بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ ہماری کوششوں کے باعث پاکستان گرے لسٹ میں ہے جبکہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت پر سیاست کرنے کے اعتراف کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے صدر سے رجوع کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کاکہنا ہے کہ پاکستان مستقل کہتارہاہے کہ بھارت نے ایف اے ٹی ایف کی سیاست کی ہے،پاکستان کے خلاف تنگ سیاسی ڈیزائن کے لئے ایک اہم تکنیکی فورم میں جوڑ توڑ بدنامی ہے لیکن مودی حکومت کے لئے حیرت کی بات نہیں۔حالیہ بیان نے بھارت کی بدنامی کو واضح کردیا ہے۔
پاکستان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ عالمی برادری کے سامنے یہ مسئلہ اجاگر کرتا آیا ہے کہ بھارت ایف اے ٹی ایف کو سیاسی طور پر استعمال کر رہا ہے اور فیٹف کے اصل مقاصد کے حصول کیلئے کوششوں کو نقصان پہنچا رہا ہے،حالیہ بھارتی بیان تعصب پر مبنی کوششوں کا حصہ ہے جبکہ بھارت اپنے تنگ نظری پر مبنی سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان کے خلاف ایک اہم تکنیکی فورم کو استعمال کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک عالمی ادارہ ہے جو حکومتوں کے درمیان عالمی مالیاتی نظام کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے اور غیر قانونی دولت کو سفید کرنے جیسے جرائم سے محفوظ رکھنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ابتداء میں یہ تنظیم صرف مالیاتی معاملات پر نظر رکھنے کے لئے بنائی گئی تھی لیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد اس میں دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی شامل کر دی گئی اور اس پر بھی مسلسل نظر رکھی جانے لگی کہ کوئی ملک کہیں دہشت گردوں کی مالی معاونت تو نہیں کرر ہا ، پاکستان 2009ء سے 2015ء تک اس لسٹ میں شامل رہ چکا ہے اور نقصان اٹھا چکا ہے۔
اس دوران پاکستان کے مالی معاملات اور قرضوں کا حصول پاکستان کے لئے انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔ا یف اے ٹی ایف نے 2015ء میں اعلان کیا کہ پاکستان ان 7 ممالک میں شامل ہے، جنہوں نے ایف اے ٹی ایف کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے 2010ء سے 2015ء تک دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے قابل تعریف اقدامات کئے ہیں،اِس لئے پاکستان سمیت دیگر 7 ممالک ایف اے ٹی ایف کی لسٹ سے نکالا جا رہا ہے، یعنی اب ان کے مالی لین دین پر کوئی نظر نہیں رکھی جائے گی،لیکن بدقسمتی سے جون 2018ء میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دوبارہ اپنی گرے لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔
گزشتہ برس پاکستان نے ایف اے ٹی ایف سے نکلنے کے لئے 27 مطالبات میں سے 14پر عمل درآمد کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود ایف اے ٹی ایف اے نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نہ نکالا جس کے بعد پاکستان سے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا گیا اور اب تو پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے 27 میں سے 26 مطالبات کو پورا کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کو گرے لسٹ میں برقراررکھا گیا ہے۔
پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے حقیقی قدم اٹھائے ہیں، کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ مذہبی و جہادی لیڈروں کو پس زندان بھی کیا ہے تاکہ اس گرے لسٹ کی لٹکتی ہوئی تلوار سے بچ سکیں لیکن حال ہی میں ہونے والے پیرس اجلاس میں پاکستان کے سر پر ایک بار پھر یہ تلوار ایسے ہی لٹکتی ہوئی چھوڑ دی گئی ہے جبکہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے اعتراف کے بعد یہ بات واضح ہوچکی ہےکہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے پیچھے کوئی حقیقی عذر نہیں بلکہ عالمی سیاسی محرکات پنہاں ہیں۔
پاکستان بارہا اس بات کا اظہار کرتا رہا ہے کہ بھارت ایف اے ٹی ایف میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے پاکستان کوغیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے اور اب بھارت کےاعتراف کے بعد پاکستان کا موقف درست ثابت ہوچکا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھارتی وزیرخارجہ کے بیان پر تمام متعلقہ فورمز سے رجوع کرے اور بھارت کی سازشوں کو بے نقاب کرے۔