کیا جنرل عاصم منیر تیار ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کچھ لوگ معاملے کی سنگینی کو سمجھ نہیں رہے۔ انہیں لگتا ہے عمرانی فتنے کی 9 مئی والی واردات سیاسی عمل میں رونما ہوجانے والا کوئی تلخ واقعہ ہے۔ کچھ دن اس کی تلخی رہے گی اور پھر سب کچھ نارمل ہوجائے گا۔

ایسا نہیں ہے۔ 9 مئی کے اثرات اس ملک کی جڑوں تک گئے ہیں، سو اب اس کے نتائج بھی طولانی ہوں گے۔ کور کمانڈر ہاؤس یا جی ایچ کیو کے گیٹ پر حملہ تو پھر بھی نسبتاً “معمولی” واقعات ہیں۔ اس دن کی وہ سنگینی جس نے پوری فوج کو ہلا کر رکھ دیا ہے 2 اور واقعات ہیں۔

آپ کو معصوم سے چہرے والے نو عمرکیپٹن اسفند یار بخاری یاد ہیں جو 2015ء میں بڈھ بیر میں شہید ہوئے تھے؟ یہ اٹک کے تھے۔ وہاں ان کے نام سے ایک چوک موسوم تھا جس پر ان کے نام کی تختیاں لگی تھیں۔ ایک یاد گار بھی تھی شاید۔ 9 مئی کو عمرانی فتنے نے پہلے کیپٹن اسفندیار شہید کے نام پر کالک ملی اور پھر وہ بورڈز توڑ کر سڑک پر پھینک دیئے۔ یہ کیپٹن اسفندیار شہید کے والد کیلئے بیٹے کی شہادت سے بھی بڑا واقعہ تھا۔ بیٹے کی شہادت پر تو شاید انہوں نے الحمدللہ کہا ہو کہ ملک پر قربان ہونے والوں کے والدین کو ایسا ہی پایا ہے۔ مگر بیٹے کے نام پر ملی  کالک اور اس کے نام کے ٹوٹے بورڈز نے اس باپ کا سینہ ہی چیر دیا۔ کیپٹن اسفند یار کے والد نے ان بورڈز کی تصاویر فیس بک پر پوسٹ کرکے لکھا

“بیٹا تو شہید ہوگیا اور ہم زندہ رہ گئے، اس ذلت کو برداشت کرنے کو”۔

ظاہر ہے کیپٹن اسفندیار بخاری کے کورس میٹ اور یونٹ کے ساتھ  ان کے والد کے ساتھ فیس بک پر ایڈ تھے۔  یوں لمحوں میں یہ پوسٹ جونیئرز سے ٹاپ اور بالکل ٹاپ یعنی جنرل عاصم منیر تک جا پہنچی۔ اور پوری فوج زلزلے کے ایک بڑے جھٹکے سے گزری۔ جنرل عاصم  منیر اور ان کے نیچے موجود پوری چین آف کمانڈ کے لئے اس واقعے اور شہید کے والد کی پوسٹ نے اپنے نوجوان جونیئر آفیسرز سے آنکھیں ملانا امتحان کی گھڑی بنا دیا ہے۔ اور وہ یوں کہ بلوچستان سے خیبر پختونخوا تک دہشت گردوں سے آج بھی برسرِ پیکار ان نوجوان آفیسرز کی آنکھوں میں 9 مئی کے بعد سے ایک ہی سوال ہے۔  بہت سادہ، مگر لرزا دینے والا سوال

“سر ! اگر میں اس ملک پر قربان ہوگیا تو کیا یہ قوم میرے ساتھ  بھی یہی سلوک کرے گی؟ اور کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہوگا؟”

کیپٹن اسفندیار بخاری کا نوعمری کے سبب ہم نے تفصیل سے تذکرہ کیا۔ ورنہ یہی سب کچھ کیپٹن کرنل شیر خان کے حوالے سے بھی ہے۔ عمرانی فتنے کی بدبختی اس درجے کو پہنچی ہوئی ہے کہ اتنا بھی نہیں سوچا کہ کیپٹن کرنل شیر خان تو وہ شیر جوان تھا جس سے برسر پیکار بھارتی بریگیڈئر بھی اسے خراج عقیدت پیش کئے بنا نہ رہ سکا تھا۔ اور نشان حیدر بھی کیپٹن کرنل شیر خان کو انہی بھارتی بریگیڈئر کی تجویز پر ملا تھا۔ گویا اس کی دلیری کی گواہی دشمن نے دی تھی۔ وہ چار دن خالی پیٹ مورچے میں آخری گولی تک لڑا تھا۔ سو فوج کے نوجوان آفیسرز کی آنکھوں میں موجود مذکورہ سوال کیپٹن کرنل شیر خان کے حوالے سے بھی ہے جن کے مجسمے کی توہین کی گئی تھی۔

یوں اب جنرل عاصم منیر، پاک آرمی کی پوری کمانڈ، حکومت وقت اور پاکستانی قوم پر اس لرزا دینے والے سوال کا جواب اُدھار ہو گیا ہے۔ ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم ہمارے لئے قربان ہونے والوں کی ناموس کی حفاظت کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اگر ہم نہیں کرسکتے اس ناموس کی حفاظت تو پھر یہ بچے ہم پر کیوں قربان ہوں؟ انہیں تو چاہئے ہم پر لعنت بھیجیں اور اگر ہم کر سکتے ہیں ان معصوم شہیدوں کی ناموس کی حفاظت تو پھر ہمیں یہ بکواس بند کرنی ہوگی کہ “ایک سیاسی جماعت پر پابندی درست عمل نہیں ہوگا” پی ٹی آئی 9 مئی کے بعد سے سیاسی جماعت نہیں ہے۔ اگر فوج کور کمانڈر ہاؤس اور جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کو معاف کرنا چاہے تو کردے۔ ہم اس فیصلے کو قبول کرلیں گے۔ لیکن شہدا کی توہین کے مجرم ہمیں ہر حال میں پھانسی کے پھندے پر چاہئیں۔

انہیں موت کے علاوہ کوئی بھی سزا دینا اس بات کا اظہار ہوگا کہ ہم اپنے شہیدوں کی ناموس کی حفاظت نہیں کرسکتے۔ اور سزا پر عملدرآمد بھی جیل کی بلند فصیلوں کے پیچھے نہ کیا جائے بلکہ ہر مجرم کو عین اس مقام پر پھانسی دی جائے اور عمران خان کو موقع پر حاضر رکھ کر دی جائے، جہاں اس نے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ ہر شہید کی یادگار پھر سے تعمیر کی جائے اور اس یادگار کے مقابل بڑے سائز کے بل بورڈز پر اس شہید کے مجرموں کی پھانسی لگی تصاویر پینٹ کرائی جائیں تاکہ مستقبل کے نیازیوں کے لئے عبرت بن سکے۔

ایک بات اور ہے جو جنرل عاصم منیر کو سمجھنی ہوگی۔ اور وہ یہ کہ یہ انتہا پسند ٹولہ محض عمران خان کی تربیت سے وجود میں نہیں آیا تھا۔ عمران خان اپنی فورس تیار کرنے کی اہلیت رکھتا تو وہ 1995ء سے 2010ء تک خوار کیوں پھر رہا ہوتا؟ اس فتنے کے اصل اتالیق وہ ہیں جن کی اپنی تربیت کی بنیادیں کاکول میں ڈلی تھیں۔ وہی کاکول جس کے فارغ التحصیل جنرل عاصم منیر نہیں ہیں تو اپنے پیش روؤں سے مختلف ہیں۔ عمران خان کو جب تک کاکول کے فیض یافتہ یاتھ نہیں ملے تب تک وہ یہ فتنہ تیار کرنے میں مکمل ناکام تھا۔ سو 9 مئی کے مجرموں کو اگر پورے احاطے کے ساتھ عبرت کی مثال نہیں بنایا گیا تو عبرت قائم نہیں ہوگی۔

کیپٹن اسفندیار بخاری اور کیپٹن کرنل شیر خان کے مجرم صرف سویلینز نہیں ہیں۔ جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید اس واقعے میں برابر کے شریک تھے۔ یہ ان کی دی ہوئی سوچ تھی اور تربیت تھی جس نے 9 مئی کو پوری شدت کے ساتھ اپنا اظہار کیا۔ اگر آپ باوردی یوتھیوں کو مجرموں میں شامل نہیں کریں گے تو اس مطلب یہ ہوگا کہ اتنے بڑے واقعے کے بعد بھی آپ قومی سوچ پر نہیں آسکے۔ اب بھی آپ بلڈی سویلیئنز اور مقدس فوج کی تفریق کے قائل ہیں۔ ہمیں اپنے مجرموں سے قوم بن کر نمٹنا ہوگا۔ ہم تو تیار ہیں۔ سوال بس یہ ہے کہ کیا جنرل سید عاصم منیر بھی تیار ہیں؟

Related Posts