دنیا کی کوئی بھی قوم جب ترقی کرنے کی خواہش مند ہوتی ہے تو اپنے طویل المدتی منصوبے بناتی ہے اور ایک مربوط روڈ میپ تیار کیا جاتا ہے جو اسے اپنے مقاصد کی طرف لے کر جاسکے۔
قومی ویژن کا مقصد عوام کے مشترکہ ویژن کو واضح کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد ایک ایسے ویژن پر رکھی گئی تھی جو خوشحال، انصاف پسند، روادار اور متحرک معاشرے کا مظہر ہے اور یہ تحریکِ آزادی کے مرکز میں پیش کیا گیا، اس سے قطعِ نظر کہ برسہا برس کے دوران ہمارے ذہنوں سے اس کا عکس دھندلاتا چلا گیا ہو۔
یہ نئے ملک کے لیے بنیادی وژن تھا، جو اس نسل کے رہنماؤں سے متاثر تھا، اور آزادی اور قومیت کے لیے ہمارے لوگوں کی جدوجہد کے ذریعے اسے عملی صورت دی گئی۔ 1947 کے بعد پاکستان نے کئی محاذوں پر خاطر خواہ ترقی کی ہے۔
شہباز شریف کی زیرقیادت مخلوط حکومت نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2022-23 کے لیے 9.5 ٹریلین روپے کے مبینہ مشکل ترین وفاقی بجٹ کی نقاب کشائی کی جس میں 6 ارب ڈالر قرض کی بحالی کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط کے درمیان اربوں کا قرضہ پروگرام پالیسی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے مہینوں سے تعطل کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف سے متاثرہ ایف۔ایڈرل بجٹ 10 جون 2022 کو پیش کیا گیا۔
موضوع کی ضرورت سے زیادہ سیاست کرنے کے نتیجے میں حقیقی تصویر کو غیر ضروری طور پر مسخ کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت کو اس کی ناقص کارکردگی پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ بجٹ کی توجہ پائیدار اور جامع ترقی پر مرکوز ہے ۔
ذیل میں گزشتہ اور موجودہ بجٹ کا تقابلی جائزہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ معاشی صورتحال کا خاکہ تیار کیا جاسکے:
ٹیکس ریونیو 6129 سے 6750
نان ٹیکس ریونیو 2080 سے 2100
این ایف سی3412 سے 3800
خالص آمدنی 4797 سے 5050
اندرونی قرض واپسی 2800 سے 3000
غیر ملکی قرض واپسی 302 سے 550
دفاع 1370 سے 1500
پینشن 480 سے 520
سبسڈیز 682 سے 750
سول حکومت 639 سے 750
گرانٹس اور ٹرانسفر 1167 سے 1600
کل اخراجات 7440 سے 8670
خسارہ 2643 سے 3620
یہ ایک بہت پر امید پوزیشن ہے۔ وفاقی حکومت کے اخراجات میں گرانٹس اور ٹرانسفرز میں بے نظیر ، ریاستی ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے نقصانات اور صوبوں اور منصوبوں کو خصوصی گرانٹس شامل ہیں۔ اس میں کامیاب جوان پروگرام وغیرہ بھی شامل ہے۔ جیسا کہ مذکورہ تخمینہ سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وفاقی حکومت کے کل دستیاب وسائل کا تقریباً ستر (70) فیصد قرض کی واپسی میں استعمال ہو جاتا ہے۔
ہر سال کے خسارے کے ساتھ قرض واپسی کی ذمہ داری اور شیطانی دائرہ مزید کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ دوسری چیز جس پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا وہ پنشن اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ہیں۔
پنشن کے لئے بل خالص دستیاب وسائل کے تقریباً 10 فیصد تک پہنچ چکا ہے اور اس کے لیے کوئی معقول حل حاصل کرنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔
- تنخواہ دار طبقے کے لیے کم سے کم قابل ٹیکس آمدنی کی حد 0.6 ملین سے بڑھا کر 1.2 ملین روپے کی جائے گی۔
- حکومت کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ
- بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور پنشنرز بینیفٹ اکاونٹ پر ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کردیا جائے گا
- صحت کے شعبے کے لیے 24 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
- ایچ ای سی کے لیے 65 ارب روپے کی تجویز
- 16 ہزار سی سی سے زیادہ گاڑیوں پر ایڈوانس ٹیکس بڑھایا جائے گا۔
- 30 سے زائد فارماسیوٹیکل اجزاء پر مکمل کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ
- بینکنگ سیکٹر کو اب 42 فیصد ٹیکس کی شرح کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ موجودہ 39 فیصد سے زیادہ ہے
- دفاع اور اخراجات کے لیے 1523 ارب روپے مختص
- فلم ڈسٹری بیوٹرز پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر دیا گیا۔
- 40 ہزار روپے سے کم گھریلو ماہانہ آمدنی والے خاندان کو 2 ہزار روپے ماہانہ دئیے جائیں گے۔
- 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے خاندانوں کو سولر پینل خریدنے کے لیے آسان اقساط میں قرضہ دیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں