الیکشن میں طویل تاخیر

تازہ ترین

تازہ ترین

موجودہ دور کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے کہ عام انتخابات ممکنہ طور پر اگلے سال ہونگے۔ اب جو بھی نگران وزیراعظم آئے گا اسے چاہئیے کہ وہ عہدے پر فائز ہوتے ہی خود کو طویل قیام کیلئے تیار کرلے۔

حکومت نے 9 اگست کو اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد 90 دن کے اندر انتخابات ہونے چاہیے تھے۔ یکم اگست کو وزیراعظم نے چونکا دینے والا بیان دیا کہ انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے۔ اگرچہ پیپلز پارٹی سمیت کچھ حکمران اتحادیوں نے تازہ مردم شماری کے تحت انتخابات کرانے کی مخالفت کی، لیکن مشترکہ مفادات کی کونسل (CII) نے 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی۔

مردم شماری کی توثیق کے بعد یہ بات یقینی تھی کہ نئی حد بندیوں کی ضرورت کی وجہ سے اس سال عام انتخابات نہیں ہوسکتے۔ حکومت نے پہلے اس بات کی تردید کرنے کے بعد کہ انتخابات میں طویل مدت تک تاخیر ہوگی الیکشن کرانے کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال دی، تاکہ کسی بھی قسم کی تاخیر کا الزام آسانی سے الیکشن کمیشن پر لگایا جاسکے۔

ای سی پی پہلے ہی یہ اعلان کرچکی ہے کہ نئی حلقہ بندیوں پر انتخابات کرانے کیلئے کم از کم چار سے چھ ماہ درکار ہونگے، اِن خدشات کی تصدیق اس وقت ہوئی جب 2 وفاقی وزراء نے مارچ 2024 تک انتخابات میں تاخیر کا اشارہ دیا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ عبوری سیٹ اپ جسے فیصلے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اس وقت تک برقرار رہے گا۔

اس تمام عمل سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابات میں تاخیر کی جارہی ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ حلقہ بندیوں کا عمل نگران حکومت کے تحت کیا جائے گا۔ اگر کئی اہم سیاسی جماعتیں اعتراضات اٹھاتی ہیں تو یہ یقینی طور پر مزید تنازعہ کو ہوا دے گا۔ مردم شماری کے نتائج، حلقہ بندیوں اور وسائل کی تقسیم پر پہلے سے ہی برہمی ہے۔

انتخابات کے حوالے سے ایک ناخوشگوار واقعہ ماضی میں بھی ہوچکا ہے جب مختلف اداروں کے درمیان ہاتھا پائی کی وجہ سے پنجاب اور کے پی اسمبلیوں کے انتخابات نہیں ہوسکے تھے۔ یہ آئین کی سنگین خلاف ورزی تھی جس کیلئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس تاخیر کا کوئی مقصد نہیں ہے جو دو ماہ سے زیادہ ہونی چاہیے لیکن یہ واضح ہے کہ اس میں برابری کے میدان کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ یہ سیاسی بحران کو طول دینے کی بھاری قیمت ادا کرتا ہے جو آخرکار معاشی حالات کو مزید خراب کردے گا۔

Related Posts