سوال کی اہمیت

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں تعلیم کے نظام کو کبھی پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ ملک کے ایوانِ اقتدار پر روزِ اوّل سے قابض اشرافیہ، جاگیردار اور وڈیرے سمجھتے تھے کہ اگر عوام کو شعور کی روشنی مل گئی تو وہ ترقی کرکے اقتدار تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم کی حیثیت واجبی اور زندگی کے غیر ضروری قسم کے عنصر کی سی ہوگئی کیونکہ آج جب کسی غریب کا بچہ بی اے، بی کام یا ایم اے کی ڈگری لے کر بھی نوکری کی تلاش شروع کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی اسناد کاغذ کے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں۔

 جب  ملک کا تعلیمی نظام عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگا تو تعلیم سے فارغ التحصیل طلبہ صنعتی و کاروباری ضروریات کے تحت خدمات پیش کرنے کے قابل نہیں ہوسکتے اور یہی صورتحال آج کے نوجوانوں کو درپیش ہے جو ڈگریاں لے کر بھی بے روزگار ہیں۔

 آج جب بچہ اپنے اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں کھڑا ہوکر کوئی علمی سوال پوچھتا ہے تو استاد اس کا جواب دینے کی بجائے اسے تضحیک آمیز انداز سے گھورتا اور مسکراتا ہے۔

معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جواب دینے کی بجائے گھورنے والے استاد کی مسکراہٹ خود طالبِ علم کو بھی زہر آلود محسوس ہوتی ہے اور وہ سوال کا جواب نہ ملنے سے مایوس ہو کر چپ چاپ اپنی جگہ بیٹھ جاتا ہے۔ اس کا سوال اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔

واضح رہے کہ تعلیم و تربیت میں سوال کی اہمیت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر بچہ کوئی سوال کرتا ہے تو استاد کا فرض ہے کہ اس کو اس وقت تک جواب دے اور سمجھائے جب تک کہ وہ مطمئن نہیں ہوتا۔

 اگر طالبِ علم یہ پوچھے کہ ریاضی میں الجبرا کیوں پڑھایا جاتا ہے؟ ایکس وائی زیڈ کی جمع تفریق، ذواضعاف اقل یا عادِ اعظم نکالنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ہم سادہ سے اعدادوشمار سے کام نہیں چلا سکتے؟ تو استاد کو جواب دینا ہوگا۔

استاد کو بتانا ہوگا کہ ایکس وائی زیڈ کے ذریعے جمع تفریق کی اہمیت فلکیاتی سائنس اور سائنس کے پیچیدہ موضوعات کی تشریح کیلئے کرنی پڑتی ہے اور اس سے بے شمار مسائل سلجھائے جاتے ہیں۔ اگر یہ اے بی سی کی جمع تفریق نہ ہوتی تو سائنس کی ترقی بھی صرف خیالوں میں ہی ممکن تھی۔

طلبہ کو یہ سمجھانا ہوگا کہ اگر ہماری کہکشاں سے کسی دوسری کہکشاں تک کا فاصلہ سادہ سے ہندسوں میں بیان کیا جائے تو نہ اسے ہم ہزار، لاکھ، کروڑ اور ارب کی اصطلاحات کی مدد سے بتا سکتے ہیں، نہ سمجھا سکتے ہیں، اسی وجہ سے نوری سال کی اصطلاح لائی گئی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کو ان کے جائز حق یعنی تعلیم سے محروم نہ کیا جائے تاکہ وہ موجودہ دور کے عصری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے حقیقی علم حاصل کریں اور اپنے ملک و قوم کی ترقی کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں، صرف اسی صورت میں ملک ترقی کرسکتا ہے۔

Related Posts