شہر کو بجلی فراہم کرنے والے نجی ادارے کے الیکٹرک جو پہلے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی تھا اور سرکاری ادارہ تھا ۔ جب سے اس ادارے کی نجکاری ہوئی ہے تو اس وقت کی حکومت نے نجکاری کا جو معاہدہ اس کمپنی کے ساتھ کیا تھا وہ 10 سال تک منظر عام پر نہیں آیا تھا ،اس خفیہ معاہدے میں جو بعد میں منظر عام پر لایا گیا بجلی کی ترسیل کی نجی کمپنی کو بجلی کی پیداوار مین جتنا اضافہ کرنا تھا وہ نہیں کیا گیا ، نہ ہی بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی بلکہ اس کے بر عکس بجلی کی فراہمی میں تعطل معمول بن گیا ۔
اس کے علاوہ لوڈ شیڈنگ کراچی کے شہریوں کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے،شہریوں کو احتجاج پر مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ مشتعل ہوں اور سڑکوں پراحتجاج کریں اور ایسا ہوا بھی ہے ، گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے گارڈن ایسٹ میں را ت بھر بجلی کی عدم فراہمی پر گرمی کے مارے افراد مشتعل ہو کر سڑکوں پر آگئے اور انہوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ سڑکیں بھی بلاک کردی تھی ۔
احتجاج تو جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے بھی شہر بھر میں ایک سال سے جاری ہے اور باقائدہ تحریک بھی جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے چلائی گئی، تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو کراچی کا وارث کہنے والی جماعت ایم کیو ایم پاکستان نے صرف اور صرف اخباری بیانات داغے ہیں اور سندھ اسمبلی میں کے الیکٹرک کی زائد بلنگ اور اضافی لوڈ شیڈنگ کے خلاف قرارداد یں منظور کرائیں ہیں مگر میدان عمل میں ایسا احتجاج نہیں کیا جو کبھی ایم کیو ایم کے کسی ایک کارکن کی ہلاکت پر کیا جاتا تھا۔
کراچی بند کرنے کے دعویداروں نے کراچی میں بجلی ،پانی ، سیوریج ، اور کچرا اٹھانے اور نالوں کی عدم صفائی پر احتجاج نہیں کیا ، سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بھی نہیں کی جا رہی ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کو محدود سیاست کی اجازت ملی ہے اور کسی قسم کے عوامی مسائل پر احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔ جب اس جماعت کی جانب سے ہی عوامی مسائل پر احتجاجی مظاہرہ نہ ہو جو اپنے آپ کو کراچی کا وارث کہتی ہے تو پھر عوام کہاں کھڑی ہے اور وہ جماعت کہاں جا کر کھڑی ہوئی ہے یہ آئندہ انتخابات کےنتائج بتائیں گے۔
عوام میں آہستہ آہستہ یہ شعور اجاگر ہو رہا ہے کہ اپنے حقوق کے لیے خود ہی ٹولیوں اور مجمع کی شکل میں میدان عمل میں نکلنا ہوگا ، سپریمکورٹ آف پاکستان نے کے الیکٹرک کے خلاف از خود نوٹس میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا حکم دیا تو کے الیکٹرک نے اس حکم کو تسلیم کرتے ہوئے جتنی غیر اعلانیہ اضافی لوڈشیڈنگ تھی اس کا باقائدہ اعلان کر کے اپنی اضافی لوڈشیڈنگ کو قانونی شکل دے دی کیوں کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اضافی لوڈشیڈنگ کا نہیں بلکہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس لیے سپریم کورٹ کی سادہ مزاجی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جتنی بھی غیر اعلانیہ اضافی لوڈشیڈنگ تھی دوسرے ہی روز سب کا اعلان کردیا تاہم کے الیکٹرک کی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ جو وقت لوڈشیڈنگ کا مقرر کیا جاتا ہے اس کے برعکس غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور اب تو جتنی بھی اضافی لوڈ شیڈنگ کا اعلان کیا گیا تھا اس کے علاوہ بھی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
یہ لوڈ شیڈنگ ہوتی تو کراچی میں ہے مگر اس کے 50 فیصد منفی اثرات ملک بھر پر ملکی معیشت بھی پڑتے ہیں جبکہ کراچی والے تو بھگتنے کے لیے ہیں ہی ، سوشل میڈیا پر بھی یہ بات عام ہے کہ کراچی سب کا مگر کراچی کا کوئی نہیں، چاہے وہ سندھ حکومت ہو یا وفاقی حکومت ہو کراچی کے مسائل حل کرنےمیں کسی کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، کراچی کی بجلی کا م،مسئلہ اگر کوئی حل نہیں کر پا رہا اور کے الیکٹرک اس میں دلچسپی نہیں لے رہی تو پھر سندھ اسمبلی کی اس قرارداد پر فوری عمل ہونا چاہیے کہ کراچی میں ایک کمپنی کے الیکٹرک کی اجارہ داری ختم کر کے دیگر کمپنیوں کو موقع فراہم کیا جانا چاہیےاور انہیں بھی لائسنس فراہم کر کے انہیں کراچی میں بجلی کی فراہمی کی اجازت دے دی جائے ۔
پھر کراچی والوں کی مرضی ہے کہ وہ جس سے چاہیں بجلی حال کریںاور جو کمپنی تنگ کرے اس سے جان چھڑا لیں، بجلی کی فراہمی ، عدمفراہمی، زائد بلنگ ، اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کو روکنے کا زمہ دار ادارہ نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) ہے مگر ان تمام تر مسائل سے بے نیاز نیپرا مجموعی طور پر کے الیکٹرک کو ہی فائدہ پہنچاتی ہے۔ بعض لوگ خصوصاََ سیاسی جماعتیں تو نیپرا پر الزام لگاتی ہیں کہ اس کے افسران کے الیکٹرک سے مبینہ نذرانہ وصول کر کے ان کے حق میں فیصلے دیتے ہیں ۔
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد اور سخت ریمارکس کے بعد نیپرا نے کراچی مقامی ہوٹل میں عوامی کچہری لگائی تھی ، جس میں کے الیکٹرک کے خلاف جب بھی سخت بات عوامی نمائندوں کی طرف سے آنا شروع ہوئی تو وہاں موجودکے الیکٹرک کےایجنٹوں نے کے الیکٹرک کے حق میں بات کی اور ہنگامہ آرائی کر کے ماحول خراب کر دیا اور نیپرا ، افسران مسائل کو حل کرنے کے بجائے وہاں سے چلے گئے، جبکہ اس وقت تک کئی بلڈر ، تاجر ، اور عوامی نمائندے اپنی شکایت پیش کرنے کا انتظار کر رہے تھے۔
نیپرا کا کردار اس وقت ہی مشکوک ہو گیا تھا جس کے الیکٹرک کو بجلی کی بلا جواز قیمت بڑھانے کی اجازت دی گئی ، نیپرا نے کبھی بھی کے الیکٹرک سے بجلی کی پیداوار نہ بڑھانے پر باز پرس نہیں کی ، شہریوں کو اضافی بل بھیجنے اور ان پر بلاجواز چوری کا الزام لگا کر زائد اور اوسط بل بھیجنے کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا ۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ نیپرا کے الیکٹرک کی لوٹ مار میں اس کا سہولت کار بنا ہوا ہے اور کبھی کبھی عوام کو ااطمینان دلانے کے لیے کوئی ایسا فیصلہ بھی کردیا جاتا ہے جس میں کے الیکٹرک کو زمیدار قرار دے کر اس سے جرمانہ ادا کرنے کا بی حکم دیا گیا مگر کے الیکٹرک کو جرائم سے روکنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کیا جاتا، نہ ہی عوام کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے نیپرا نے کوئی ایکشن اب تک لیا ہے ۔
اسی باعث نیپرا کا کردار مشکوک ہوتا جارہا ہے، مذکورہ کچہری میں بعض لوگوں نے شکایت کی کہ شکایات سننے کے لیے نیپرا کے دفاتر کراچی کے ہر ٹاون میں قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو جلد انصاف مل سکے جس پر چیئر مین نیپرا نے بڑی خوبصورتی سے ٹال دیا کہ ہم تو یہاں شکایات کے خاتمے کے لیے آئے ہیں اور آپ شکایات کے لیے ہر ٹاؤن میں نیپرا دفاتر کھولنے کی بات کر رہے ہیں، یہ بات انہوں نے ایسے کہ جیسے عوامی مسائل وہ حل کرنے کے قریب ہوں ۔
ایسی صورت میں نیپرا کا کردار مشکوک نظر آتا ہے جسے شفاف اور بہتر بنانے کے لیے کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے اور کے الیکٹرک کے جرائم کی پردہ پوشی کے بجائے کے الیکٹرک کو لگام دینا ہو گا ۔ ساتھ ساتھ بجلی کی فراہمی کا لائسنس دیگر بجلی کی ترسیل کرنے والی کمپنیز کو دے کر عوام کو ان کی مرضی کی کمپنی سے بجلی خرید نے کا حق دینا ہی نیپرا کی زمہ داریوں میں شامل ہے۔