موسمیاتی نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں رواں برس سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جس کے اثرات تاحال پورے ملک پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ سیلاب متاثرین تاحال امداد کے منتظر ہیں اور بیرونِ ملک سے آنے والی امداد میں اضافے کیلئے عالمی برادری سے اپیلیں جاری ہیں۔

اگر سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی بات کی جائے تو پاکستان میں کم و بیش ساڑھے 3 کروڑ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔ ڈیڑھ ہزار سے زائد شہری جاں بحق، ہزاروں افراد زخمی اور ہزاروں مویشی ہلاک ہو گئے۔ سیکڑوں کلومیٹر طویل سڑکوں کو نقصان پہنچا۔

تیز بارشوں سے پانی کی سطح مسلسل بلند رہی اور پھر سیلاب رابطہ پل بھی بہا کر لے گیا جس سے متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ ملک کے دیگر شہروں سے کٹ گیا۔ گزشتہ روز بلوچستان اور دیگر صوبوں کے مابین ٹرین سروس بحال ہوئی۔

اتوار کے روز پاکستانی میڈیا پر یہ خبر سامنے آئی کہ موسمیاتی نقصانات کے ازالے کیلئے فنڈ قائم کردیا گیا ہے۔ مصر میں اقوامِ متحدہ کے کوپ 27 اجلاس میں تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔

کوپ 27 اجلاس میں فنڈ کے قیام کے اعلان کے بعد یہ توقع کی جارہی ہے کہ پاکستان میں سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیرِ نو میں بڑی مدد مل سکے گی۔ پاکستان نے بھی معاہدے کا خیر مقدم کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہوئے کوپ 27 میں ہونے والی پیشرفت کا خیر مقدم کیا۔

اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فنڈ کا قیام موسمیاتی انصاف کے ہدف کی طرف پہلا اہم قدم ہے۔ وزیرِ موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کوپ 27 کیلئے پاکستان کی جانب سے کاوشوں کا احوال بھی ٹوئٹر پیغام میں واضح کردیا۔

وفاقی حکومت عالمی برادری سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے امداد کی اپیلیں تو کر رہی ہے، تاہم تاحال سیلاب زدہ افراد کی جزوی بحالی بھی ہوتی نظر نہیں آتی جبکہ  وفاقی حکومت کے اہم وزراء غیر ملکی دوروں اور سیاسی بیان بازی پر توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔

دوسری جانب سیلاب متاثرین گھر کی چھتوں سے محروم بے سہارا زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ متعدد سیلاب زدگان نے صوبائی و وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں اور یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ سیلاب زدگان کیلئے آنے والی غیر ملکی امداد آخر کہاں جارہی ہے؟

سردی کا موسم شروع ہوچکا ہے جس سے انسانی المیہ کسی بھی وقت سامنے آجانے کا خدشہ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سیلاب متاثرین کی حقیقی ضروریات کا ادراک کرے اور سیلاب متاثرین کی حقیقی بحالی کا عمل ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔

 

Related Posts