رانچی: ہندوستانی پولیس نے دو مظاہرین کو گولی مار کر قتل کر دیا اور 130 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیئے جانے کے خلاف سڑکوں پر ریلیاں نکالی گئیں اوراحتجاج کیا گیا۔
گزشتہ ہفتے جب وزیر اعظم نریندر مودی کی پارٹی کے ایک ترجمان نے ایک ٹی وی ڈیبیٹ شو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیئے تو عالم اسلام میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔
مشرقی شہر رانچی میں پولیس نے ایک احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ کی جب توہین آمیز ریمارکس کے خلاف بڑی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ کے بعد احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے۔
مشرقی شہر رانچی سے تعلق رکھنے والے ایک پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا، ”پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلانے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔”
پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ ہجوم نے مسجد سے بازار تک مارچ نہ کرنے کے ان کے احکامات کی خلاف ورزی کی اور جب پولیس نے لاٹھی چارج سے ریلی کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو پولیس پر ٹوٹی ہوئی بوتلیں اور پتھر پھینکے۔
حکام نے شہر میں انٹرنیٹ کنکشن کاٹ دیئے اور کرفیو نافذ کر دیا، مقامی رہائشی شبنم آرا نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتہ کو ماحول کشیدہ رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم امن اور ہم آہنگی کے لیے دعا کر رہے ہیں،” اتر پردیش میں پولیس نے شمالی ریاست میں کئی مظاہروں کے بعد کم از کم ایک ریلی کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھیلائی۔
مزید پڑھیں:اسرائیل نے شام پر حملہ کر دیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








