شناختی کارڈ کی منسوخی ہو گئی آسان، نادرا کی نئی سہولت کے بارے میں جانئے

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو

نادرا کے نئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ وفات کے اندراج کے عمل میں نہ صرف شفافیت آئی ہے بلکہ اعداد و شمار کے مطابق اس رجحان میں چھ گنا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ بہت سے شہری اپنے قریبی رشتہ داروں کی وفات کے بعد بروقت اندراج نہیں کرواتے، یا مرحوم کا شناختی کارڈ نادرا سے منسوخ نہیں کراتے، جس کے باعث وراثت، پنشن اور قانونی معاملات میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر نادرا نے اس مسئلے کے حل کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ سب سے اہم قدم وفات کے باعث شناختی کارڈ کی منسوخی کی فیس کا خاتمہ ہے، تاکہ شہری اس عمل میں کسی مالی رکاوٹ کا سامنا نہ کریں۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت اڑھائی لاکھ خواتین کو ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کا اعلان، آپ بھی فائدہ اٹھائیں

نادرا نے صوبائی سول رجسٹریشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ کا نظام بھی مزید مستحکم کیا ہے اور وفات کی بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا ہے، جس سے جعلی یا غلط اندراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

حکام کے مطابق ابتدائی طور پر نظام کے نفاذ میں کچھ مشکلات ضرور آئیں، تاہم نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ اموات کے اندراج میں نمایاں بہتری آئی ہے اور خاندانی ریکارڈ زیادہ درست ہو گیا ہے۔

نادرا نے پاک آئی ڈی ایپ میں شہریوں کے لیے کئی نئی سہولیات بھی شامل کی ہیں۔ اب کوئی بھی شہری اپنے قریبی رشتہ دار کی وفات کے بعد اسی ایپ کے ذریعے شناختی کارڈ کی منسوخی کی درخواست دے سکتا ہے۔

پنجاب کے تین اضلاع میں بطورِ پائلٹ پراجیکٹ، وفات کا اندراج بھی پاک آئی ڈی ایپ سے ممکن بنا دیا گیا ہے، جب کہ آئندہ مرحلے میں پیدائش، شادی، طلاق اور وفات کے اندراج کی سہولت پورے ملک میں فراہم کی جائے گی۔

نادرا نے پاک آئی ڈی ایپ میں خاندانی ریکارڈ دیکھنے کی مفت سہولت اور غلطیوں کی نشاندہی کا نیا فیچر بھی شامل کیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام اہم واقعات کو بروقت رجسٹر کرائیں اور خاندانی ریکارڈ کو نادرا کے ساتھ ہمیشہ تازہ رکھیں، تاکہ ایک مستند، درست اور شفاف قومی ڈیٹا بیس تشکیل دیا جا سکے۔

Related Posts