پاکستان کا زرعی شعبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان ایک زرعی ملک ہے تاہم اس باصلاحیت شعبے کی حالتِ زار آج ہم سب کے سامنے ہے جبکہ کسانوں کی فصلوں کی غیر مناسب قیمتوں کی شکایت خاص طور پر پی ٹی آئی کے آخری دور میں سامنے آئی۔

پنجاب میں زرعی شعبے میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کیلئے عالمی بینک کے 20کروڑ ڈالر کے قرض کی حالیہ منظوری سے حکومت کی فصلوں کی پیداوار اور زراعت کے شعبے میں مجموعی کارکردگی میں بہتری کی امیدوں کو تقویت ملی ہے۔

توقع ہے کہ یہ قرض پنجاب ریزیلنٹ اینڈ انکلوسیو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان  کا حصہ ہے جو پانی کے استعمال کو بہتر بنانے اور پائیدار موسمیاتی نظام کی تعمیر کیلئے اسمارٹ ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی مالی اعانت فراہم کرے گا۔

امید کی جارہی ہے کہ مذکورہ بالا پلان سے چھوٹے کسان بالخصوص شدید موسم کے باعث معاشی مشکلات کا سب سے زیادہ شکار بننے والی خواتین فائدہ اٹھا سکیں گی تاہم اصلاحات کو متوسط حجم اوربڑے فارمز کے ذریعے آسان سے اپنایا جاسکتا ہے۔

منصوبے میں ابتدائی طور پر 1 لاکھ 90 ہزار چھوٹے فارمز کو مدِ نظر رکھا گیا جبکہ پلان کو کم و بیش 14 لاکھ ایکڑ سیراب شدہ اراضی کیلئے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اسے بھی 40 کروڑ ڈالر سے کم کردیا گیا جس کی وجہ وفاق کی ناکامی ہے۔

وفاق آئی ایم ایف کی شرائط اور دیگر غیر ملکی قرضوں سے متعلق مسائل کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ کچھ رپورٹس میں یہ اشارہ بھی سامنے آیا ہے کہ عالمی بینک کی ترجیحات میں تبدیلیوں کا نتیجہ کئی بڑے بین الاقوامی واقعات تھے۔

مذکورہ بڑے عالمی واقعات میں یوکرین روس جنگ اور کورونا وباء کے مسائل اہم ہیں۔ اگرچہ منصوبہ پنجاب کیلئے خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاہم زرعی ملک ہونے کی وجہ سے پورا پاکستان عمومی طور پر اس سے مستفید ہوسکے گا۔

اکیلا صوبہ پنجاب ہی ملک کی کل خوراک کی ضروریات کا کم و بیش 75 فیصد پورا کرتا ہے بلکہ دیگر زرعی فصلیں بھی پنجاب سے ہی پورے ملک میں جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں نے کسانوں اور ریاست کیلئے یکساں مسائل پیدا کیے۔

عالمی سطح پر پاکستان گندم درآمد کرکے عوام کو خوراک مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ خوراک کے درآمدی بل سے معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ملکی فصلیں اور پیداوار قابلِ اعتماد طریقے سے ملکی ضروریات پوری کرسکتی ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب میں مذکورہ بالا پراجیکٹ سے سیکھے گئے اسباق دیگر صوبوں میں زیادہ لاگت سے مؤثر اور کم رسک حل استعمال کرتے ہوئے اپنائے جائیں جبکہ زرعی شعبے کی فلاح و بہبود ہی ملک کی ترقی کا واحد راستہ ہے۔

Related Posts