پاکستان تین دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ جی ایچ کیو سےفروٹ منڈیوں تک اور صدر وزیراعظم سے لے کر عام شہریوں تک دہشت گردی کا شکار بنے۔ یہاں تک کہ 90ہزار افراد اس دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے، مگر اس لعنت سے چھٹکار ا پانے کے لئے کوئی سنجیدہ حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔
اس دوران دینی وسیاسی اجتماعات، نماز جمعہ اور عام نمازوں، پولیس لائنز مسلح افواج کے بھرتی وٹرینگ سینٹرز کو تسلسل کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
دہشت گردی کے کئی رنگ و روپ ہیں۔ سب سے پہلے انہیں سمجھنے اور درست تشخیص کرنے کی ضرورت ہے اور پھر ایک جامع، ہمہ جہت اور دیرپا پالیسی کے ذریعے بتدریج اس عفریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
دہشت گردی کی پہلی قسم وہ ہے جس کاتذکرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ وہ انتہا پسندانہ مذہبی نقطہ نظر سے منسلک ہے، اس میں طاقت کےزور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر ٹھونسا جاتاہے۔ اس دہشت گردی سے منسلک ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، جند اللہ، لشکر جھنگوی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ صہیونیت، نیوکانز یا عیسائی اور بھارت کی آر ایس ایس کی ہندو مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مغرب میں کیوں ذکر نہیں کیا جاتا؟
دوسری دہشت گردی سیکولر اور آزاد خیال انتہا پسندی، جس میں آزادی اظہار کے نام پر دوسرے مذاہب کی جلیل القدر ہستیوں کی شان میں گستاخی کرکے انتشار پھیلایا جاتا ہے، اس کا شمار بھی سیکولر دہشت گردی میں ہوتاہے۔
تیسری بین الاقوامی دہشت گردی ہے جو چند بڑی طاقتیں دوسرے ملکوں کو غیر مستحکم کرنے، وسائل پر قبضے اور مرضی و منشاء کے مطابق حکومتیں ترتیب دینے کے لئے کر رہی ہیں، یہ طاقتیں اپنے مفادات کے کے لئے دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی اور انہیں مالی امداد بھی فراہم کرتی ہیں۔ دہشت گردی کی یہ صورت شام، پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور فاٹا میں ہونے والی بیرونی مداخلت کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔
دہشت گردی کی چوتھی قسم فرقہ وارانہ ہے۔ اس کے تحت مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک میں باہمی چپقلش کے اثرات پاکستان کے اندرونی حالات پر اثرانداز ہوتے ہیں اور ملک بے امنی کا شکار بن جاتا ہے۔
پانچویں سیاسی دہشت گردی ہے، کئی سیاسی پارٹیوں کے اپنے عسکری ونگز ہیں، سیاسی دہشت گردی بھی ملک میں عدم استحکام کی ذمہ دار ہے۔ اس کے علاوہ بڑے شہروں میں جرائم پیشہ منظم گروہ برسر پیکار ہیں۔ بینکوں، شہری آبادیوں میں ڈاکے، اغواء برائے تاوان اور دوسرے جرائم انہی پیشہ ور گروہوں کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ ان جرائم پیشہ گروہوں اور گلی محلوں و شاہراہوں پر ہونے والی وارداتوں سے بھی عوام میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پایا جاتا ہے۔
پاکستان کے عوام کو بیک وقت دہشت گردی کی ان تمام اقسام کا سامنا ہے۔ کہیں فرقے کی بنیاد پر ان کا خون بہایا جارہا ہے ، تو کہیں روپے پیسے کے لالچ میں ان کے جسموں میں گولیاں اتاری جاتیں ہیں۔ کہیں بڑی طاقتوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو کہیں سیاسی مفادات ان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور اس کے عوام کو جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے، اس کی وجہ ہمارے نظام حکومت کی کمزوری ہے۔ ہماری انتظامیہ و پولیس کا نظام بھی اتنا کمزور ہے کہ جرائم کو روکنا یا ان کا پتہ لگانا تو درکنار بعض اوقات جرائم کی پشت پناہی اور سرپرستی میں بھی یہ خود ملوث پائے جاتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ آبادی کے تناسب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نفری بہت کم ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کو بنیادی ذمہ داریوں سے ہٹا کر صرف خاص شخصیات کے ذاتی تحفظ اور پروٹوکول پر مامور کردیا جاتا ہے اور عوام کو دہشت گردوں کے لئے نرم شکار کے طور پر بے آسرا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ سیاسی بنیادوں پر انتظامی اداروں اور پولیس کی بھرتیاں قیام امن میں رکاوٹ ہیں۔ پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کرکے ایک پیشہ ورانہ تنظیم بنانے کی ضرورت ہے۔
ہماری فوج اور فوج کے ذیلی ادارے جیسے ایف سی، رینجرز، لیویز پاک سرحدوں کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں اور مجرموں کا داخلہ بھی بند کرسکتے ہیں، اسی طرح منظم دستے ریاست کے خلاف سرکشی، بغاوت کرنے والے عناصر کی سرکوبی بھی کرسکتے ہیں، مگر سیاسی، فرقہ وارانہ منظم اور غیر منظم جرائم پیشہ افراد کا محاسبہ کرنے کے لئے انتظامیہ اور پولیس کو ہی کام کرنا پڑے گا، اس کے علاوہ خفیہ پولیس اور سراغ رسانی کے نظام کو فعال اور ہمہ گیر بنانے کی ضرورت ہے۔
جس طرح نادرا کی مدد سے موبائل سمز کی تصدیق کا عمل جاری ہے، اسی طرز پر انتظامی اداروں کو تصدیقی ڈیوائس فراہم کرکے افراد کی نقل و حرکت کو بآسانی مانیٹر کیا جاسکتا ہے۔ مختلف شہروں میں داخلے کے وقت مسافروں کی ویڈیو بنانے کے بجائے شناختی آلات کی مدد سے کمپوٹرائزڈ تصدیق کرنے سے انتظامی اداروں، پولیس کو فوراً یہ خبر ہوسکتی ہے کہ کس کیٹگری سے منسلک کون سا شخص اس وقت شہری حدود میں داخل ہوا ہے اور اس کو کیسے مانیٹر کرنا چاہئے۔
اس کے علاوہ ہمارے ہی نظام میں موجود اگر کچھ کالی بھیڑیں دہشت گردوں کی مدد اور ان کی مجرمانہ کارروائیوں میں شریک ہیں تو ان کو بھی منظرعام پر لاکر نشان عبرت بنانا چاہئے۔ عدلیہ کے نظام کو بھی وقت کی ضرورت سے ہم آہنگ کرنا پڑے گا۔ مجرموں کے مقدمات کی پیروی میں تاخیر نظام کو غیرموثر بنا دیتی ہے۔
دہشت گردی فوری حل ہونے والا مسئلہ نہیں، اس کے لیے فوری، قلیل مدتی اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ قلیل مدتی منصوبہ بندی میں انتظامیہ، پولیس، انٹیلی جنس اور عدالتی نظام کو اصلاحات کے ذریعے جدید اور موثر بنانا ہوگا۔
بدقسمتی سے ہمارا نظام حکومت اتنا غیر مؤثر ہوچکا ہے کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی تو درکنار ان کی بنیادی ضروریات کو سمجھنے کی بھی تکلیف گوارا نہیں کی جاتی۔ عوام میں مایوسی‘ نفرت، انتہاپسندی اور دہشت گردی کو جنم دینے کا باعث بن رہی ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک کا بہت بڑا اثاثہ جوان افرادی قوت ہے۔ ہماری 65 فیصد آبادی کی عمر تیس سال سے کم ہے۔ یہ جوان افرادی قوت تعمیر ی بھی ہوسکتی ہے اور تخریبی قوت بھی بن سکتی ہے۔ جس کے متعلق طویل المدت پلان پر یکسوئی سے عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کا کردار بہت اہم ہے اور فوج کی قربانیاں بھی بے شمار ہیں مگر فوج اکیلے یہ کام نہیں کرسکتی، نہ ہی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ فوج کے کندھوں پر ڈالنا چاہئے، اس سے فوج کی دفاعی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔ مسئلہ کے حل میں اگر 20 فیصد کردار فوج کا ہے تو 80 فیصد ذمہ داری سویلین انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ملک میں مؤثر نظام حکومت نہیں ہوگا، جس میں ہر شعبہ اپنا فعال کردار ادا کرے اس وقت تک دہشت گردی سے چھٹکارا ممکن نہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں