مہنگائی اور تنخواہ دار طبقہ

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک بھر میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ سمیت ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر گزشتہ کچھ ہفتوں سے جب حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض پروگرام کی بحالی کیلئے پیٹرولیم مصنوعات پر دی گئی سبسڈی میں کمی شروع کردی۔

وفاقی محکمۂ شماریات کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری بھرکم اضافے کے باعث مہنگائی آسمان چھونے لگی۔ مئی کے مہینے میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی ریڈنگ سال بہ سال کی بنیاد پر 13.8 فیصد ہری جو گزشتہ ماہ 13.4فیصد جبکہ مئی 2021 میں 10.9 فیصد رہی۔

رواں ماہ یعنی جون کے آخری ہفتے میں مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ دال چنا 8.02، پیاز 5.43، دال مونگ 5.21، 5 لیٹر خوردنی تیل 4.6، دال ماش 4.27، 2.5 کلوگرام گھی 3.97، انڈے 3.96، دال مسور 3.71، آلو 2.12، آٹا 2.08، تازہ دودھ 1.78 اور گائے کی قیمت میں 1.48 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاجو تنخواہ دار طبقے کیلئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے سپر ٹیکس عائد کرکے صنعتکاروں کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا ہے جس کے نتائج تنخواہ دار طبقوں کو رکی ہوئی اور کم تنخواہوں اور چھانٹی کی صورت میں بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی صورت میں برداشت کرنے پڑ رہے ہیں جو معاشرتی المیہ قرار نہ دیا جائے تو زیادتی ہوگی۔

تنخواہ دار طبقہ مہینہ ختم ہونے سے قبل ہی تنخواہ ختم ہونے کی شکایت کرتا نظر آتا ہے جس کے باعث تنخواہ داروں کو رشتہ داروں، دوست احباب اور ہمسایوں کے علاوہ دیگر ذرائع سے قرض لینا پڑتا ہے تاہم تاجر، ٹرانسپورٹرز اور دیگر شعبہ جات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صارفین تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔

حکومت نے تاحال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے از خود سبزیوں، اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کے کے کرایوں سمیت دیگر چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی فارمولہ وضع نہیں کیا جبکہ کاروباری ادارے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے مہنگائی کے اثرات سے بچ نکلتے ہیں۔

یوں حکومت امیر افرا دپر ٹیکس عائد کرکے غریبوں کو اگر کوئی معمولی سا بھی ریلیف دینا چاہتی ہے تو وہ پسماندہ طبقے اور تنخواہ داروں تک نہیں پہنچتا۔ سرکاری ملازمین کو بھی سالانہ تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں کسی نہ کسی طرح کا ریلیف مل جاتا ہے، تاہم نجی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو آجر اور حکومت دونوں نے ہی پیس کر رکھ دیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد لا کر سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کا تختہ الٹنے والی مخلوط حکومت مہنگائی کے موجودہ رجحان پر قابو پانے کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے تاکہ تنخواہ دار طبقہ، دیہاڑی دار مزدور اور پسماندہ طبقے میں شامل دیگر غریب افراد بھی اپنے اہلِ خانہ کی دو وقت کی روٹی کا اہتمام آسانی سے کرسکیں۔ 

Related Posts