پی ٹی آئی کا لانگ مارچ

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان جب 2018میں وزیر اعظم بنے، اس کے ساتھ ہی اپوزیشن کی جانب سے احتجاج آہستہ آہستہ زور پکڑنے لگا اور پھر مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو زرداری جیسے رہنما سیاسی کارکنان کی فوج لے کر اسلام آباد جا پہنچے۔

کچھ ایسی ہی صورتحال پاکستان تحریکِ انصاف نے پہلے بھی موجودہ حکومت کے خلاف پیدا کی اور کچھ روز کی مہلت دینے کا کہہ کر دھرنے سے دستبردار ہوئے جو آج کل ایک بار پھر لانگ مارچ کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اچانک وفاقی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیلئے تیاریاں تیز کردیں۔ گزشتہ روز لانگ مارچ پر حتمی مشاورت کیلئے اجلاس بھی بلا لیا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان نے خاص طور پر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ضلعی صدور اور جنرل سیکریٹریز کو اجلاس کیلئے طلب کیا اور تمام عہدیداران کو اہم ذمہ داریاں سونپنے کا عندیہ دیا۔

تاحال لانگ مارچ کی تاریخ سامنے نہ آنے کے باوجود یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ عمران خان پی ڈی ایم اور ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل جماعتیں پی ٹی آئی کو حکومت میں برداشت نہیں کرسکتیں۔

مولانا فضل الرحمان پر الزام ہے کہ وہ مدرسے کے لوگوں کو لے کر اسلام آباد پہنچ گئے، اسی طرح پی ٹی آئی نے بلاول بھٹو زرداری پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ سندھ کے غریب لوگوں کو 2، 2 ہزار دے کر جلسوں میں شرکت کیلئے مجبور کرتے ہیں۔

کچھ اسی طرح کے الزامات پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور تحریکِ انصاف کے قائدین پر بھی لگائے۔

دراصل مفاد پرستی، الزامات اور عدم مفاہمت کی سیاست کے باعث ہی پاکستان اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ آج کل ملک کے ڈیفالٹ کر جانے، دیوالیہ ہونے اور خدانخواستہ سری لنکا جیسی صورتحال پیدا ہونے جیسی افواہیں گرم ہوچکی ہیں۔

ہوتا کچھ یوں ہے کہ پی ٹی آئی حکومت میں آتی ہے تو اسے 5سال پورے نہیں کرنے دئیے جاتے اور شہباز شریف وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔ اب شہباز شریف نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی ہے تو پی ٹی آئی نے عام انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاکستان کوئی چھوٹا موٹا ملک نہیں بلکہ ہماری آبادی 22 کروڑ سے کب کی تجاوز کرچکی ہے۔ یہاں عام انتخابات منعقد کروانے کا مطلب کروڑوں اربوں خرچ کرنا ہے جس کیلئے موجودہ حکومت تیار نہیں۔

دوسری جانب عمران خان لانگ مارچ کا فیصلہ کرچکے ہیں جس کی تاریخ سامنے آنے کے بعد ہی ملک کی معاشی صورتحال بہتر یا بد تر ہونے کے متعلق کوئی پیشگوئی کی جاسکتی ہے کیونکہ مہنگائی سمیت دیگر اہم مسائل کے باعث عوام کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کا ساتھ دے رہی ہے۔ حکومت کو اپنے بچاؤ کیلئے مناسب حکمتِ عملی پر غور کرنا ہوگا۔

Related Posts