اپریل 2022ء کے آغاز میں عمران خان تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل کئے گئے تو اگلے روز سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز اپلوڈ ہوئیں جن پر لگے کیپشن میں پی ٹی آئی کے متعلقین نے یہ انکشاف تک کر ڈالا کہ لاکھوں لوگ حکومت کی برطرفی پر سڑکوں پر آگئے ہیں۔ خدا علیم ہے کہ ہم نے آج تک کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے یہ گواہی دی ہو کہ اس شام اس نے ملک کے فلاں شہر کے فلاں علاقے میں عوام کا کوئی جم غفیر دیکھا تھا لیکن سوشل میڈیا پر دکھانے کو منجمد و غیر منجمد ہر دو طرح کے عکسی مناظر موجود تھے۔
اب یہ تو ہمیں خود عمران خان ہی ایک جلسے میں عملی شکل میں دکھا چکے کہ جعلی تصاویر کیا ویڈیوز تک کس طرح بنائی جا سکتی ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے جو ویڈیو شیئر کی تھی اس سے متعلق انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ انہوں نے ہی قوم کی آگہی کی نیت سے بنوائی ہے۔
جب عمران حکومت کی برطرفی پر احتجاج کرتے جم غفیر سوشل میڈیا پر دکھا دیئے گئے تو ظاہر ہے اس جم غفیر کے لئے خان صاحب کو خود بھی سڑکوں پر آنا ہی پڑا، یہ اسی کی تو تیاری تھی۔ اگر غور کیا جائے تو سڑکوں پر آنے کی تیاری وہ اقتدار کے آخری دنوں میں ہی پکڑ چکے تھے۔
مارچ کے آخر میں منعقدہ اسلام آباد والے جلسے میں تو وہ اس کے لئے “سازشی بیانیے” کی بنیاد بھی رکھ چکے تھے۔ یوں شروع ہوئی وہ تحریک جس کے دوران خان صاحب کی جانب سے کی گئی ہر تقریر میں تین باتوں پر خصوصی زور تھا۔ پہلی یہ کہ ان کی حکومت امریکہ نے ختم کرائی ہے۔ دوسری یہ کہ اس سازش میں ساتھ دینے کی وجہ سے جنرل باجوہ میر جعفر ہیں۔ اور تیسری یہ کہ اس سازش کے نتیجے میں بننے والی پی ڈی ایم حکومت امپورٹڈ حکومت ہے۔
جہاں تک اس تحریک کے اغراض و مقاصد کا تعلق ہے تو مقصد بس ایک تھا۔ اور وہ یہ کہ جلد انتخابات کروا کر واپس حکومت میں آنا ہے تاکہ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنا کر دس سالہ منصوبے والا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔
نہایت قابل غور بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے ابتدائی ایام میں ہی یہ بات معتبر حلقوں میں کہی جا رہی تھی کہ اسٹیبلیشمنٹ نے سیاست سے کنارہ کشی اس شرط پر اختیار کی ہے کہ مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف اگلا الیکشن نہیں لڑیں گے۔ مریم نواز شریف پی ڈی ایم کی موجودہ حکومت میں وزیر اعظم ہاؤس سے دور رہیں گی۔
گویا پی ڈی ایم اچانک فوج کی ڈارلنگ نہیں بن گئی تھی بلکہ مجبوری کے تحت فریقین نے گیو اینڈ ٹیک کیا تھا۔ جلد ہی یہ باتیں بھی سامنے آنے لگ گئیں کہ اسٹیبلیشمنٹ فوری انتخابات چاہتی ہے۔ اس پر پی ڈی ایم رضامند بھی ہوگئی اور مئی کے آخر میں اس کا اعلان بھی ہونے لگا کہ خان صاحب نے فورا لانگ مارچ کا اعلان کردیا تاکہ یہ باور کرایا جاسکے کہ انتخابات اسٹیبلیشمنٹ اور پی ڈی ایم کے مابین کسی مفاہمت کا نہیں بلکہ ان کے لانگ مارچ کا نتیجہ ہیں۔
یوں پی ڈی ایم حکومت انتخابات والے پروگرام سے پیچھے ہٹ گئی۔ خان صاحب کا لانگ مارچ دن بھر خیر آباد پل کے اس پار سہولت کاروں کا انتظاری رہا۔ اور بالآخر شام کو سہولت کاری مہیا ہوگئی۔ یوں وہ اسلام آباد کے ڈی چوک آئے اور کچھ درخت نذر آتش کرکے چلتے بنے۔ جاتے ہوئے چھ دن بعد پھر آنے کی دھمکی بھی دے گئے۔
یقینی انتخابات ہاتھ سے نکلے اور لانگ مارچ کا پول بھی کھل گیا تو دباؤ بڑھانے کے لئے خان صاحب نے غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی مہم تیز سے تیز تر کردی۔ اور اس میں دن بدن نئی شدت لاتے گئے۔ مگر چھ دن بعد پھر آنے والے اعلان پر عمل کی ہمت نہ جٹا پائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جو پی ڈی ایم تب تک فوج کی مجبوری تھی وہ دھیرے دھیرے فوج کی ضرورت بنتی چلی گئی۔
آنے والے ایام میں خان صاحب روز فوج پر ایک نیا حملہ کردیتے جس کے نتیجے میں پی ڈی ایم روز فوج کی مزید ضرورت بن جاتی ۔ یہاں تک کہ صورتحال اس مقام پر پہنچ گئی جہاں چاہت کی شدت میں ایک دوسرے سے کہنا شروع کردیا جاتا ہے کہ جانو ! میں تمہارے بغیر نہیں جی سکتا۔ یوں پی ڈی ایم اور فوج میں باقاعدہ رومانس چل پڑا۔ اور جب یہ رومانس اس سطح پر جا پہنچا جہاں ایک نے دوسرے سے کہا
غرور مے کشی کی کونسی منزل ہے یہ ساقی
چھنک ساغر کی آوازِ خدا معلوم ہوتی ہے
تو فوج نے طے کرلیا کہ خان صاحب کو سیاسی میدان میں ٹکر دینے کے لئے نواز شریف کو اتارنا ہی وقت کا اولین تقاضا ہے۔ چنانچہ بات چل پڑی یکساں مواقع کی۔ یکساں مواقع کے تحت عمران خان کو آپشن دی گئی کہ وہ فارن فنڈنگ کیس میں نااہلی کے بعد پی ڈی ایم سے مل کر آئین میں ترمیم کروا لیں۔ اس ترمیم کے تحت آئین کی وہ دفعہ ہی ختم کردی جائے جس کے تحت نواز شریف، جہانگیر ترین اور عمران خان نااہل ہوئے۔
اور اگلے الیکشن میں ایک دوسرے سے شفاف مقابلہ کرلیں۔ مگر خان صاحب شفاف مقابلے پر یقین کہاں رکھتے ہیں ؟ سو ان کی سوئی اسی دس سالہ منصوبے پر اٹکی رہی جس کا خواب بکھر چکا تھا مگر وہ اس کی کرچیاں جوڑنے کے لئے بضد تھے۔ ان کی اسی ضد بازی کے نتیجے میں نومبر آگیا مگر نومبر سے قبل انتخابات نہ آئے۔
یہ بات تو ستمبر میں ہی واضح ہوگئی تھی کہ نومبر سے قبل انتخابات والا خواب بھی چکنا چور ہوگیا سو خان صاحب نے فروری یا مارچ میں انتخابات کی ضد شروع کردی۔ اور ساتھ ہی یہ شرط بھی رکھ دی کہ تب تک جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دیدی جائے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے مربی کو آرمی چیف لگانے کا خواب بدستور دیکھ رہے ہیں۔
اس پوری مہم کے دوران وہ یہ سمجھتے رہے کہ فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف ہرزہ سرائی انہیں فائدہ پہنچا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ منزل مراد تک پہنچ جائیں گے۔ مگر فی الحقیقت وہ اپنے سیاسی کیریئر کے لئے اپنے ہی ہاتھوں قبر کھودتے رہے۔ یہ سیاسی موت ہی تو ہے کہ وہ سازشی بیانیے سے دستبردار ہوگئے، مرضی کا آرمی چیف لگانے کا شوق بھی ناتمام رہ گیا، حتی کہ فیس سیونگ تک حاصل نہ کرپائے۔
مگر بات صرف اتنی سی نہیں کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر کی قبر کھودی ہے بلکہ لگے ہاتھوں نواز شریف کو فوج کی اولین ضرورت بھی بنا دیا ہے۔ نواز شریف کے خلاف سنائے گئے فیصلے تو پہلے ہی انصاف کے نام پر ایک سنگین مذاق ہیں۔ کیس پاناما کا سزا اقامے پر اور بلیک لاء ڈکشنری کی روشنی میں دیئے گئے فیصلے ریورس ہونا کوئی مشکل کام نہ ہوگا۔
جبکہ دوسری جانب خان صاحب کی سیاسی تدفین کا عمل تو ابھی سے شروع ہوچکا۔ توشہ خانے سے تو انہوں نے اور بھی بہت کچھ بیچا ہے۔ لیکن غور کریں تو گھڑی سیاسی منظر نامے پر چھا گئی ہے۔ سیاست میں علامت کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔
گھڑی کو علامتی حیثیت دلوانے والے یہی اشارہ کر رہے ہیں کہ خان صاحب ! افسوس آپ کا وقت سماپت ہوگیا۔ اس دوران نہ تو آپ چار میں سے دو آپشنز کا فائدہ اٹھا سکے، نہ دوست کو فون کرنا کار آمد رہا، نہ لانگ مارچ کی صورت آڈینز پول کسی کام آیا اور نہ ہی آپ کسی ماہر کے مشورے پر کان دھر سکے۔ ہاں کروڑ پتی آپ ضرور بن گئے ہیں مگر یہ کون بنے گا کروڑ پتی کا نہیں بلکہ سیاست کا کھیل تھا۔ اس کھیل میں کروڑ پتی ہی تو نہیں بننا تھا۔ اب نتائج بھگتنے کی تیاری پکڑیں !
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں