اتوار کے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں قومی و صوبائی اسمبلی کی مجموعی طور پر 11 نشستوں کیلئے لاکھوں کی تعداد میں عوام گھروں سے باہر نکلے اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تاہم تمام ہی لوگوں نے کسی ایک امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔
گزشتہ روز کے ضمنی انتخاب کے سب سے بڑے امیدوار عمران خان تھے جن کا پی ڈی ایم کے امیدواروں سے مقابلہ ہوا۔ عوام کی بڑی تعداد میں سے ہزاروں نے عمران خان اور ہزاروں نے پی ڈی ایم امیدواروں کو ووٹ دئیے، گویا سب نے اپنی مرضی کے امیدوار کا انتخاب کیا۔
دنیا میں کسی بھی شخص کی کسی خاص معاملے پر رائے پوچھ لیجئے، وہ اچھی ہو، بری ہو یا متوازن، لیکن ایک بات طے ہے کہ ایک شخص کی رائے دوسرے سے بہرحال مختلف ہوگی اور شاذ و نادر ہی ایسا ہوگا کہ ایک شخص کی رائے کسی دوسرے سے مل جائے۔ اور یہی وہ اختلافِ رائے ہے جسے جمہوریت کا حسن کہا جاتا ہے۔
نظامِ جمہوریت کی تعریف اس سے مختلف سہی، تاہم ایک عام شہری کیلئے یہ سمجھنا آسان ہوگا کہ کوئی ووٹر جب اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کرتا ہے تو وہ گویا ریاست کو اپنی رائے سے آگاہ کر رہا ہوتا ہے کہ فلاں امیدوار میرا پسندیدہ ہے، میں فلاں کو رکنِ اسمبلی یا صدر بنانا چاہتا ہوں۔
جب یہ عام شہری اپنی رائے سے انتخاب کرچکتے ہیں تو پھر اگلا مرحلہ ان منتخب نمائندوں یعنی اراکینِ اسمبلی و سینیٹ یا پھر بلدیاتی حکومت کے نمائندگان کی رائے کا آتا ہے جس سے امورِ مملکت چلتے ہیں اور یہاں آ کر شہریوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ جس امیدوار کو انہوں نے ووٹ دئیے تھے، وہ جس عہدے پر منتخب ہوا اس کا اہل تھا یا نہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد الیکشن، خاص طور پر ضمنی انتخابات کے دوران گھروں سے باہر نہیں نکلتی جس کا نتیجہ دھاندلی اور سیاسی جماعتوں کی بندر بانٹ اور اقربا پروری کی صورت میں برآمد ہوتا ہے اور من مرضی کے امیدوار کو نشست پر کامیاب قرار دے دیا جاتا ہے جسے عوام نے منتخب ہی نہ کیا ہو۔
دراصل یہ اس خوبصورت نظامِ حکومت کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے جسے ہم جمہوریت کا نام دیتے ہیں اور جس کی تخلیق کا مقصد ہی عوام کی خدمت تھا۔ چونکہ عوام ہی اس نظام کے اہم ترین رکن یعنی ووٹنگ کے عمل میں دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے، اس لیے نظام کا اہم ترین عنصر یعنی عوامی خدمت اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔
آج ہم اپنے معاشرے میں جو ناانصافی، لوٹ کھسوٹ، اقربا پروری اور بد دیانتی دیکھ رہے ہیں، اس میں زیادہ تر قصور ہمارا اپنا ہی ہے۔ ہمارے ہی منتخب کیے گئے نمائندوں نے ہماری خدمت کو اپنا شعار نہیں سمجھا یا پھر ہم نے ووٹنگ کے عمل کو اتنا گھٹیا سمجھ لیا ہے کہ اس کیلئے اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکالنا پسند نہیں کرتے۔
ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ عوامی نمائندے عوامی مسائل کے حل کیلئے کام کریں تاہم جمہور یعنی عوام الناس کو بھی ووٹنگ کے عمل کو اہمیت دینے اور ووٹ ڈالنے کو فریضے کی طرح نبھانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں