امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر غیر معینہ جنگ بندی کے ساتھ ہی ایران جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
دراصل صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت سے مسائل ہیں اور ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہی حالات کے اسیر بن کر رہ جاتے ہیں، وہ اچانک جاری کیے جانے والے بیانات سے ایک دم بہت زیادہ سنسنی خیزی پھیلا دیتے ہیں لیکن اس میں ملکی مؤقف یا خارجہ پالیسی کی ترجمانی خال خال ہی نظر آتی ہے، یہ ان کے تمام تجزیہ کار، پولیٹیکل سائنٹسٹ اور سفارت کار محسوس کرتے ہیں۔ اور ایران جنگ کے دوران پیش آنے والے پے در پے واقعات سے یہ بات بھی عیاں ہوگئی کہ ٹرمپ جس طرح دھونس اور دھمکی کے انداز کے ساتھ سفارت کاری کو چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس طرح ڈپلومیسی بے ہنگم ہوجاتی ہے اور شایدانہیں جس طرح ان کی چہیتی ٹیم بریف کرتی ہے، وہ بھی درست نہیں۔
امریکا سمیت دیگر ممالک میں آبنائے ہرمز کی بندش نے جو مہنگائی ، معاشی بدحالی اور جزوی کساد بازاری پیدا کی ہے، اس پر قابو پانا آئندہ چند ماہ یا سال میں مشکل ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی میں جو غیر معینہ مدت کی توسیع کی، اس میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شامل نہیں جبکہ امریکا کی یہ ناکہ بندی عالمی قوانین کے سراسر خلاف اور مشرق وسطیٰ میں امریکا جیسی طاقت کی جانب سے قزاقی کی سی حیثیت رکھتی ہے ۔
یہ پورا تناظر اس وقت اس لیے مزید پیچیدہ ہوگیا ہے کہ خلیج میں سمندری صورتحال تیزی سے کشیدہ ہو رہی ہے اور ایران کی جانب سے براہِ راست امریکا پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے امن مذاکرات کو عملی طور پر تعطل کا شکار کر دیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ تہران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدے کا خواہاں رہا ہے، تاہم “عہد شکنی، ناکہ بندی اور دھمکیاں” کسی بھی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
امریکا کے اندر بھی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی پر اختلافات نمایاں ہیں۔ پینٹاگون میں بڑی تبدیلی کے تحت امریکی بحریہ کے سیکریٹری کو برطرف کیا گیا ہے جبکہ دیگر 34 اعلیٰ عہدیداران کی تبدیلی بھی بروئے کار لائی جاچکی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی سینیٹ نے ایران کے خلاف جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی ایک قرارداد کو مسترد کر دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن میں ایران پالیسی پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی برقرار ہے، اس وقت تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام دوطرفہ جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو غیر ملکی بحری جہازوں کو تحویل میں لیا ہے جبکہ ایک اور جہاز پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب اس نے مبینہ طور پر سمندری حدود کی خلاف ورزی کی۔
سمندری تناؤ کے ساتھ ساتھ خطے میں سفارتی جنگ بھی جاری ہے۔ امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ امن منصوبے یا جنگ بندی کے لیے کسی حتمی ڈیڈلائن کا تعین نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق فیصلہ مکمل طور پر صدر ٹرمپ کے اختیار میں ہوگا اور وہی اس کی ٹائمنگ کا تعین کریں گے۔ اسی پالیسی کے تحت واشنگٹن یہ تاثر دے رہا ہے کہ دباؤ بڑھا کر ایران کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔
دراصل باقر قالیباف کی جانب سے بیان بازی جنگ زدہ اور امریکی و اسرائیلی حملوں کے باعث خاک و خون میں لت پت ایرانی قوم کے حوصلے جوان رکھنے کیلئے کی جارہی ہے جبکہ باقر قالیباف ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا حصہ رہ چکے ہیں اور ان کے بیانات فوج کے بیانیے کو منعکس کرتے ہیں، جسے مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ جمعہ تک بات چیت ہوگی اور دوسرے دور میں ایران اور امریکا کے مابین مزید پیشرفت کا بھی امکان ہے، جس سےیہ امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں ممالک مستقل جنگ بندی کی جانب جائیں گے اور راقم الحروف بھی اس سلسلے میں کسی قدر پر امید ہے کہ پاکستان کی جانب سے ثالثی کیلئے جو کاوشیں جاری ہیں، وہ ضرور بار آور ثابت ہوں گی۔
خطے میں کشیدگی صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہی بلکہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری نازک جنگ بندی بھی دباؤ کا شکار ہے۔ امریکی اور علاقائی مذاکراتی عمل میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ حزب اللہ کی غیر موجودگی مذاکراتی فریم ورک کو کمزور بنا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا دعویٰ ہے کہ ان کا اصل اختلاف لبنان کی حکومت سے نہیں بلکہ حزب اللہ کے وجود سے ہے جو امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ ہے۔
ادھر لبنان میں اسرائیلی حملوں کے دوران صحافتی برادری بھی نشانہ بنی ہے۔ جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک معروف صحافی بھی شامل تھیں جبکہ ان کی ساتھی ایک فری لانس رپورٹر زخمی ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران بھی حملے جاری رہے، حتیٰ کہ ایمبولینس کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے باعث ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔
دوسری طرف امریکا کی جانب سے جاری بحری دباؤ کے باعث اب تک 31 بحری جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں زیادہ تر تیل بردار جہاز شامل ہیں۔ یہ کارروائی ہزاروں امریکی فوجیوں، جنگی بحری جہازوں اور فضائی وسائل کی مدد سے جاری ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ دباؤ ایران کو مذاکرات کی طرف واپس لانے کے لیے ضروری ہے، تاہم ایران اس حکمت عملی کوسیزفائر کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت سمجھتا ہے۔
موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ایران، امریکا اور ان کے علاقائی اتحادیوں کے درمیان کشیدگی ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کی امیدیں برقرار ہیں، جبکہ دوسری طرف زمینی حقائق مسلسل تصادم اور عدم اعتماد کو بڑھا رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کا انحصار نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے فیصلوں پر ہے بلکہ علاقائی قوتوں اور ثالثی کی کوششوں پر بھی ہوگا جو اس بحران کو کسی بڑے تصادم سے بچا سکتی ہیں اور پاکستان اس وقت ایران اور امریکا سے لے کر پورے مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک بات تو واضح ہے کہ دنیا آبنائے ہرمز کی وجہ سے طویل عرصے تک معاشی درد برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ اسی وجہ سے یہ قوی امید کی جاسکتی ہے کہ مستقل جنگ بندی ہونا ناگزیر ہے لیکن کب؟ یہ آنے والے چند دن بتا دیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں