کراچی کے علاقے لانڈھی میں ایک 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے دلخراش واقعے میں گرفتار ملزمان کی جانب سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ملزمان نے قتل کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مشرقی کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے آج دونوں ملزمان کے اعترافی بیانات قلمبند کیے۔ گرفتار ملزمان سہیل اور حسن نے بچے کے اغوا سے لے کر اس کے قتل تک کے واقعات کی ہولناک تفصیلات بیان کیں۔
ملزم حسن جو گوشت کے کاروبار سے وابستہ ہے نے بتایا کہ 18 ستمبر کو قتل کے دن وہ جانوروں کے باڑے میں موجود تھا۔ اس کے ساتھ ملزم سہیل بھی تھا۔ جب بچہ اپنی خالہ کے گھر سے باہر نکلا تو سہیل اسے باڑے میں لے آیا۔ بچے کو کچھ دیر جانور دکھانے کے بعد دونوں نے اسے ایک کمرے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔
حسن نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ پہلے سہیل نے بچے پر حملہ کیا پھر اس نے خود زیادتی کی۔ اس کے بعد سہیل نے بچے کے سر پر ایک بلاک سے وار کیا جس سے اس کی موت ہوگئی۔ بعد میں انہوں نے بچے کی لاش کو کٹائی مشین میں ڈالا اور ایک گندی گلی میں پھینک دیا۔
کراچی پولیس نے پنجاب کی بیٹیوں کی عزت بچالی! جانیں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوا
حسن نے مزید بتایا کہ سہیل نے گھر سے ایک قالین لایا اسے زمین پر بچھایا اور بلاک اس پر رکھا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ انہیں لاش کے بارے میں معلوم تھا اسی لیے انہوں نے خود بچے کے اہلخانہ کو لاش کی جگہ تک لے کرگئے۔
دوسری جانب ملزم سہیل نے اپنے بیان میں مختلف کہانی پیش کی۔ اس نے کہا کہ اس نے حسن کے کہنے پر بچے کو باڑے میں لایا تھا۔ سہیل کے مطابق پہلے اس نے اور پھر حسن نے بچے سے جنسی زیادتی کی۔ حسن نے ہی بچے کو قتل کیا اور اس کی لاش کو گندی نالی میں پھینک دیا۔
دونوں ملزمان کے بیانات میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ دونوں نے زیادتی کا اعتراف کیا ہے لیکن قتل کا الزام ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








