شہریوں کے مقدمات عسکری عدالتوں میں چلانے کیخلاف درخواستوں کی سماعت آج ہوگی

تازہ ترین

تازہ ترین

سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دیدی
سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کالعدم قرار دیدی

اسلام آباد: سپریم کورٹ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف درخواستوں کی سماعت آج کرے گی۔ درخواست گزاروں میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کا ٹرائل کرنے کے خلاف درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا تھا۔ درخواست گزاران سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف ماہرِ قانون اعتزاز احسن اور دیگر کا کہنا ہے کہ شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانا بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

وزیر اعظم 3روزہ سرکاری دورے پر فرانس پہنچ گئے

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ آج پونے 12 بجے عام شہریوں کے مقدمات عسکری عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرے گا جس میں نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے 9 رکنی بینچ میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور سپریم کورٹ میں ملک کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک بھی شامل ہیں۔ عدالت نے عام شہریوں کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے خلاف 4 درخواستوں کو سماعت کیلئے مقرر کیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواستوں کو نمبر لگانے کی منظوری گزشتہ روز دی تھی۔ ؎

واضح رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف درخواستوں پر کوئی اعتراض عائد نہیں کیا۔ درخواست گزاران کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ سمیت دیگر سول عدالتیں مقدمات کا فیصلہ کرنے کیلئے موجود ہیں۔ ایسے میں عام شہریوں کے مقدمات کو ملٹری کورٹس میں لے جانا آئین کے خلاف ہے۔

Related Posts