مسلمان کبھی حُبِّ رسول ﷺ سے پیچھے نہیں ہٹے گا! اویسی کا مودی کو ایمان افروز جواب

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارت میں آئی لو محمد ﷺ کہنا جرم قرار دیے جانے کی مبینہ کوشش پر مسلم رہنما اسد الدین اویسی نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ اویسی نے کہا ہے کہ محض محبت کا اظہار جرم نہیں ہو سکتا اور اتر پردیش حکومت کا اس طرح کے پوسٹرز پر پابندی لگانا ایک خطرناک پیغام ہے۔

بھارتی شہر کانپور میں 4 ستمبر کو سڑکوں پر آئی لو محمد ﷺ کے بورڈز لگانے پر ہندو تنظیموں نے اشتعال انگیزی کا الزام عائد کیا جس کے بعد 9 ستمبر کو پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ملسلمان نوجوانوں کے خلاف مقدمات درج کرلیے۔

بھارتی سیاسی رہنما اور رکن اسمبلی اسد الدین اویسی نے کہا کہ ایک مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبت نہ کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتر پردیش کی حکومت ایسی پوسٹرز پر اعتراض کر کے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے جن میں صرف محبت کا اظہار ہے۔

مسلمانوں کا مودی کو دوٹوک پیغام؛ کانپور سے لکھنو تک ‘مجھے محمد ﷺ سے پیار ہے’ کی گونج

جمعہ کے روز بہار کے پورنیہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ آئی لو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)” کے پوسٹرز میں کوئی قومیت مخالف بات نہیں ہے۔ اگر کوئی نعرہ محبت کو فروغ دیتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

جب ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ اس تنازع کے جواب میں کچھ ہندو تنظیموں نے آئی لو مہادیو مہم شروع کی ہے تو اویسی نے کہا کہ اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ اس دوران انہوں نے صحافی سے اس کا نام پوچھا جس نے جواب دیا اشمٹ۔ اویسی نے فوراً کہاکہ میں کہوں گا کہ آئی لو اشمٹ۔ اس میں کیا غیر ملکی یا قومیت مخالف ہے؟

صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں؛ دیکھیں ہندو لڑکی کی عشق محمدی ﷺ سے لبریز ویڈیو

انہوں نے مزید کہاکہ اس سے تشدد کیسے پھیلتا ہے؟ اگر لفظ محبت ہے تو اس پر کسی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ محبت کے خلاف ہیں آپ محبت پر یقین نہیں رکھتے۔ میری رائے میں ایسے لوگوں کے لیے فلم مغل اعظم کا گانا محبت زندہ باد چلانا چاہیے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے اویسی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ آئی لو محمد کہنا جرم نہیں ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے آئین کے آرٹیکل 25 کا حوالہ دیا، جس میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔

Related Posts