جعفرایکسپریس دہشت گرد حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان افغانستان میں ہلاک ہوگیا ،گل رحمان المعروف استاد مرید جو بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد تھا، 17 ستمبر 2025 کو صوبہ ہلمند میں پراسرار حالات میں مارا گیا۔
کابل سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گل رحمان بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الہندوستان (مجید بریگیڈ) کا تربیتی ماہر اور عملی کمانڈر تھاجو پاکستان کی سیکورٹی فورسز، معصوم شہریوں، چینی باشندوں اور مختلف اداروں پر متعدد حملوں میں ملوث رہا۔
ذرائع نے واضح کیا کہ اس کی ہلاکت ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کرتی ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہورہی ہے۔
یاد رہے کہ 11 مارچ 2025 کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفرایکسپریس، جس میں 380 مسافر سوار تھے، جس کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے یرغمال بنا لیا تھا۔
اس واقعے میں 64 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 18 فوجی اہلکار بھی شامل تھے جبکہ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے 33 حملہ آوروں کو ہلاک کیا تھا۔
پنڈی بھٹیاں میں اکیڈمی کی چھت گرنے سے 8 افراد جاں بحق، 5 بچے شامل
امریکا نے اگست میں بلوچ لبریشن آرمی اور اس کے ذیلی دھڑے مجید بریگیڈ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ دونوں گروہ پاکستان میں مسلسل خونریز حملوں میں ملوث ہیں، اسی بنا پر انہیں امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ 219 اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت باضابطہ دہشت گرد قرار دیا گیا۔
مزید یہ کہ مجید بریگیڈ کو بھی بی ایل اے کے پرانے نام کے ساتھ عالمی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ بی ایل اے کو 2019 میں پہلی بار دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا تھا اور تب سے یہ گروہ پاکستان میں کئی بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا آیا ہے۔
سال 2024 میں بی ایل اے نے کراچی ایئرپورٹ کے قریب اور گوادر پورٹ اتھارٹی کمپلیکس پر خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
مارچ 2025 میں اسی گروہ نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفرایکسپریس کو یرغمال بنانے کا اعلان کیا، جس میں 31 شہری اور سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ 300 سے زائد افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








