کراچی پولیس نے پنجاب سے دو کم عمر لڑکیوں کو نوکری کا لالچ دے کر مبینہ طور پر فروخت کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دونوں لڑکیوں کو تحفظ میں لے کر شیلٹر ہوم منتقل کردیا ہے۔
ایئر پورٹ تھانے کے انچارج ظہیر کے مطابق، پولیس نے لڑکیوں کے والدین اور پنجاب پولیس کو صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ جونہی لڑکیوں کے اہل خانہ اور پنجاب پولیس کراچی پہنچیں گے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انہیں ان کے والدین کے حوالے کر دیا جائے گا۔
مددگار 15 پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ اسپیشل سروسز یونٹ (ایس ایس یو) اور مددگار 15 کی مشترکہ کوششوں سے ان دو لڑکیوں کو بازیاب کروایا گیا۔ 26 ستمبر 2025 کو 19 سالہ طیبہ اور 17 سالہ حمیرا جوکہ بھاگ کر ایس ایس یو کے اہلکاروں کے پاس پہنچیں نے بتایا کہ ایک شخص انہیں فروخت کرنے کی تیاری کررہا تھا۔
مدد مانگنے آئی تھی مگر عزت لوٹ لی؛ پولیس اسٹیشن میں خاتون سے زیادتی
ایئر پورٹ کے قریب تعینات ایس ایس یو کی موبائل ٹیم نے لڑکیوں کو تحفظ میں لے کر مددگار 15 کو اطلاع دی۔ مددگار 15 کے میلاپ یونٹ نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر لڑکیوں کو تھانے منتقل کیا۔
ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا کہ طیبہ کا تعلق فیصل آباد سے ہے جبکہ حمیرا اوکاڑہ کی رہائشی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عائشہ نامی ایک خاتون نے انہیں نوکری کا جھانسہ دے کر کراچی بلایا اور پھر رفیع الدین نامی شخص کے حوالے کر دیا۔ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ رفیع الدین ان سے پیسوں کے عوض غیر قانونی کام کرواتا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








