شاہِ اردن کا دورہ، پاکستانی فوج کی غزہ میں تعیناتی اور اس کے فوائد

تازہ ترین

تازہ ترین

اردن کے شاہ عبداللہ دوم آج 15نومبر کو 2 روزہ سرکاری دورے کیلئے پاکستان پہنچے ہیں۔ پی اے ایف نور خان ائیر بیس پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شاہِ اردن یہ دورہ وزیراعظم کی دعوت پر کر رہے ہیں جو برسوں پر محیط دو طرفہ برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے، جس سے دونوں ممالک کی اسٹرٹیجک سمت مزید مضبوط ہوگی اور ایوانِ صدر میں شاہ عبداللہ دوم کو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا جائے گا۔ شاہ عبداللہ دوم کو وزیراعظم آفس کے دورے کے موقعے پر گارڈ آف آنرز بھی پیش کیا گیا۔

عالمی سطح پر جب دو ممالک کے سربراہان کے مابین ملاقات ہوتی ہے تو خطے کی صورتحال اور عالمی جیو پولیٹیکل معاملات کا زیر غور آنا قدرتی امر ہے جبکہ اس وقت خطے میں جو معاملات جاری و ساری ہیں ، اس میں خاص طور پر غزہ کی صورتحال اہمیت کی حامل ہے اور 17نومبر کو سکیورٹی کونسل میں جو قرارداد منظور ہونے والی ہے اس کی بھی اپنی ایک اہمیت اور افادیت ہے۔ اردن اور پاکستان کے مابین سال 2023 کے دوران تجارتی حجم 46.58ملین ڈالر رہا ہے جبکہ اس ملک میں 16ہزار پاکستانی بھی مقیم ہیں۔ تاریخی اعتبار سے اردن پاکستان کو تسلیم کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر رہا اور 1948 میں ہی دونوں ممالک کے مابین باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

عوام الناس کے باہمی تعلقات کی طرح عالمی سطح پر بھی مختلف ممالک کے تعلقات میں مختلف اتار چڑھاؤ آتے  اور ارتقائی عمل بھی وقوع پذیر ہوتا ہے جیسا کہ اس وقت عالمی برادری کا جھکاؤ گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی جانب ہے ، جس میں تجارتی ، سفارتی اور دفاعی سمیت ہر طر ح کے تعلقات شامل ہیں اور جب ایسے جھکاؤ والے خطے میں کوئی تنازعہ جنم لیتا ہے، جیسا کہ غزہ کا گزشتہ 2 سال سے جاری تنازعہ ہے، تو دنیا اس پر توجہ دینے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

د ی انڈپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور اردن کے تعلقات تاریخی طور پر مضبوط رہے ہیں اور دونوں ممالک سعودی عرب، قطر، مصر، انڈونیشیا، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے سے متعلق مشاورت میں بھی شامل رہے ہیں۔

اگر ہم پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالیں تو پاکستان او آئی سی کا پیٹرن رکن ہے اور ساتھ ہی ساتھ خلیجی ممالک سے بھی پاکستان کے تعلقات مثالی رہے ہیں ، جن میں ان کے ساتھ تجارتی و دفاعی تعلقات بھی شامل ہیں۔

پاک اردن مذہبی و ثقافتی تعلقات کو تجارتی تعلقات میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ و دونوں ممالک کے مابین 46.58ملین ڈالر کاتجارتی حجم انتہائی ناکافی ہے جس میں اضافہ ناگزیر ہے  جبکہ شاہِ اردن کے دورے سے باہمی تعلقات کو فروغ ملے گااور جیسا کہ دونوں ممالک کے مابین ماضی میں بھی بہت سے معاہدوں پر بھی دستخط ہوچکے ہیں جن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، فوجی تربیت، ثقافتی تعلقات کے فروغ سمیت دیگر اہم شعبہ  جات شامل ہیں ، شنید یہ ہے کہ شاہِ اردن کی وزیراعظم شہباز شریف اور صدرِ مملکت سے ہونےوالی ملاقاتوں اور دورہ پاکستان کے دوران مزید تجارتی معاہدوں پر بھی دستخط کیے جائیں گے ۔

اردن کے عام باشندے بھی  پاکستان کے متعلق مثبت رائے رکھتے اور بھائی چارگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ خطے میں اردن سب سے زیادہ 95.5فیصد کی متاثر کن شرحِ خواندگی رکھنے والا ملک ہے۔  پاکستان نے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی  ایگریمنٹ کیا، دنیا کے بہت سے ممالک آپریشن بنیان المرصوص کے بعد پاکستان کی جانب دیکھ رہے ہیں اور دفاعی ایگریمنٹ کی امید کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان عسکری اعتبار سے 70 کی دہائی میں اردن کی مدد کرچکا ہے۔  ایسے میں دونوں ممالک کے مابین کسی دفاعی معاہدے پر دستخط کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہوگی۔

 ماضی میں  شاہِ اردن کا آخری دورہ پاکستان سابق صدر ممنون حسین کی دعوت پر ہوا تھا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے تھے، جن میں سے ایک شہری تحفظ اور دفاع کے شعبے میں تعاون سے متعلق تھی جبکہ دوسری رہائش (ہاؤسنگ) کے شعبے میں تعاون کے بارے میں تھی۔

ماضی قریب میں  پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ اکتوبر کے آخر میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے پاکستانی عسکری قیادت کے علاقائی امن اور سلامتی میں کردار کو سراہا تھا۔آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آرمی چیف سرکاری دورے پر اردن میں تھے اور انہوں نے اردن کے بادشاہ سے ملاقات کی تھی جس میں ولی عہد حسین بن عبداللہ دوم بھی موجود تھے۔

وقت آگیا ہے کہ پاکستان اور اردن اپنے باہمی تعلقات کو فروغ دیتے ہوئے دفاعی و تجارتی میدانوں میں معاہدوں کو یقینی بنائیں اور مختلف دیگر شعبہ جات میں بھی دو طرفہ تعاون کو فروغ دیتے ہوئے خطے کی تجارتی و ثقافتی اور سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستانی افواج کی عنقریب غزہ میں تعیناتی اور سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے بعد پاکستان کو خطے میں مختلف شعبہ جات خصوصاً سفارتی اور تجارتی معاملات کو وسعت دینے میں سہولت حاصل ہو جائے گی۔اوّلاً، غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 73 بلین ڈالر کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے، اور پاکستان اس منصوبے میں اپنے حصے کا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کے ساتھ لبنان میں ہونے والی انفراسٹرکچر کی تباہ کاریوں کے تناظر میں بھی پاکستان، غزہ میں اپنی موجودگی اور اردن سے بہترین تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی، ثقافتی اور دفاعی روابط کو مزید وسعت دے سکتا ہے۔یہ موقع زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہے گا، لہٰذا پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ اپنے اداروں کے باہمی تعاون اور جامع حکمتِ عملی کے تحت فوری طور پر نئے منصوبوں کا آغاز کرے اوران سنہری مواقع  سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

Related Posts