پاکستان تحریک انصاف آج وزیر آباد سے اپنا حقیقی آزادی مارچ دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، جہاں قافلے پر فائرنگ کے بعد اسے روک دیا گیا تھا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور سابق وزیر اعظم سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنما زخمی ہو گئے تھے۔
عمران خان نے اسپتال سے اپنی پریس کانفرنس میں منگل کو لانگ مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا، پھر اسے بدھ تک موخر کر دیا گیا اور بعد ازاں مارچ کے دوبارہ آغاز کے لیے جمعرات کا دن مقرر کیا گیا۔
اسلام آباد میں یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ خان صاحب اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کر رہے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنے لانگ مارچ کو پہلے سے طے شدہ شیڈول کے بر خلاف دو دن کے لیے موخر کیا، تاہم اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی ابھی تک کہیں سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔
آج سے پی ٹی آئی اپنے چیف عمران خان کے بغیر لانگ مارچ دوبارہ شروع کر رہی ہے، کیونکہ وزیر آباد حملے کے بعد انہیں معالجین کی جانب سے دو ہفتے مکمل آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کی لانگ مارچ کیلئے نکلنے کی کال کا کیا نتیجہ نکلے گا، عوام عمران خان کے بغیر نکلیں گے یا نہیں؟ نیز یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ ریلی کے شرکاء کی سیکورٹی کا اب کیا ہوگا؟
خان صاحب پارٹی کے لانگ مارچ کی قیادت اب تک خود کرتے رہے ہیں اور ان کی کال پر پہلے بھی احتجاج میں بڑی تعداد میں عوام نکلے تھے لیکن اب یہ اہم سوال ہے کہ اب کیا صورتحال ہوگی جب سابق وزیراعظم مارچ کی قیادت نہیں کریں گے اور اسد عمر کے مطابق دو مارچ ہوں گے۔
خان صاحب نے اعلان کیا ہے کہ وہ لانگ مارچ کے قافلے میں شامل ہوں گے اور دو ہفتے بعد راولپنڈی سے اس کی قیادت کریں گے۔ خان کی لانگ مارچ میں شرکت سے عوام کے حوصلے ضرور بلند ہوں گے لیکن کیا سابق وزیراعظم اپنے عزم پر قائم رہیں گے؟ یا وہ ایک اور یو ٹرن لیں گے اور گھر میں رہنے کو ترجیح دیں اور ویڈیو لنک کے ذریعے قافلے سے خطاب اور قافلے کی آنلائن قیادت ہی جاری رکھیں گے۔
پی ٹی آئی وفاقی حکومت اور تین شخصیات کے خلاف احتجاج کر رہی ہے لیکن تینوں شخصیات کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے میں ناکام رہی۔ یہ صورتحال واضح طور پر وزیراعلیٰ پنجاب کے کردار پر سوال اٹھاتی ہے، جو پی ٹی آئی کی حمایت سے صوبہ چلا رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ خان صاحب نے حقیقی آزادی کے جھنڈے تلے اپنی مہم کے ذریعے ایک بیانیہ بنایا ہے لیکن عوام کے ردعمل کے حوالے سے صورتحال آج واضح ہو گی کہ آیا عوام کی ایک خاصی تعداد کیلئے یہ بیانیہ اب بھی پرکشش ہے یا یہ اپنی کشش کھو چکا ہے؟ یقیناً عمران خان کی غیر موجودی میں مارچ کو کامیاب بنانا پی ٹی آئی رہنماؤں کا بڑا امتحان ہو گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں