انسانی ذہن ایک وقت میں ایک ہی جانب متوجہ ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر دو افراد بیک وقت گفتگو کرنے لگیں تو ہم ان میں سے ایک کو خاموش کرا کر باری باری دونوں کا مؤقف سنتے ہیں۔
اگر دونوں افراد کو بولنے کی اجازت دی جائے اور کچھ دیر بعد انہیں چپ کرا کر کسی سامع سے پوچھا جائے کہ بتایئے، ان دونوں نے کیا کہا؟ تو وہ دونوں کی پوری نہیں بلکہ ادھوری بات ہی بتا پائے گا۔ کیونکہ سنتے وقت ذہن کبھی ایک تو کبھی دوسرے کی بات کی جانب متوجہ ہوتا رہا۔ چنانچہ سننے والے نے دونوں کی گفتگو کا جو جو حصہ سنا ہوگا بس وہی حصے بتا سکے گا۔
ذہن کے ایک وقت میں ایک ہی جانب متوجہ ہوپانے کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی عوامی مقام پر اگر بچے سے ذرا سا دھیان ہٹ جائے تو اس کے بچھڑنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے اور بچے گم اسی کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔ اس کیس میں ہم ان بچوں سے تو واقف ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لئے گم ہوگئے یا گم ہوکر مل بھی گئے۔ لیکن ایک بڑی تعداد ایسے بچوں کی بھی ہوتی ہے جن کے والدین کو اچانک خیال آیا کہ ”بچہ کہاں گیا ؟“ اور ایک دم بھاگ دوڑ کی تو چند قدم کے فاصلے پر ہی وہ مل بھی گیا۔ گویا بچوں کے بچھڑنے یا گم ہونے کا اندیشہ ہمارے مستقل مسائل میں سے ہے۔ اور اس کے تدارک کا کوئی منظم حل نہیں سوچا جاتا۔ اگر آپ کسی سے حل کا پوچھیں بھی تو وہ بس یہی حل بتا پائے گا کہ بھئی احتیاط کیجئے۔
ہمارے خیال میں یہ ممکن ہی نہیں کہ انسانی ذہن کسی لمحے میں بچے سے ہٹ نہ جائے، یہ کوئی اختیاری نہیں بلکہ غیر اختیاری عمل ہے۔ سو ذہن تو بٹے گا اور بچے کے بچھڑنے کا امکان بھی موجود رہے گا۔ سیکھنے اور سمجھنے کی اصل چیز یہ ہے کہ بچے کے بچھڑنے کی صورت میں اس کا ملنا آسان کیسے بنایا جائے؟ ہمارے نزدیک اسے یوں آسان بنایا جاسکتا ہے کہ دو سال کی عمر کے آس پاس بچہ گھر کے افراد کے ٹوٹے پھوٹے نام لینا شروع کر دیتا ہے۔ عام طور پر والدین اسے فوراً اس سے منع کردیتے ہیں۔ بالفرض علی نے عمر کو اس کے نام سے مخاطب کردیا تو والدین کہتے ہیں:
”نہیں بیٹا، عمر نہیں ، بھائی جان کہو۔“
ہمارے نزدیک یہ غلط ہے۔ بچے کو ایک سال تک جم کر یہ نام لینے دیجئے تاکہ گھر کے تمام افراد کے نام اچھی طرح اس کے ذہن میں بیٹھ بھی جائیں اور اور یہ ان ناموں کی مکمل اور بالکل واضح ادائیگی بھی سیکھ جائے۔ ہم نے اس معاملے میں روٹین یہ رکھی کہ پوتے کی اس ابتدائی عمر میں ہمیں اس کے ذریعے اپنے بڑے لڑکے کو بلوانا ہوا تو اپنے پوتےعمر عالم سے یہ نہیں کہتے کہ جاؤ اپنے بابا کو بلاؤ بلکہ کہتے
“جاؤ صلاح الدین سے کہو کہ ابو بلا رہے ہیں”
اور دو ڈھائی برس کا وہ بچہ جا کر ان سے کہتا
“ابو کہہ رہے ہیں، صلاح الدین کو بلاؤ”
یہی ہم نے دوسرے پوتے علی عالم کے ساتھ بھی کیا۔ یوں ہمارے دونوں پوتوں کو گھر کے تمام افراد کے نام آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟ جی ہاں! یہ بہت زیادہ ضروری ہے۔ اور ضروری اس لئے ہے کہ جب خدا نخواستہ بچہ والدین سے پبلک پلیس پر بچھڑ جائے تو جنہیں ملتا ہے وہ پہلا سوال تو بچے سےیہ کرتے ہیں:
