موجودہ شہباز شریف حکومت کے زیرِ سایہ چور پولیس کا کھیل جاری ہے۔ وقت نے وہ دن بھی دکھائے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور میں بادشاہ بنے ہوئے سابق اراکینِ اسمبلی چوروں کی طرح چھپتے پھر رہے ہیں۔
سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے موجودہ نگراں حکومت سے تھوڑی دیر تک تو کامیابی کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیلا، تاہم پنجاب پولیس نے حکمتِ عملی کے ساتھ ان کو بھی پہلے ایک بار اور پھر دوسری بار گرفتار کر لیا۔
دوسری بار گرفتاری موجودہ دورِ حکومت میں اتنی بار ہوئی ہے، کہ ہر بار جب پی ٹی آئی کے کسی رہنما کو عدالت رہائی کا پروانہ تھماتی ہے تو عوام کی بڑی تعداد آوازے کسنے لگتی ہے کہ کیا فائدہ ایسی رہائی کا؟ پولیس تو پھر پکڑ لے گی، دیکھنا یہ دوسری بار گرفتار ہوجائیں گے۔
یہاں قارئین کے ذہنوں میں یہ سوال جنم لے سکتا ہے کہ اراکینِ اسمبلی کو چوروں کی طرح چھپنا کیوں پڑ رہا ہے؟ پی ٹی آئی کے دور میں تو موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف ، ان کے بڑے بھائی نواز شریف اور دیگر ن لیگی و پی ڈی ایم رہنما چور کہلاتے تھے، آج چور چور کہنے والوں کو چھپنے کی جگہ تک نہیں مل رہی؟
دراصل جی ایچ کیو، جناح ہاؤس اور ریڈیو پاکستان کی عمارات کو جس طرح نشانہ بنایا گیا، یہ بڑا سنگین جرم ہے جس کا الزام عمران خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر عائد کیا جارہا ہے۔ عمران خان کہتے ہیں میرا ووٹ بینک ختم ہوجائے تو پارٹی بھی ختم ہوجائے گی، لیکن میرا ووٹ بینک تو میرے ساتھ ہے۔
کیا واقعی؟ لیکن اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کے رہنما ہی عوام کو حملوں پر اکسا رہے تھے اور جن لوگوں نے حملے کیے، وہ پی ٹی آئی کے ہی کارکن تھے تو کیا ہوگا؟ کیا تحریکِ انصاف پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد کردی جائے گی؟
ٹی وی چینلزپر جس طرح پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے جناح ہاؤس اور دیگر عمارات پر حملوں کی ویڈیوز چلائی جاتی ہیں، اس سے تحریکِ انصاف کے خلاف عوام میں بھی غم و غصہ جنم لے سکتا ہے۔ اس طرح جس ووٹ بینک کی عمران خان بات کر رہے ہیں، وہ کسی بھی لمحے صفر ہوسکتا ہے۔
لیکن تحریکِ انصاف کے پاس ایک بڑا آسان سا راستہ ہے کہ وہ ایسے تمام کارکنان اور رہنماؤں سے لاتعلقی کا اظہار کرے جو جناح ہاؤس پر حملے میں ملوث تھے اور پھر اپنا ووٹ بینک دوبارہ حاصل کرلے۔ لیکن خوف اس بات کا ہے کہ یہ سوشل میڈیا کا دور ہے۔
صرف عمران خان کو ہی نہیں بلکہ ان کے مخالفین کو بھی خوفزدہ ہونا چاہئے کہ سچ ہمیشہ نہیں چھپایا جاسکتا۔ جو آج چور بن کر چھپتے پھر رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ آئندہ وقت میں پھر بادشاہ بن جائیں۔ اقتدار کا حصول ہی سب کچھ نہیں ہے۔ ڈرئیے اس وقت سے جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ پھر قائدِ اعظم کی یادگار اشیاء جلانے والوں کو ہر صورت سزا مل کر رہے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں