وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ڈی چوک ہو یا ریڈ زون، یہ دونوں ہی مقامات سیاسی جماعتوں اور ملک بھر سے آئے ہوئے محروم طبقات کی توجہ کا مرکز ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر ان مقامات پر دھرنا دے دیا تو حکومت کو ہمارے مطالبات تسلیم کرنے ہی پڑیں گے۔
سوال یہ ہے کہ اگر بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور جائز مطالبات کو مکمل یا جزوی طورپر تسلیم کر لیاجائے تو نوبت مظاہروں، دھرنوں، احتجاج یا پھر ٹریفک کی بندش تک کیوں پہنچے؟ تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ اگر حکومت ہر ایک کے مطالبات تسلیم کرنے لگ جائے تو مسائل حل ہونے کی بجائے پھر بڑھیں گے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تکنیکی اعتبار سے حکومت کیلئے تمام افراد کے مطالبات تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال گزشتہ ہفتے سے اسلام آباد میں جاری کسان اتحاد کے دھرنے کی ہے۔ پیر کے روز کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر آج مطالبات نہ مانے تو ریڈ زون کی طرف مارچ کریں گے۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور اسلام آباد پولیس کسان اتحاد کے دھرنے میں شریک مظاہرین کو کنٹرول کرنے میں مصروف ہیں۔ خیابان چوک کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوئی۔ گزشتہ روز ریڈ زون کی طرف جانے والے راستوں کو سیل کردیا گیا۔
اتوار کے روز چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ حکومت مطالبات تسلیم کرے گی اور نوٹیفکیشن جاری ہوجائے گا۔ اگر حکومت بدنیتی کا مظاہرہ کرے گی تو ہم پورا ملک بند کردیں گے۔ ملک بھر سے لاکھوں کسان اسلام آباد آجائیں گے۔
اہم سوال یہ ہے کہ کسانوں کے مطالبات کیا ہیں؟ تو کسان مہنگی کھاد اور بجلی کے بلز کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ وفاقی حکومت سے بڑا مطالبہ بجلی کے یونٹس کی قیمتیں کم کرنے کا ہے جبکہ باقی مطالبات پنجاب حکومت سے ہیں۔
کسان اتحاد بخوبی جانتا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی پنجاب حکومت پر اپنے اثر و رسوخ کے استعمال سے کسانوں کے مطالبات تسلیم کروا سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے ایک موقعے پر عمران خان سے بھی اپیل کی اور کہا کہ مطالبات کی منظوری تک بنی گالہ میں دھرنا دیں گے۔
اگر ہم ملک بھر میں سیلاب کی صورتحال کا پس منظر ذہن میں رکھیں تو ایک جانب جہاں سیلاب سے جانی نقصان ہوا، 1 ہزار 600 سے زائد افراد جاں بحق اور کم و بیش 13 ہزار زخمی ہوئے اور سیکڑوں کلومیٹر پر محیط سڑکیں بشمول 400 پل تباہ ہو گئے وہیں لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔دس لاکھ سے زائد جانور بھی ہلاک ہوگئے۔
غور کیا جائے تو کسان اتحاد میں شامل ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کا تعلق سیلاب زدہ علاقوں سے ہے۔ حکومت کا فرض ہے کہ سیلاب زدگان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے۔ سیلاب کے باعث تباہ حالی کا شکار افراد کا مزید امتحان نہ لیا جائے تو بہتر ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں