دوست ممالک کے وعدے

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کو سعودی عرب اور چین سے 13 بلین ڈالر کے وعدے موصول ہوئے ہیں، جو اسلام آباد کے لیے یقیناً بڑی اطمینان کی بات ہے۔ یہ اعلان وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کیا اور ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے امکانات کو مسترد کر دیا۔

بلاشبہ پاکستان کے دو دیرینہ دوستوں کی طرف سے یہ اضافی مالی امداد اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کی اہمیت ابھی دنیا میں اس قدر بھی کم نہیں ہوئی کہ اس کا اعتبار ہی چھوڑ دیا جائے۔ در حقیقت یہ باوجود بدترین معاشی صورتحال کے پاکستان کی جیو پالیٹکس کی بساط پر ناگزیریت کا نتیجہ ہے۔

دوست ملکوں کی جانب سے یہ امدادی پیکیج وزیر اعظم شہباز شریف کے چین کے تاریخی دورے اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متوقع دورے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

یہ بات قابل تعریف ہے کہ دونوں ممالک کی قیادت پاکستان کے مشکل معاشی حالات کو سمجھتی ہے اور اس سے پاکستان کو نکالنے کے لیے ہمیشہ کی طرح آج بھی آگے ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں کہ چینی صدر شی جن پنگ نے بعض ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد سے دوران ملاقات گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’فکر نہ کریں، ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔‘‘ اسی طرح سعودی شاہی قیادت کا بھی پاکستان پر بڑا احسان ہے جس نے پاکستان کی مالی اعانت کو 6 بلین ڈالر تک بڑھانے اور موخر ادائیگی میں 1.2 بلین ڈالر تک تیل فراہمی کی سہولت کو دوگنا کرنے کا وعدہ کیا۔

مملکت سعودیہ نے گوادر میں 10-12 بلین ڈالر کے پیٹرو کیمیکل ریفائننگ منصوبے کو بحال کرنے کا بھی وعدہ کر رکھا ہے، جو پاکستان کے معاشی اور تزویراتی مستقبل کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے میں بھی بیجنگ کا بہت اہم کردار ہے، چنانچہ 9.8 بلین ڈالر کے ایم ایل ون ریل منصوبے اس کی عمدہ مثال ہے، جس کی تکمیل سی پیک کی کامیابی کا مظہر ہوگا۔ 

دوست ممالک کے یہ وعدے بہت خوش کن اور پاکستان کی معیشت کی بحالی کیلئے بڑی اہمیت کے حامل ہیں، تاہم اصل بات ان وعدوں کی تکمیل ہے۔ یہ وقت بتائے گا کہ ان وعدوں پر کتنا عمل ہوتا ہے اور کتنا نہیں!

Related Posts