گزشتہ چند سالوں میں، پاکستان نے اپنی مناسب زرعی پالیسیوں کی وجہ سے غذائی سرپلس ملک کا درجہ حاصل کیا ہے جس کی وجہ سے ملک کو خطے میں گندم کا ایک بڑا پیدا کنندہ بننے میں مدد ملی ہے۔
ایک زرعی ملک کے طور پر پاکستان کے زرعی شعبے نے اپنی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں 24 فیصد حصہ شامل کیا ہے، جس سے یہ ہماری معیشت کا ایک اہم عنصر بنتا ہے۔ اس کے علاوہ اس شعبے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ زرمبادلہ کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پوری دیہی اور شہری آبادی کا پیٹ پالنے کا ذمہ دار بھی یہی شعبہ ہے۔ پاکستان کی 20.5% آبادی غذائی قلت کا شکار ہے، 5 سال سے کم عمر کے 44% بچے خوراک کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ساتھ ہی وزیر خوراک کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 2.37 ملین میٹرک ٹن خالص گندم کے خسارے کا سامنا ہے۔ اس وقت پاکستان کو آٹے کا بدترین بحران درپیش ہے اور ملک کے بعض حصوں میں گندم کی قلت کی اطلاع ہے۔ عالم یہ ہے کہ آٹے کا ایک پیکٹ 3000 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ گلی محلوں میں آٹے کے لیے لڑائیاں اور جھگڑے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
اب ایک اور آفت آنے والی ہے اور وہ ہے خوراک کا ایک بڑا اور وسیع بحران اور یہ بحران فصلوں، مویشیوں اور زرعی اراضی کو ہونے والے نقصان کے نتیجے میں سر اٹھا رہا ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو اپنے خوراک کے مسائل کے ساتھ ساتھ اور ان ممالک کا پیٹ بھرنے کے لیے بھی سخت جدوجہد کرنا ہوگی جو پاکستان کی خوراک کی برآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان میں پنپنے والا خوراک کا بحران عالمی فوڈ مارکیٹ کو بھی شدید متاثر کرے گا، جبکہ یہ کورونا اور یوکرین جنگ کی وجہ سے عالمی خوراک مارکیٹ پہلے ہی بحرانی کیفیت کی زد میں ہے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق پاکستان کی 65 فیصد اہم غذائی فصلیں بشمول 70 فیصد چاول سیلاب کے دوران بہہ گئے اور 30 لاکھ مویشی ہلاک ہو گئے۔ پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 45 فیصد زرعی زمین تباہ ہو چکی ہے۔ پاکستان کے کل رقبے میں سے 40 فیصد سے بھی کم رقبہ قابل کاشت ہے اور اس میں سے بھی زمین کا کٹاؤ بہت سے مقامات پر زرعی اراضی کو بھاری نقصان پہنچاتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قابل کاشت زرعی رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔
گندم پاکستان کی سرفہرست خوراک کی فصل ہے، پاکستان کے 90 فیصد سے زیادہ گھرانے گندم استعمال کرتے ہیں لیکن اتنی زیادہ زرعی اراضی کو سیلاب میں نقصان پہنچنے سے لا محالہ گندم کی فصل میں بھی خاصی کمی آئی ہے، جو بحران کی سنگینی کا واضح اشارہ ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ ان کی زمین اگلے تین مہینوں میں قابل استعمال نہیں رہے گی۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کو ممکنہ طور پر مزید خوراک درآمد کرنا پڑے گی، جس سے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور ملک کے توازن ادائیگی کا بحران مزید خراب ہو سکتا ہے۔ سیلاب سے پہلے اشیائے خوردونوش کی مہنگائی 26% تھی، مگر پس از سیلاب حالیہ دنوں میں بہت سی چیزوں کی قیمتوں میں 500% تک ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی کی یہ آسمانی سے باتیں کرتی شرح ان شہروں میں بہت زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے، جہاں غریب اور محنت کش آبادی زیادہ ہے۔ ایسے میں یہ امر خارج از امکان نہیں کہ ایسے علاقوں میں مہنگائی کے باعث شدید بے امنی اور انتشار کی صورتحال پیدا ہو۔ دیہی علاقوں میں اس کا امپیکٹ ذرا مختلف طریقے سے ظاہر ہوگا۔ دیہی علاقوں میں پاکستان کی تقریباً دو تہائی آبادی بستی ہے۔ ان دیہی علاقوں میں مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث دیہی آبادی کے پاس زرعی زمین مسلسل کم ہو رہی ہے، جو خوراک کے حوالے سے وسیع پیمانے پرعدم تحفظ کا احساس بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال صحت عامہ کے چیلنج کو بڑھا سکتا ہے۔ ناقص غذائیت بھی اسی سے جڑا ہوا ایک سلگتا ہوا مسئلہ ہے، جس کے اپنے سنگین اثرات سر اٹھا رہے ہیں۔
پاکستان عالمی سطح پر چاول کا چوتھا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے، جس کے خریدار چین سے لے کر صحارا افریقہ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اب زرعی اراضی کو پہنچنے والے بڑے نقصان کے نتیجے میں یہ خدشہ واضح ہے کہ چاول کی برآمدات میں بھی کمی آئے گی، جس سے نہ صرف پاکستان بڑے زر مبادلہ سے محروم ہوجائے گا بلکہ پاکستان سے چاول درآمد کرنے والے بھی محروم رہیں گے۔
بہت سے عوامل ہیں جو خوراک کے بڑھتے ہوئے بحران کے ذمہ دار ہیں۔ اگرچہ پاکستان گلوبل وارمنگ کا باعث بننے والے کاربن کے اخراج میں دنیا کے سب سے چھوٹے شراکت داروں میں سے ایک ہے، لیکن گزشتہ چند سالوں میں پاکستان شدید سیلاب سے متاثر ہوا ہے، جس سے 13 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے، جس میں زرعی اراضی سے لیکر مویشی تک کا نقصان شامل ہے۔ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ بھی ایک وجہ ہے کہ ہمارے جیسے تیسری دنیا کے ممالک کو اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے یہ غریبوں کے لیے ناقابل رسائی بن جاتی ہیں۔ ملک کو ہمیشہ کھاد کی قلت کا سامنا رہتا ہے، یا تو طلب اور رسد کے سلسلے میں حکومتی دور اندیشی کے فقدان کی وجہ سے یا پھر ان ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے جو لاکھوں ٹن کھاد کو ناجائز منافع کمانے کے لیے ذخیرہ کرلیتے ہیں۔
ایک اور وجہ پانی کی عدم دستیابی ہے۔ سیمنٹڈ نہری نظام کی عدم موجودگی کے باعث زیادہ تر پانی زمین میں جذب ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ آبی ذخائر میں کمی نے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔ چونکہ پانی زیادہ زرعی پیداوار کے لیے سب سے زیادہ اہم عنصر ہے، اس لیے گرمیوں میں اس کی عدم دستیابی کا مطلب یہ ہے کہ اگلے سال فصلیں کم دستیاب ہوں گی۔ بڑھتی ہوئی آبادی کی بنا پر مانگ میں اضافہ اور فصلوں کی کم پیداوار کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں طلب اور رسد کا بحران پیدا ہوگا۔ اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اور وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بھی ہے۔ پاکستان کی تقریباً 90 فیصد آبادی گندم پر انحصار کرتی ہے جو اس کی بنیادی خوراک ہے تاہم روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسرے ممالک پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
بے قابو آبادی پاکستان کو درپیش ایک اور چیلنج ہے۔ ملک اپنے قلیل وسائل اور محدود پیداوار کی وجہ سے بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات پورا کرنے سے قاصر ہے۔ ملک میں خوراک کی مختلف اشیاء کی قیمت میں پچھلے سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 31.70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ خوراک کی پیداوار کی لاگت میں اضافہ کم استطاعت والوں کو مسلسل غربت کی لکیر کی طرف دھکیل رہا ہے۔ خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے ضرروی ہے کہ این ایف ایس پی میں درج پالیسی پر ہر صورت عمل کیا جائے۔ یہ پالیسی ایک جامع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ کاشتکاروں کو زرعی اوزاروں سے آراستہ کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ فصلوں کے معیار اور مقدار کو بہتر بنانے کے لیے کسانوں کو بین الاقوامی خطوط پر تربیت بھی فراہم کرنی چاہیے، تاکہ وہ کاشتکاری کی جدید تکنیکوں کے بارے میں جان سکیں اور روایتی کاشتکاری سے چھٹکارا حاصل کریں۔ یہ عمل مستحکم اور مناسب خوراک کی پیداوار کو یقینی بنائے گا اور کاشتکاروں کو برآمدات کی صورت میں بڑے زر مبادلہ کے حصول کے مواقع دے گا۔ ان عملی اقدامات سے حکومت پاکستان کی زراعت میں پائیداری کو یقینی بنا سکتی ہے جس کا واضح مطلب ہے زیادہ روزگار، مضبوط معیشت اور پاکستان کی آبادی کے لیے سرپلس خوراک کے ذرائع!
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں