر ملاقات کرو۔
اس کے بعد حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں لوٹ گئے اور انہیں ہر بات کہہ سنائی۔ ان کے بھائی نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ دونوں بھائیوں نے اپنی والدہ کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے بھی قبول کی۔ پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ اور اہلِ خانہ کی کاوشوں کے نتیجے میں غفار قبیلے کے متعدد اشخاص نے اسلام قبول کر لیا اور نماز کی باجماعت ادائیگی شروع ہوگئی۔ تصور کیجئے کہ بتوں کی پوجا کرنے والے قبیلے میں اسلام کا آغاز کتنا روح پرور ہوگا۔ اسی لیے ہمیں سمجھایا جاتا ہے کہ اسلام کو کسی سے مت چھپائیں۔ کسی کو کیا معلوم کہ کوئی شخص کب اور کہاں اسلام قبول کر لے۔
جناب ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو سچ کا پابند بنایا اور سچائی سے احتساب کا عمل شروع کیا۔ بہت سی احادیث میں آپ کے رسول اللہ ﷺ سے کیے گئے سوالات کا تذکرہ ملتا ہے۔ ان سوالات سے جو نتائج نکلے، انہوں نے لاتعداد مسلمانوں کو ان کی زندگیوں میں اسلام نافذ کرنے کیلئے بہت سی نیکیوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے ابوذر! کیوں نہ میں تمہیں وہ دو خوبیاں بتا دوں جو تمہاری پیٹھ پر تو ہلکی ہوں لیکن (روزِ قیامت) میزانِ عمل پر دیگر نیکیوں کے مقابلے میں بھاری پڑیں؟ آپ نے عرض کی کہ ضرور بتائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اچھے اخلاق اپناؤ اور زیادہ وقت خاموشی سے گزارو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ کسی بھی شخص کے پاس ان 2 سے زیادہ اچھی نیکیاں نہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتا ہو۔ (شعب الایمان، 4591)
ایک اور مشہور حدیث جس میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ذکر ملتا ہے، اس میں آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ غریب لوگ نیکی اور سخاوت میں امیروں کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ میں تمہیں وہ کلمات کیوں نہ سکھا دوں جن کے تحت تمہارا رتبہ مال و مرتبے میں برتر لوگوں سے افضل ہوسکتا ہے؟ کوئی بھی شخص اس وقت تک تمہارا مقابلہ نہ کرسکے گا جب تک یہ کلمات نہ جان لے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ کیوں نہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہر نماز کے بعد اللہ اکبر 33 بار، الحمد اللہ 33 بار اور سبحان اللہ 33 بار پڑھنے کی ہدایت فرمائی اور فرمایا کہ تسبیح کا اختتام لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک، ولہ الحمد، یحی ویموت وھو علی کل شی قدیر پر کرو۔ تمہارے گناہ چاہے سمندر کی جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں، بخش دئیے جائیں گے۔ (ابوداؤد، 1499)۔
رسول اللہ ﷺ کا وصال حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ کیلئے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا کیونکہ علمِ دین سکھانے والے رسول ﷺ سے محروم ہوچکے تھے۔ آپ نے اسی غمِ رسول ﷺ کے ساتھ مدینہ چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اور صحرائے شام کی طرف روانہ ہوگئے اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کے ادوار میں اپنی زندگی وہیں گزاری۔
ذوالنورین حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں دمشق میں قیام پذیر حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو محسوس ہواکہ مسلمان مادی دنیا کے اسباب اور مال دولت کیلئے دین کو بھولتے جارہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے اوائل میں مسلمانوں کو درپیش سختیاں اور تکلیفیں دیکھی اور برداشت کی تھیں۔ اس لیے حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے آپ کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ مدینہ میں بھی آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کا وہی حال دیکھا۔ پھر خلیفۂ وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ کو حکم دیا کہ مدینہ کے قریب ربذہ میں جا کر بس جائیں جہاں آپ نے خلقت سے کٹ کر تنہا زندگی بسر فرمائی اور 32 سن ہجری میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی تدفین سعودی عرب کے ویران علاقے ربذہ میں کی گئی۔ نمازِ جنازہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں