بھارتی سپریم کورٹ کا انوکھا فیصلہ، 89سالہ شوہر بیوی کوطلاق دینے کے حق سے محروم

تازہ ترین

تازہ ترین

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے شادی کے بندھن کو پاک اور معتبر قرار دیتے ہوئے 89سالہ شوہر نرمل سنگھ کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کے حق سے محروم کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے عمر رسیدہ شخص نرمل سنگھ کو اس کی 82سالہ بیوی پرماجیت کو طلاق دینے سے روکتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ صرف ایک فریق کے مطالبے پر شادی ختم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

گاندھی نے کہا کہ فلسطین عربوں کی زمین ہے، مودی اسرائیل کو روکے۔اسد اویسی

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نرمل سنگھ نے پرماجیت سے 1963ء میں شادی کی۔ نرمل سنگھ کا کہنا ہے کہ 1984ء سے ہی شادی نکاام ہوگئی تھی، تب سے اپنی اہلیہ کو طلاق دینے کی کوشش کررہا ہوں جبکہ 82سالہ پرماجیت طلاق نہیں چاہتیں۔

پہلی بار 27سال قبل نرمل سنگھ نے طلاق دینے کی کوشش 1986میں کی تاہم ضلعی عدالت کی جانب سے طلاق کی منظوری کے باوجود پرماجیت کی درخواست پر اسی سال عدالت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا جبکہ سپریم کورٹ بھی طلاق پر راضی نہ ہوسکی۔

سپریم کورٹ کاکہنا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پرماجیت اور نرمل سنگھ کی شادی درست سمت نہیں جاسکتی تاہم قانونی پیچیدگیاں ایسی ہیں کہ نرمل سنگھ کو اپنی بیوی کو طلاق دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ طلاق پرماجیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ 

 

Related Posts