معاشی بدحالی

تازہ ترین

تازہ ترین

بیک وقت بہت سے بحرانوں کا سامنا کرنے والے ہمارے وطن پاکستان میں معاشی بدحالی کے خاتمے کے امکانات بہت کم ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بھاری بھرکم قرض، گرتی ہوئی شرحِ نمو اور زرِ مبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی معیشت کی سسکتی، تڑپتی اور بلکتی صورتحال کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔

گزشتہ برس پاکستان میں سیلاب نے جو تباہی مچائی جس کے نتیجے میں 1 ہزار 700 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو گئے، اس کے بعد بھی دہشت گردی کی صورت میں ہمارے مختلف شہروں میں تباہی و بربادی کا یہ سلسلہ ابھی تھما نہیں اور مسلسل جاری ہے۔

حالیہ گیلپ پول سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ سیاسی مشکلات کا تعلق پاکستان کے معاشی بحرانوں سے ہے۔ صرف 16 فیصد پاکستانی یہ بے بنیاد یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری آرہی ہے۔

سروے میں کہا گیا کہ 86 فیصد پاکستانیوں کی رائے یہ ہے کہ حکومت بدعنوان ہے۔ 80 فیصد سوچتے ہیں کہ کارپوریٹ سیکٹر میں بدعنوانی ریکارڈ سطح پر ہے اور یہ حیرت کی بات بھی نہیں کہ روپے کی تاریخی گراوٹ، ریکارڈ مہنگائی، بے روزگاری اور گرتی ہوئی شرحِ نمو کے پیشِ نظر زیادہ تر لوگ اس قدر مایوسی کا شکار ہوجائیں، تاہم یہ صورتحال اس سے بد تر ہے کہ بے بنیاد طور پر ہی سہی، لوگوں کی ایک خاص تعداد یہ یقین رکھے کہ جلد ہی معیشت میں بہتری ضرور پیدا ہوگی۔

دراصل ملکی معیشت برسوں کی مالی بدانتظامیہ اور سیاسی افراتفری کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ ضرورت سے زائد اخراجات، غیر ملکی قرضوں اور امداد پر زیادہ انحصار کے باعث پاکستان کا بجٹ بدحال اور معیشت بد ترین تجارتی خسارے کا شکار ہے۔ مزید برآں، بدعنوانی اور ناقص گورننس کے باعث عوام کا سرکاری اداروں اور حکومت پر سے اعتماد بے حد کم ہوچکا ہے۔

ابھی گزشتہ برس ہی عمران خان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی گئی اور نئی آنے والی حکومت نے معاشی بحالی کا وعدہ کرتے ہوئے معیشت کی پٹڑی کو راہ پر لانے کے بلند بانگ دعوے کیے تاہم جلد یہ واضح ہوگیا کہ موجودہ حکومت کی بنیادی حکمتِ عملی گزشتہ حکومت پر تنقید کے سوا کچھ نہ تھی۔ ایک سال کے اندر اندر شہباز شریف حکومت نے معاشی ترقی کی رفتار کو عمران خان دور کے 6 فیصد شرحِ نمو سے 0.3 فیصد تک گرا دیا۔

یوں ن لیگ کی زیرِ قیادت پی ڈی ایم حکومت ملک کیلئے غیر معمولی معاشی تباہی اور خودمختار ڈیفالٹ کے حقیقی امکان کے تناظر میں کوئی اقتصادی حل تلاش کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ حکومت قرضوں اور عطیات کی تلاش میں ہے جس سے سیاسی اشرافیہ کی اقتدار سے متعلق خود غرضی اور ہوس بے نقاب ہوتی ہے۔

ضروری ہے کہ پاکستان اپنے معاشی بحران اور اس کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کیلئے فوری اور جامع اقدامات اٹھائے۔ ملک کو درپیش سلامتی کے خدشات سے نمٹنے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان مزید مایوسی اور انتشار کا شکار ہوسکتا ہے۔ 

 

Related Posts