تازہ ترین

تازہ ترین

ایرانی انقلاب کے بعد کا مشرق وسطیٰ ایک ایسا مشرق وسطیٰ تھا جہاں ایک طرف عربوں کے ساتھ براہ راست دشمنی رکھنے والا ایسا اسرائیل موجود تھا جسے امریکہ اور برطانیہ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی تو دوسری طرف ایسا ایران بھی وجود میں آگیا تھا جس کی امریکہ مخالف حکومت عربوں کے ساتھ صدیوں پر محیط دشمنی کی تاریخ کی وارث بھی تھی۔

اگر یہ تمہیدی تین سطور آپ نے سرسری نظر سے پڑھی ہیں تو ذرا توجہ سے اس نکتے پر غور کیجئے کہ عربوں کا ایک دشمن خطے میں ایسا موجود تھا جسے اسی امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی جو امریکہ عین اسی لمحے عربوں کے بھی دوست کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اور خمینی کا ایران ایک ایسا ایران تھا جو عربوں کے ساتھ صدیوں کی دشمنی رکھتا تھا اور ساتھ ہی امریکہ اور برطانیہ بھی اس کے لئے دشمن کا درجہ رکھتے تھے کیونکہ ان کا ایران ان دونوں ممالک کا لگ بھگ تیس برس غلام رہا تھا۔ کیا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس والے امریکہ کے لئے اس سے زیادہ آئیڈیل صورتحال کوئی اور ہوسکتی تھی؟ ملکوں کے مابین تنازعات اور ان تنازعات کے نتیجے میں جنگوں کے امکانات امریکہ کے ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی اشد ترین ضرورت ہیں۔ ایک ملک دوسرے کے خوف میں ہوگا تو اسلحہ خریدے گا۔

ایران صرف عربوں کے لئے ہی خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجاتا آیا بلکہ اسرائیل کے حوالے سے بھی وہ دھواں دھار بیان بازیاں کرتا آیا ہے۔ یوں امریکہ اسرائیل اور عرب ممالک دونوں ہی کو دبا کر اسلحہ فروخت کرتا رہا ہے۔ گویا امریکہ طاقت تو اتنی رکھتا تھا کہ وہ جنگ کے امکان کو ہی ختم کر سکتا تھا مگر اس نے اپنی طاقت کو جنگ کے سدباب کے بجائے اسے ہوا دینے کے لئے استعمال کیا، کیونکہ اس کے ملٹری انڈسٹریل کملیکس کی ضرورت یہی تھی۔

سیاست میں آپ کسی ایک صورتحال کو لامحدود یا دائمی مدت تک استعمال نہیں کرسکتے ورنہ اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر لاوا پکنا شروع ہوجاتا ہے۔ چنانچہ باراک اوباما کے دور میں امریکہ نے بڑا پالیسی شفٹ کرتے ہوئے ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر شیعہ ممالک کو بالادستی دلوانے کے منصوبے پرعمل درآمد شروع کیا۔ یہ یوں بھی امریکہ کی ضرورت تھا کہ سعودی تیل کے ذخائر امریکہ تقریباً نچوڑ چکا۔ اب اس کے تیل کے کنویں تیزی سے سوکھتے جا رہے ہیں جبکہ ایرانی تیل کا ذخیرہ محفوظ ہے جسے اگلے 50 سال تک نچوڑا جاسکتا ہے۔

یہ محض امریکی ڈیموکریٹ پارٹی کا ایجنڈا نہ تھا بلکہ اس منصوبے کے پیچھے امریکی اسٹیبلیشمنٹ موجود تھی۔ امریکی اسٹیبلیشمنٹ کی تاریخ کا آپ سرسری مطالعہ بھی کریں گے تو آپ کو یہ پیٹرن صاف نظر آجائے گا کہ وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق کبھی ریبلیکن تو کبھی ڈیموکریٹ پارٹی کی پشت پناہی کرتی ہے۔ وہ بس یہ دیکھتی ہے کہ کس عالمی ہدف کے حصول کے لئے لبرلز موزوں ہیں اور کس ہدف کے لئے مذہبی فکر رکھنے والے ریپبلیکنز۔ چنانچہ نائن الیون کے موقع پر وہ ریبلیکنز کی پشت پر تھی کیونکہ مسلمانوں کو کچلنے کے لئے مذہبی فکر کی آمیزش رکھنے والے ریپبلیکنز موزوں تھے۔ بش نے کروسیڈ کا حوالہ ویسے ہی نہیں دیا تھا، یہ مذہبی ٹچ سوچا سمجھا تھا۔ اس کے برخلاف 10 سال بعد ایران اور شیعہ ممالک کو بالادستی دلوانے کے پروگرام کے لئے لبرلز موزوں تھے سو اس ہدف کے لئے امریکی اسٹیبلیشمنٹ باراک اوباما کے ساتھ ایک پیج پر ہوگئی۔

عرب سپرنگ اور عین عرب سپرنگ کے دوران پراسرار طور پر عراق سے جنم لینے والی مشہور دہشت گرد تنظیم کا وجود میں آجانا اسی منصوبے کا حصہ تھا۔ جہاں عوام سے تختہ الٹانا ممکن تھا وہاں عوام کو استعمال کرنا تھا اور جہاں عوام کار آمد ثابت نہ ہوتے مثلاً سعودی عرب تو وہاں اس دہشت گرد تنظیم سے کام لینا تھا۔ مگر سعودیوں نے پوری ہوشیاری کے ساتھ شام کا محاذ گرم کردیا جس سے اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی یوں ہی بے فکری سے پورے خطے میں دندناتا نہیں پھر رہا تھا۔ اسے فری ہینڈ دیا گیا تھا۔ مگر اس صورتحال سے مذہبی آمیزش رکھنے والے ریپبلیکنز خوش نہ تھے۔ وہ اس حوالے سے کڑی تنقید کر رہے تھے۔ اور اس باب میں اسرائیل اور امریکی ریپبلیکنز ایک پیج پر تھے۔ چنانچہ عرب ممالک کو اپنا مفاد اس چیز میں نظر آیا کہ بچاؤ کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ امریکی ریپبلکنز اور اسرائیل سے ہاتھ ملا لیا جائے۔

اس صورتحال میں امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آئے تو ان کے ساتھ تو الیکشن جیتتے ہی امریکی اسٹیبلیشمنٹ کا گہرا تنازعہ شروع ہوگیا تھا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو ٹرمپ کی جیت ایک بہت بڑا سرپرائز تھا اور وہ بھی سب سے زیادہ امریکیوں کے لئے۔ جب امریکی اسٹیبلیشمنٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ کی جیت میں روس نے کردار ادا کیا ہے اور پھر اس کی تحقیقات بھی شروع کردی گئیں تو ٹرمپ نے اسٹیبلیشمنٹ کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے صرف داخلی محاذ پر ہی اس پر یلغار نہ کی بلکہ مشرقِ وسطی کی پالیسی کو بھی ریورس کردیا۔ اور اس عرصے میں عرب ممالک نے تیزی سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے شروع کردئے۔ کیونکہ عرب جانتے تھے کہ اگلا ڈیموکریٹ صدر آتے ہی ایک بار پھر اوباما دور والے منصوبے کو آگے بڑھائے گا۔ ٹرمپ نے جاتے جاتے جو سب سے گہرا زخم امریکی اسٹیبلیشمنٹ کو دیا وہ قاسم سلیمانی کا قتل تھا جس نے ایرانی یلغار کو بریکیں لگادیں۔

پچھلے دو سال سے امریکہ میں ڈیموکریٹ صدر برسر اقتدار ہے۔ وہ سعودی عرب سے محاذ آرائی تو کر رہا ہے اور ایران سے معاملات بہتر کرنے کی راہ پر بھی گامزن ہے مگر ان 2 سالوں میں ہی وہ امریکی تاریخ کا سب سے غیر مقبول صدر ثابت ہوچکا۔ ایک ایسا صدر جس کا فون بھی سعودی اور اماراتی شہزادے نہیں سنتے۔ یہی صدر تیل کی پیداوار بڑھانے کے مطالبے کے ساتھ کچھ عرصہ قبل سعودی عرب پہنچا مگر سعودی عرب نے چند روز قبل اوپیک پلس سے تیل کی پیداوار کم کروانے کا کارڈ کھیل دیا ہے۔ اور وہ بھی ایسے موقع پر جب جو بائیڈن روس پر لگائی گئی پابندیوں کے نتیجے میں خود امریکی شہریوں کی چیخیں نکلوا چکا۔ کیونکہ امریکی شہری اب چار گنا قیمت پر تیل خرید رہے ہیں۔ بلاشبہ بائیڈن کی کمال کی پابندیاں لگی روس پر ہیں اور چیخیں امریکیوں کی نکل رہی ہیں۔ یہ صورتحال اب صرف ایک ہی صورت میں بہتر ہوسکتی ہے کہ امریکہ یوکرین کو نیٹو ممبر بنانے کے منصوبے سے پیچھے ہٹ جائے۔

یہی وجہ ہے کہ جو بائیڈن کے لئے یوکرین گلے کا طوق بن گیا ہے۔ کیونکہ اس جنگ کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں نے سب سے زیادہ امریکہ اور یورپ کو ہی متاثر کیا ہے۔ جبکہ غذائی قلت کا چیلنج اس پر سوا ہے۔ ایسے میں روس سے یورپ کو گیس کی سپلائی بند ہوچکی ہے اور یورپینز کے پاس عربوں کے پیر پکڑنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔ گیس کے لئے سب نے قطر کا رخ کرلیا ہے جس سے قطر کی تو گویا لاٹری نکل آئی ہے جبکہ روس اپنی گیس چین کو فراہم کرنے کے منصوبے پر پہلے ہی کام شروع کرچکا۔ گویا جن عرب حکومتوں کو زمین بوس کرنے کے منصوبے پر اوباما کے دور میں کام شروع ہوا تھا وہی حکومتیں اب ان کی اشد ضرورت بن گئی ہیں اور یہ حکومتیں امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ دو روز قبل ہی امریکی صدر بائیڈن نے دھمکی دی ہے کہ سعودی عرب کو نتائج بھگنا ہوں گے مگر کر وہ کچھ نہیں سکتے۔ کچھ کریں گے تو یوکرین کی جنگ صرف یوکرین تک نہ رہے گی اور بڑھتا بحران توانائی کی قیمتیں اس سطح پر پہنچا دے گا جہاں امریکی کارخانوں کا دم گھٹنا شروع ہوجائے گا۔ اسی لئے جو بائیڈن ان دنوں یہ ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں کہ یوکرین کے حوالے سے یورپ کے علاوہ دیگر ممالک کی بھی حمایت حاصل کی جائے تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ یہ تنازعہ فقط گوری اقوام کے مفادات سے جڑا ہوا ہے۔

اسی سلسلے میں پاکستان پر بھی دباؤ ڈالا گیا کہ یوکرین کے مسئلے پر ہمارا کھل کر ساتھ دیجئے۔ یہ مطالبہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے بھی کیا گیا اور حال ہی میں امریکہ کا دورہ کرنے والے پاکستانی آرمی چیف جنرل باجوہ سے بھی۔ پاکستان میں خارجہ پالیسی فوج کے کنٹرول میں ہوتی ہے سو اس حوالے سے جنرل باجوہ کا دورہ بہت اہم تھا۔ مگر جنرل باجوہ نے بائیڈن انتظامیہ کو بھی وہی جواب دیا ہے جو وہ پاکستان کی داخلی سیاست میں اخیر المؤمنین عمران خان کو دے چکے۔بہت ہی سمپل جواب، اور وہ یہ کہ “ہم تو نیوٹرل ہیں”۔ اسی کے ردعمل میں بائیڈن نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے بیان داغ کر ہمیں ڈرانے کی کوشش فرمائی ہے، مگر اس امریکی صدر سے ہم کیسے ڈر جائیں جس سے عرب شہزادے بھی نہیں ڈرتے؟

Related Posts