اسلامی نظام تشکیل کیسے پاتا ہے؟ (پہلا حصہ)

تازہ ترین

تازہ ترین

سوشل میڈیا پر ایک روشن خیال کی ایسی پوسٹ دیکھی جس میں ہندوستان کے ایک سیاسی مولوی صاحب کا یہ مؤقف پیش کیا گیا تھا کہ سیکولرازم کے بغیر ہندوستان برباد ہوجائے گا۔ اور ساتھ ہی پاکستان کے ایک سیاسی مولوی صاحب کا یہ مؤقف کہ سیکولرزم کو کفریہ تصور بتا رہے ہیں۔ اور پوسٹ کرنے والے دیسی لبرل کے خیال کے مطابق یہ ایک بہت بڑا تضاد تھا۔

ہمارے نزدیک سیکولرزم کا سادہ ترین مفہوم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں خدا کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں۔ لہٰذا اجتماعیت کے سب سے بڑے مرکز “ریاست” میں خدا کی نہیں سنی جائے گی۔ ایک مسلمان اگر یہ تصور رکھتا ہے تو یہ بلا شبہ خدا سے بغاوت ہے۔ چنانچہ پاکستان والے مولوی صاحب یہی کہہ رہے ہیں۔ اور چونکہ وہ یہ بات ایک مسلم اکثریتی ملک میں کہہ رہے ہیں سو سیکولرزم کے سے انکار کے بعد واحد آپشن اسلام ہی بچتا ہے۔

اب اگر ہندوستان والے مولوی صاحب بھی یہی مؤقف اختیار کرلیں تو اس سے ہندو اکثریتی ملک میں واحد آپشن اسلام نہیں ہندوازم بچے گا۔ چنانچہ وہ ہندوازم سے بچنے کے لئے سیکولرزم کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ہندوازم کے مقابلے میں کم درجے کی خرابی ہوگی۔ بتایئے اس میں تضاد کہاں سے آگیا؟ یہ تو مدبرانہ مؤقف ہوا۔

ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں سرگرم مذہبی سیاسی جماعتوں کو آج تک اس بات کی توفیق ہی نہ ہوئی کہ لوگوں کو کم از کم اتنا ہی بتا دیتے کہ اسلامی نظام درحقیقت ہوتا کیا ہے؟ یا یہ کہ وہ دِکھتا کیسا ہے؟ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے اسلامی نظام کا کوئی خاکہ پیش نہیں کیا بلکہ الٹا یہ کہہ کہہ کر لوگوں کو ڈرا بھی دیا ہے:

“پاکستان میں بس اللہ کا حکم چلے گا”

اس جملے کا مطلب عام آدمی یہ لے لیتا ہے کہ اچھا سکول، کالج، اور یونیورسٹیز بند ہوجائیں گی اور ہر گلی میں سپارہ پڑھانے والے مکاتب اور ہر تحصیل میں درس نظامی کے مدارس قائم ہو جائیں گے۔ بینک بند کردیئے جائیں گے اور لوگ اپنی رقمیں مساجد میں امانتاً رکھوائیں گے۔ بجلی کو فضول خرچی قرار دے کر ختم کردیا جائے گا اور شہریوں میں مفت لالٹین بانٹے جائیں گے۔ پتلونیں ممنوع ہوجائیں گی اور مرد و زن صرف دھوتیاں باندھا کریں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔

آیئے ہم آپ کے سامنے مختصراً ایک شبیہ سی پیش کرتے ہیں کہ اسلامی نظام کہلاتا کیا ہے۔ ظاہر ہے اس کا آغاز تو ٹاپ سے ہوگا جب ادارے تشکیل پائیں گے۔ اور اداروں میں پہلا ادارہ حکمران کا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اسلام اس معاملے میں کیا حکم دیتا ہے؟ صرف اتنا:

“باہمی مشاورت سے کسی کو اپنا حاکم بنا لینا”

بس اتنی سی بات ہے۔ کوئی فکس طریقہ کار تک اللہ نے مسلمانوں پر مسلط نہیں کیا۔ طریقہ کار مکمل طور پر ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا ہے۔ جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ چاروں خلفائے راشدین کا طریقہ انتخاب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ تفصیل تاریخ کی کتابوں میں پڑھ لیجئے۔ اللہ کی طرف سے صرف “باہمی مشاورت” کا حکم تھا سو ہر طریقہ کار میں مشاورت آپ کو واضح نظر آئے گی۔

اب اس بات کی جانب آجایئے کہ رعایا کا اپنے حکمران کی بیعت کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب فقط یہ تھا کہ میں اس حکمران کو اپنا حاکم تسلیم کرتا ہوں اور اس کی اطاعت کروں گا۔ چنانچہ یہی بیعت اب شناختی کارڈ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ پاکستان کا شناختی کارڈ اسی کو جاری کیا جاتا ہے جو اس بات کا اقرار کرلے کہ وہ پاکستان کے آئین اور قانون کا پابند رہے گا۔ آئین کی پابندی کا لازمی تقاضا ہے کہ حکومت وقت کی اطاعت کی جائے۔

اب سوال آجاتا ہے کہ کیا حکومت وقت کی اطاعت کا یہ مطلب ہے کہ وہ جو بھی کرے اس کے خلاف اسلام میں چوں کی بھی اجازت نہیں؟ قطعاً نہیں ! خود اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:

” افضل ترین جہاد ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے”

یہ حدیث سیاسی سرگرمی کی فضیلت بیان کر رہی ہے۔ آپ کو اکسا رہی ہے کہ کسی ظالم کو قبول مت کرنا۔ اس کے خلاف حق کی آواز بننا۔ اس روایت میں “کلمہ” لفظ بطور خاص قابل غور ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ کلمہ جملے اور بات کو کہتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟ یہ مطلب ہوا کہ آپ ریاست میں وائلنس یعنی پرتشدد سرگرمی نہیں کرسکتے۔ ہمیشہ پرامن سیاسی سرگرمی کریں گے۔ ہمارا لبرل اپنے جہل کی وجہ سے یہ سمجھتا ہے کہ اسے سیاسی سرگرمی کا حق بس مغرب نے آکر دیا ہے۔ اس جاہل کو پتہ ہی نہیں کہ یہ حق اللہ کے رسول ﷺ مسلمانوں کو 1400 سال قبل دے کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ اور صرف حق ہی نہیں دیا بلکہ اللہ کے رسول نے اس کا شوق دلانے کے لئے اسے افضل ترین جہاد قرار دیا ہے۔

اب آجایئے مقننہ یعنی پارلیمنٹ کی جانب۔ یعنی وہ ادارہ جسے ہم شرعی اصطلاح میں “مجلس شوری” کہتے ہیں۔ فرق کوئی نہیں۔ بس ایک نام اردو میں ہے اور دوسرا انگریزی میں۔ یہ اللہ کا حکم تھا کہ اپنے امور باہمی یعنی قومی مشاورت سے چلانا۔ چنانچہ قرونِ اولی میں کوئی مستقل مجلسِ شوریٰ نام کا ادارہ نہ تھا لیکن خلفائے راشدین زیرک صحابہ سے مستقل مشاورت فرمایا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ارتقائی مراحل سے گزر کر اب یہ مشاورت باقاعدہ ہوگئی ہے اور اس کے لئے پارلیمنٹ نام کا باقاعدہ ادارہ وجود میں آگیا ہے۔ یہ ادارہ مملکت کی پالیسیاں تشکیل دینے میں بھی مشاورت مہیا کرتا ہے اور قانون سازی بھی کرتا ہے۔ نہایت قابل غور پہلو یہ ہے کہ مشاورت و قانون سازی کے اس ادارے کے ارکان چنے بھی مشاورت سے ہی جاتے ہیں۔ انتخابات کی صورت ہر حلقے کے لوگوں سے یہی تو سوال ہوتا ہے کہ یہ جو آپ کے سامنے بہت سے امیدوار کھڑے ہیں، ان میں سے آپ کسے اپنا نمائندہ سمجھتے ہیں؟

اس ضمن میں ایک قابل غور چیز یہ ہے کہ ہمارے ہاں تو بدکردار لوگ یعنی سمگلر، وڈیرے، اور غنڈے بھی پارلیمنٹ کے ممبر بن جاتے ہیں۔ اور جو ایسے نہیں بھی ہوتے ان میں “قانون دان” نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ امریکی ایوان کے ارکان کا جائزہ لیں تو وہاں آپ کو ارکان کی اکثریت ہی وکالت کے شعبے سے نظر آئے گی۔ جو ظاہر ہے دانشمندانہ چلن ہے۔

ہمارے ہاں پرانے وقتوں میں یہ قانون سازی فقہاء کیا کرتے تھے۔ مگر اس کی آفیشل کوئی حیثیت نہ ہوتی۔ یہ بس “سفارشات” ہوتیں۔ حکومت قبول کر لیتی تو آفیشل بھی ہوجاتیں۔ فقیہ کسے کہتے ہیں؟ ماہر قانون کو کہتے ہیں۔ اور ان کی مہارت اس درجے کی تھی کہ آج کا مغرب بھی ان میں سے بعض کی عظمت کو تسلیم کرچکا ہے۔ چنانچہ انٹرنیشنل لاء کے حوالے سے مغربی درسگاہیں یہی پڑھاتی ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے بانی امام محمد ابن الحسن الشیبانی ہیں۔ اور ان کے نام سے پیرس یونیورسٹی میں باقاعدہ چیئر قائم کرکے 70 کی دہائی کے آغاز میں پیرس یونیورسٹی میں “ہفتہ امام محمد” بھی منایا گیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بعض دفعات بھی امام محمد ابن الحسن الشیبانی سے ماخوذ ہیں۔

آگے چل کر جب ارتقاء کے نتیجے میں پارلیمنٹ وجود میں آگئی۔ اور طے پایا کہ قانون سازی یہ کرے گی۔ اور نظر آیا کہ یہاں تو انتخابات کے نتیجے میں ایسے لوگ پارلیمنٹ پہنچ رہے ہیں جو اسلامی نظام قانون سے ہی آگہی نہیں رکھتے سو ممکن ہے کہ یہ کوئی ایسا قانون بنا لیں جو احکام الہی سے متصادم ہو۔ چنانچہ اس کا تدارک “اسلامی نظریاتی کونسل” کی صورت کیا گیا جس کے ارکان علماء اور قانون دان ہوتے ہیں۔ اس ادارے کا کام ہے پارلیمنٹ کی یہ رہنمائی کرنا کہ کوئی قانون احکام الہی سے متصادم تو نہیں؟ آپ نے غور کیا کہ آسمان سے کوئی آڈر نہیں آیا بلکہ ایک مسئلہ پیدا ہوا تو مسلمانوں نے ایک باقاعدہ ادارے کی صورت اس کا حل نکال لیا۔ (جاری ہے)

Related Posts