”بیٹا آپ کا نام کیا ہے؟“
وہ اپنا نام بتا دے تو اگلا سوال لازما یہ ہوتا ہے
”بیٹا آپ کے ابو کا نام کیا ہے ؟“
اگر بچہ یہ بھی بتا دے تو پھر کچھ مزید اہلِ خانہ کے نام پوچھے جاتے ہیں۔ یوں اسے اس کی فیملی سے ملانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ بالفرض محلے میں ہی ادھر ادھر ہوا ہو تو کئی افراد اس کے والد کے نام سے شناخت کر جاتے ہیں کہ کن کا بچہ ہے۔ لہٰذا جتنے زیادہ نام وہ بتا پائے گا اتنا ہی کام آسان ہوجائے گا۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا بسا اوقات مسجد سے اعلان ہوتا ہے:
”حضرات ایک بچہ ملا ہے، عمر تقریبا ڈھائی سال ہے، اپنا نام فلاں بتاتا ہے، والدین کا نام نہیں جانتا، کپڑے اس رنگ کے پہنے ہیں، جن صاحب کا ہو وہ فلاں جگہ سے آکر لے جائیں۔“
یہ نامکمل معلومات بچے نے اسی لئے فراہم کی ہیں کہ والدین نے اسے مکمل معلومات جمع کرنے سے روک دیا تھا۔ ایسے بچے سے بالفرض پوچھ لیا جائے کہ آپ کے بڑے بھائی کا نام کیا ہے؟ تو اس کا جواب ہوتا ہے:
”بھائی جان“
اب بھائی جان تو تقریباً ہر گھر میں ہی ہیں۔ یہ نام شناخت میں کوئی مدد نہیں دے سکتا۔ سو یہ تو کوئی معلومات نہ ہوئیں۔ لہٰذا بچے کو ایک سال تک والدین سمیت سب کے نام لینے دیجئے۔ جب یہ نام اسے اچھی طرح رٹ جائیں گے تو تین سال کی عمر میں ہم اسے سمجھا دیں گے کہ بڑوں کے نام نہیں لیتے۔ والد کو ابو، والدہ کو امی یا جو بھی آپ کہلوانا چاہتے ہیں بتا دیئے جاتے ہیں اور بچہ صرف ایک ہفتے میں اصل نام لینا ترک کردیتا ہے۔
بچے کی گمشدگی والے معاملے کی پیشگی تیاری کی ایک بہت لازمی صورت یہ بھی ہے کہ آپ کے گھر کی جانب جو دوتین راستے آتے ہیں۔ ان راستوں پر بچے کو ڈھائی سال کی عمر کے بعد شام میں واک کرانا شروع کردیجئے۔ اور ہر بار واپسی پر بچے کو آگے رکھئے اور اسے بتایئے کہ گھر چلو۔ آپ دیکھیں گے کہ بچہ چھ سات فرلانگ یا اس سے بھی طویل فاصلے سے ٹھیک ٹھیک اپنے گھر کے دروازے تک آنا سیکھ جائے گا۔ راستوں کی یہی شناخت نسبتاً طویل مسافت سے یوں سکھایئے کہ محلے کے بازار سے واپسی پر اسے بائیک کی ٹنکی پر یا گاڑی میں بٹھا کر کہئے
”گھر جانا ہے، آپ مجھے گھر کا راستہ بتایئے “
شروع میں وہ غلطی کرے گا لیکن اگلی تین چار باریوں میں وہ آپ کو بالکل ٹھیک ٹھیک سارے موڑ اور راستہ بتاتا چلا جائے گا۔ یوں آپ کے بچے کے محلے میں گم ہونے کا امکان کم سے کمتر ہوتا چلا جائے گا۔اور اگر بالفرض کوئی مسئلہ ہو بھی گیا تو گھر کے افراد کے نام ٹھیک ٹھیک بتا کر ان لوگوں کے لئے اسے گھر پہنچانا آسان کر دے گا جنہیں بچہ ملے گا۔
اس سے اگلا کام ہم یہ کریں گے کہ چار سال کی عمر کے آس پاس ہم بچے کو گھر کا اتنا شارٹ ایڈریس بھی یاد کروائیں گے، جس سے گھر کی تلاش ممکن ہو۔ مثلاً صرف مکان اور اسٹریٹ نمبر ہی بچے کو یاد کروا دیں اور وقتاً فوقتاً اس سے پوچھتے رہیں تو گم ہونے کی صورت میں جسے بھی ملے گا اس کے لئے اسے آپ کے گھر پہنچانا ممکن ہوجائے گا۔ اور جب یہ پانچ سال کا ہوجائے گا تو تب ہم اسے گھر کا مکمل ایڈریس یاد کروائیں گے تاکہ شہر میں بھی خدا نخواستہ کہیں والدین سے بچھڑ جائے تو طویل فاصلے سے بھی اسے گھر پہنچانا ممکن ہوجائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں